ستارؒ، ستارۂ قایش
ستار ابراہیمی ہژیر شہیدؒ انقلاب اسلامی ایران کا درخشاں چہرہ اور دفاع مقدس (ایران عراق کے مابین آٹھ سال تک جاری رہنے والی جنگ) کے افتخارات میں سے ہیں۔
ستار ابراہیمی ہژیر نے ۱۹۵۶ میں ایران کے صوبہ ہمدان کے شہر رزن کے ایک گاؤں قایش میں مراد علی کے گھر آنکھ کھولی۔ وہ گھر کے پہلے فرزند تھے اور اپنے گاؤں میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں جا کر قرآن پڑھتے تھے۔ ان کے والد کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچپن ہی سے دوسرے بچوں سے منفرد تھے اور اپنی عمر سے بڑی اور عجیب و غریب باتیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے: بابا، ہمیں حلال کا لقمہ کھلائیے کیونکہ یہ لقمے خون بن جاتے ہیں اور اگر خون ناپاک ہو جائے تو اس سے ایک برا انسان تیار ہوتا ہے۔
جمہوری اسلامی ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت میں کامیابی سے ہمکنار ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد ستار ابراہیمی ہژیر اسلامی انقلاب کمیٹی میں ملازم ہو گئے۔ اس کے بعد جب امامؒ نے پورے ایران سے رضاکار فوجی (پاسداران) بھرتی کرنے کا حکم دیا تو ستار ابراہیمی بھی اس رضاکار فوج میں بھرتی ہو گئے اور ہائی کورٹ کی حفاظت پر ان کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔ ۱۹۸۱ میں اپنی ڈیوٹی کے دوران ایک منافق گروہ کو گرفتار کرنے کے دوران ان کی طرف سے پھینکے گئے دستی بم کے نتیجے میں ستار ابراہیمی کے ایک ساتھی آغا مسگریان شہید ہو گئے جبکہ وہ خود شدید زخمی ہو گئے اور ان کا ایک گردہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد شہادت تک انہوں نے ساری زندگی ایک ہی گردے کے سہارے گزاری۔
اپنی شہادت تک وہ سپاہ پاسداران میں انصار الحسین ڈویژن بٹالین نمبر 155 کے کمانڈر کے عہدے پر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ ستار ابراہیمی نے جن آپریشنز اور مہمات میں پوری بہادری سے شرکت کی اور ان کی کمانڈ کی وہ درج ذیل ہیں:
۱۱ شہریور آپریشن، ثار اللہ، فتح المبین، بیت المقدس، و الفجر مقدماتی، و الفجر۲، و الفجر۵، والفجر۸، میمک، جزیرہ مجنون، خیبر، کربلا۴ اور کربلا۵۔
ان مہمات کے دوران وہ چھ بار زخمی ہوئے اور تین بار تو ایسے مواقع بھی آئے جب وہ عراقی بعثی فوجیوں کے چنگل میں بری طرح پھنس گئے لیکن پوری بہادری وشجاعت اور اپنی ہوشیاری کو بروئے کار لاتے ہوئے وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی طرح کے ایک گھیراؤ میں ان کے بھائی صمد ابراہیمی بھی شہید ہو گئے جنہیں وہ اپنے ساتھ لانے کی بجائے دوسرے فوجیوں کے ساتھ عراقی سرزمین پر ہی چھوڑ آئے۔ جب گھر والوں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ میں اپنے بھائی کی میت لا سکتا تھا مگر دوسرے فوجی بھی تو میرے بھائی ہیں، میں ان کی ماؤں اور بہنوں کو کیا جواب دیتا۔ مجھے ہرگز گوارا نہ تھا کہ میں اپنے بھائی کی میت کو تو لے آؤں مگر ان فوجیوں کے جسم تپتی ہوئی دھوپ میں پڑے رہیں۔ وہ اپنے بھائی کی رسم قُل سے اگلے ہی روز محاذ پر پہنچ گئے۔
ایک محاصرے کے دوران وہ ۷۲ گھنٹوں تک بغیر کچھ کھائے پیے پانی کے اندر ایک جلی ہوئی کشتی میں پڑے رہے۔ ان تین دنوں میں ان کے پاس فقط تین کھجوریں تھیں۔ سردار حمید حسام نے اپنی کتاب ’’دہلیز انتظار‘‘ میں اس واقعے کو پوری تفصیل سے لکھا ہے۔
امام حسین علیہ السلام اور کربلا سے انہیں عشق تھا۔ وہ امام خمینیؒ کے بہت بڑے عاشق تھے۔ محاذ سے فقط عزاداری کے لیے دس دن کی چھٹی لیتے ورنہ گھر میں بچوں سے ملنے کے لیے آتے تو بہت کم دنوں کے لیے ۔ بعض اوقات تو فقط ایک یا دو دن کے لیے آتے۔ اس مختصر سی مدت میں بھی وہ جہاں گھر والوں کو وقت دیتے وہاں شہداء کے خاندانوں کی خبرگیری بھی کرتے اور ان کی بہت سی ضروریات اپنی جیب سے پوری کرتے۔
ان کی زندگی میں عجیب و غریب قسم کا نظم و ضبط تھا۔ محاذ کی مصروفیات نے انہیں گھر والوں کی ضروریات زندگی سے غافل نہ کیا اور گھر والوں کی محبت انہیں محاذ سے پیچھے نہ ہٹا سکی۔ جہاں وہ محاذ پر اپنی شجاعت و نظم و ضبط کے باعث اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے وہاں گھر والوں کو بھی زندگی کی آسائشیں دینے کے لیے ہر وقت کوشش کرتے رہتے۔
۳ مارچ ۱۹۸۷ کو آپریشن کربلا۵ کے دوران ان کے سر پر دشمن کی گولی لگی جس سے ان کی شہادت واقع ہو گئی۔ ان کی یونٹ کے جوان ان کے جسد کو اٹھا لائے تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ ان کی شجاعت و بہادری کا عراقی فوج پر جو رعب و دبدبہ تھاا ور عراقی فوج کے نزدیک ان کی جو اہمیت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی شہادت کے بعد عراق ریڈیو نے بڑے فخر سے انہیں شہید کرنے کا اعلان کیا۔
قدم خیر محمدی کنعان ان کی اہلیہ تھیں۔ ستار ابراہیمی نے ایسی شریکِ سفر کا انتخاب کیا جو شہادت کے راستے پر چلنے میں ان کی پوری طرح سے مددگار ہو۔ یہ میاں بیوی ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔ کتاب کی سطریں گواہ ہیں کہ ان کا عشق زمینی عشق سے ماوراء تھا۔ ان کے ہجر و وصال کے لمحات اس چیز کی شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے اس عشق کو ہمیشہ عشق خدا کا پیش خیمہ سمجھا۔ کتاب کے ترجمے کے دوران میں خود جس کیفیت سے گزرا اس سے جہاں اس شہید اور اس کی بیوی کی عظمت کا ادراک ہوتا ہے وہاں اس کتاب کی یادداشت نگار محترمہ بہناز ضرابی زادہ کے روان و سلیس اور اثر انگیز قلم کی بھی داد دینا پڑتی ہے۔ قاری کو انگلی پکڑ کر اپنی داستانوں کا ایسا حصہ بنا دینا کہ قاری اپنے آپ کو اس داستان کا ایک کردار سمجھنے لگے، یہ اسلوب محترمہ بہناز ضرابی زادہ کی خاص پہچان ہے۔ شہید ستار ابراہیمی ہژیر کی زوجہ محترمہ قدم خیر محمدی کنعان کی زبان سے ان کی زندگی کے حالات سن کر جس طرح انہوں نے زیبِ قرطاس کیے ہیں وہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔
محترمہ بہناز ضرابی زادہ نے کتاب کے آخر تک انتہائی خوبصورتی سے قاری کے اس تجسس کو برقرار رکھا ہے کہ کتاب تو شہید ستار ابراہیمی ہژیر کے سوانح حیات پر مشتمل ہے مگر یہ صمد کا کردار پوری کتاب پر کیوں چھایا ہوا ہے۔
محترمہ قدم خیر محمدی کنعان اور محترمہ بہناز ضرابی زادہ ’’دخترِ شینا‘‘ کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
مترجم
کتاب کا مقدمہ
میں نے سوچا کہ اس خاتون کی زندگی کو احاطۂ تحریر میں لاؤں گی اور پھر میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا۔
میں نے فون کیا تو تم نے خود ہی اٹھایا تھا۔ مجھے اس بات کی توقع تھی کہ شاید ایک سن رسیدہ خاتون سے بات ہو گی، لیکن مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا؛ تمہاری آواز کس قدر جوان تھی۔ میں نے سوچا شاید تمہاری بیٹی ہو۔ میں نے کہا: ’’میں حاج ستار کی اہلیہ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ تم نے ہنستے ہوئے کہا تھا: ’’میں ہی ہوں!‘‘
میں نے تمہارے حالات سن رکھے تھے۔ حاج ستار کی شہادت کے بعد پانچ چھوٹے بڑے بچوں کو تم نے تن تنہا پال پوس کر بڑا کیا۔ کیسی مشقت کاٹی تھی تم نے، کتنی زحمتوں کا سامنا کیا تھا!
میں نے سوچا کہ یہ وہی ہے۔ میں اس خاتون کی زندگی کو سپردِ قلم کروں گی اور پھر سب انتظامات ہو تے چلے گئے۔
تم نے کہا: ’’مجھ سے انٹرویو اور بات چیت والا کام نہیں ہونے کا۔‘‘ لیکن پھر بھی تم نے پہلی نشست کا وعدہ کر لیا۔اچھا، تو وہ کون سا دن تھا؟ 21 اپریل 2009۔
آلوچوں کا موسم تھا۔ میں تمہارے گھرآتی، تمہارے سامنے بیٹھتی، اپنا ایم پی تھری آن کر دیتی اور تم میرے سامنے اپنے گزرے ہوئے واقعات بیان کرنا شروع کر دیتیں: اپنے والد اور ماں کےبارے میں، اپنے گاؤں میں رہنے والے مخلص دیہاتیوں کے حالات، اپنے بچپن کے دن۔ یہاں تک کہ تم حاج ستار اور جنگ کے حالات تک پہنچ گئیں۔ جنگ اور حاج ستار دونوں ایک دوسرے میں گتھ گئے تھے۔ جنگ کا بوجھ تمہارے چھوٹے سے گھر اور نحیف و کمزور کندھوں پر بھی پڑا، ہاں، تمہارے! یعنی قدم خیر محمدی کنعان۔ لیکن کوئی بھی اسے سمجھ نہ سکا۔
تم کہتی جاتیں اور میں سنتی جاتی۔ تم ہنستیں تو میں بھی ہنس دیتی۔ تم روتیں تو میں بھی رونے لگتی۔ رمضان میں انٹرویوز کا سلسلہ ختم ہوا۔ تم خوش تھیں کہ تم نے پورے روزے رکھ لیے۔ آخر کار تم نے کہا تھا: ’’میں کچھ بھی نہیں بتانا چاہتی تھی؛ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ سب کچھ کہہ چکی ہوں۔‘‘ تم سے زیادہ خوشی مجھے ہو رہی تھی۔ اب میں ان تمام انٹرویوز کو لکھنے بیٹھ گئی۔
ہم نے طے کیا تھا کہ جب تمام واقعات کاغذ پر منتقل ہو جائیں تو میں پورے مسودے کو تمہارے سامنے پڑھوں گی تا کہ اگر کوئی چیز رہ جاتی ہے تو اس کی اصلاح کر لی جائے؛ لیکن جب وہ وقت پہنچا تو سب کچھ درہم برہم ہو گیا۔
جب میں نے سنا تو فوراً تمہارے پاس دوڑی چلی آئی؛ البتہ فقط کاغذوں کا گٹھا لے کر نہیں بلکہ پھلوں کے کچھ مربے اور جُوس کے ڈبے بھی ساتھ لیتی آئی تھی۔ بھلا یہ کس دن کی بات ہے؟یقیناً 31 دسمبر 2009 کی۔ میں نے دیکھا کہ تم بستر سے لگی ہوئی تھیں؛ تم آنکھیں کھول کر مجھے دیکھے جا رہی تھیں مگر پہچان نہیں پا رہی تھیں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں نے کہا: ’’تمہارے قربان جاؤں، قدم خیر! میں ہوں، ضرابی زادہ۔ تمہیں یاد ہے، آلوچوں کا موسم تھا۔ تم مجھے سارے واقعات سناتی جاتیں اور میں آلوچے کھاتی جاتی تھی۔ آلوچوں کی کھٹاس کا بہانہ کر کے میں اپنی آنکھوں کو بند کر لیتی تا کہ تم میرے آنسو نہ دیکھ سکو، کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ تمہارا غم پھر سے تازہ ہو جائے۔‘‘
تم کہتی تھیں: ’’میں اس حوالے سے بہت خوش ہوں کہ اتنے برسوں بعد میری ہی طرح کا کوئی انسان میرے سامنے بیٹھا ہے تا کہ میں اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دوں اور اس عرصے میں گزرنے والی تنہائی کا غم اس کے سامنے بیان کر سکوں۔ وہ غم اور وہ آلام جو ابھی تک میں نے کسی سے نہیں کہے۔‘‘ تم کہتی تھیں: ’’جب میں تم سے حاج ستار کے بارے میں بات کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ میرا دل ان کے لیے کتنا تڑپ رہا ہے۔ میں نے ان کے ساتھ زندگی کے آٹھ سال گزارے؛ لیکن کبھی بھی جی بھر کر انہیں نہیں دیکھا۔ ہم ایک دوسرے کے عاشق تھے لیکن ہمیشہ ایک دوسرے سےدور۔ تم یقین کرو کہ ان آٹھ سالوں میں ہم فقط چند ماہ ہی ایک دوسرے کے پاس رہے۔ حاج ستار میرے شوہر ہوتے ہوئے بھی میرے پاس نہ تھے۔ میرے بچے ہمیشہ انہیں یاد کرتے؛ اس وقت جب وہ زندہ تھے اور اس وقت بھی جب وہ شہید ہو گئے۔ بچے کہتے تھے: ’’ماں، سب بچوں کے باپ ان کے ساتھ سکول میں آتے ہیں، ہمارے بابا کیوں نہیں ہیں؟!‘‘ میں ان سے کہتی: ’’تمہارے پاس ماں جو ہے۔‘‘پانچ بچوں کو اپنے ساتھ لیے خدیجہ کو سکول چھوڑنے جاتی۔ معصومہ کی کلاس بعد از ظہر ہوتی۔ ظہر ہو جاتی تو پانچوں کے پانچوں خدیجہ کو لینے جاتے۔ اسے سکول سے لیتے اور پھر سارے مل کر معصومہ کو سکول پہنچانے چلے جاتے۔ سہ پہر کو پھر یہی قصہ دہرایا جاتا اور پھر اگلے دن اور اس سے اگلے دن اور اس سے بھی اگلے دن۔۔۔‘‘
میں اس وقت آنسو بہا رہی تھی، جب تم برفیلے دنوں اور چھت اور صحن سے برف کی صفائی کا ماجرا میرے سامنے بیان کر رہی تھیں۔
اے میری پیاری دوست! تم نے اپنے بچوں کو جوان کر دیا۔ بیٹے کو بہو لادی۔ بیٹیوں کو بیاہ دیا۔ بس یہ آخری کام رہ گیا تھا جس کے بارے میں تم فکرمند تھیں!
اٹھو، تمہاری داستان ابھی پوری نہیں ہوئی۔ میں نے اپنی ایم پی تھری آن کر لی ہے۔ تم بات کیوں نہیں کر رہیں؟! کیوں ایسے خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھے جا رہی ہو؟!
تمہاری بیٹیاں تمہارے لیے رو رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’’ہمیں تو اب معلوم ہوا کہ ہماری ماں اس عرصے میں مریض تھیں اور ہماری خاطر انہوں نے ہم سے اس بیماری کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ انہیں ڈر تھا کہ ہم پریشان نہ ہو جائیں۔ ماں ہم سے کہتی تھیں کہ تم ابھی زندہ ہو اور دوسرے لوگوں کی طرح جی رہی ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ اپنی پریشانی کی وجہ سے تمہاری خوشیوں کو تہہ و بالا کر دوں۔‘‘ تمہاری بہن کہہ رہی ہے: ’’اس لعنتی بیماری نے تو۔۔۔‘‘
نہیں، نہیں، میں نہیں چاہتی کہ قدم خیر کے علاوہ کوئی اور بات کرے۔ قدم جان! یہ سب نہیں چلے گا۔ تمہیں اپنی زندگی کی داستان پوری کرنی ہے۔ حاج ستار کے بارے میں تو تم نے سب کچھ کہہ ڈالا لیکن اب جب اپنے صبر، شجاعت، حوصلے اور جانثاری کی کہانی سنانے کا وقت آیا تو تم اس طرح بیمار پڑ کر خاموش ہو گئیں۔ مجھے پہچان کیوں نہیں رہیں؟! اٹھو، اس قصے کو پورا ہونا چاہیے۔ اٹھو، میں نے اپنی ایم پی تھری آن کر دی ہے اور تمہارے سامنے بیٹھ چکی ہوں۔ اس طرح خالی خالی نظروں سے مجھے مت دیکھو!
بہناز ضرابی زادہ
موسم گرما / 2011