آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

سلام ہو ابراہیم پر!

جب ہم نے ابراہیم کے بارے میں کچھ کرنے کی ٹھان لی تو اپنی ساری کوششیں صرف کر دیں تا کہ خدا کی مدد سے ایک بہترین کام کو انجام دے سکیں۔

اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کتاب آغا ابراہیم کے کمالات اور بزرگیوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے لیکن اس پر بھی میں نے ابتدا ہی سے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اپنے اس خالص اور پاکیزہ بندے سے آشنا کرایا۔ اسی طرح خدا کا اس بات پر بھی شکر کہ اس نے اس کام  کے لیے میرا انتخاب کیا۔ اس مدت میں مَیں نے اپنی زندگی میں عجیب و غریب قسم کی تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔

دو سال کی محنت سے ساٹھ انٹرویوز، کام سے بھرپور کئی سفر اور کئی بار متن کی ترتیب و تنظیم کے امور انجام پائے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ کتاب کے لیے کوئی ایسا نام منتخب کیا جائے جو ابراہیم کے روح سے ہم آہنگ ہو۔

حاج حسین سے ملا تو ان سے پوچھا: ’’آپ اس کتاب کے لیے کیا نام تجویز کرتے ہیں؟‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’اذان، کیونکہ بہت سے مجاہدین ابراہیم کو اس کی دلنشین اذانوں ہی سے پہچانتے تھے۔‘‘

ایک اور دوست نے شہید ابراہیم حسامی کا جملہ یاد دلایا جو انہوں نے ابراہیم کے لیے کہا تھا: ’’پہلوان عارف۔‘‘

لیکن میں نے اپنے ذہن میں اس کتاب کا نام ’’معجزۂ اذان‘‘ انتخاب کر لیا۔

میں رات کو انہی موضوعات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میز کے ایک کونے میں قرآن مجید رکھا ہوا تھا۔ میری توجہ اس کی طرف گئی۔ قرآن اٹھا کر دل میں کہا: ’’خدایا، یہ کام تیرے صالح اور گمنام بندے کے لیے تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کتاب کے نام کے لیے قرآن سے مشورہ لے لوں۔‘‘

پھر خدا سے کہا: ’’یہاں تک سارا کام تیرے لطف و کرم ہی کی بدولت انجام پایا ہے۔ میں نے نہ تو ابراہیم کو دیکھا تھا، نہ ہی اس وقت میری اتنی عمر تھی کہ محاذ پر جاتا لیکن پھر بھی تو نے اپنی ساری محبت و عنایت ہمارے شامل حال رکھی تا کہ یہ کتاب مکمل ہو سکے۔ خدایا، میں نہ استخارہ کر سکتا ہوں اور نہ ہی آیات کے مفاہیم کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد میں نے بسم اللہ پڑھ کر سورہ حمد کی تلاوت کی اور قرآن کھول کر میز پر رکھ دیا۔ جو صفحہ کھل کر سامنے آیا تھا اسے دقت سے دیکھنے لگا۔ صفحے کی ابتدائی آیات کو دیکھا تو میرے چہرے کا رنگ اڑ گیا،  جسم گرم ہونے لگا اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ صفحے کے شروع میں سورہ صافات کی آیات جلوہ گر تھیں جو کہہ رہی تھیں:

سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ۔ كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ۔[1]

ابراہیم پر سلام ہو۔ ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

شہداء زندہ ہیں
[مصطفیٰ صفار ہرندی وغیرہ]

یہ ہماری بات نہیں ہے بلکہ قرآن کا فرمان ہے کہ شہداء زندہ ہوتے ہیں۔ شہداء اس دنیا کے گواہ ہیں اور اپنی ظاہری زندگی کے زمانے سے زیادہ بہتر دوسرے عالم کی خبریں رکھتے ہیں۔

اس کتاب کے تیاری کے لیےواقعات جمع کرنے کے دوران بارہا دستِ خداوندی کی عنایت اور آغا ابراہیم کی حمایت کا مشاہدہ ہوا۔ کئی بار تو وہ خود آئے اور رہنمائی کی کہ کس کے پاس جا کر انٹرویو کریں۔ لیکن بہت ہی سخت اور مشکل حالات میں ہم آغا ابراہیم اور دوسرے شہداء کے وجود کو محسوس کرتے رہے۔ ان کا یہ حضور ان حادثوں اور فتنوں کے زمانے میں زیادہ شدت سے محسوس ہوا جو جنگ کے بعد والے سالوں میں پیش آئے۔

جولائی 1999؁ کے ایام میں ایک ایسے فتنے نے سر اٹھایا جس سے نظام اسلامی کے دشمنوں کے دل باغ باغ ہو گئے مگر خدا کا ارادہ یہ تھا کہ انجام کار بدبختی اور ذلت فتنہ گروں کا مقدر بنے۔

پہلی رات جس میں یہ فتنہ اٹھا اور جس وقت کسی کو حالات کے خراب ہونے کی خبر  نہیں تھی، میں نے خواب میں کمانڈر شہید محمد بروجردی کو دیکھا۔ انہوں نے مسجد کے سب جوانوں کو جمع کیا اور انہیں تہران کے ایک چوراہے پر لے گئے۔ بالکل اسی طرح جب امام خمینیؒ ایران میں داخل ہوئے تھے اور 12 بہمن کو انتظامات کی ذمہ داری بھی بروجردی ہی کے سر تھی۔

میں بھی مسجد کے دوستوں کے ساتھ برادر بروجردی کے پاس موجود تھا۔ اچانک میری نظر پڑی کہ ابراہیم ہادی، جواد افراسیابی، رضا اور ہمارے دوسرے شہید دوست بھی برادر بروجردی کے پاس کھڑے ہیں۔

میں بہت ہی خوش ہوا۔ ان کی طرف جانا چاہتا تھا تو دیکھا کہ برادر بروجردی کے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے اور حملے کے دنوں کی طرح تہران کے مختلف علاقوں میں ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے اپنے فوجیوں کو تقسیم کر رہے ہیں۔

انہوں نے ابراہیم سمیت اپنے تمام ماتحتوں کو تہران یونیورسٹی کے اطراف میں مختلف جگہوں پر پھیلا دیا۔

اگلی صبح میں نے اس خواب پر کافی غور کیا کہ اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے؟ یہاں تک کہ ہمارے بہت سے دوستوں نے فون کر کے تہران یونیورسٹی کے اطراف میں ہونے والے ہنگاموں اور یونیورسٹی سٹریٹ میں ہونے والے حادثے کی خبر دی۔ میں نے جیسے ہی یہ خبر سنی تو گذشتہ رات میں دیکھا گیا اپنا خواب ذہن میں گھومنے لگا۔

1999؁ کا یہ فتنہ بہت جلد ہی اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ لوگوں نے 14 جولائی کو ایک عوامی اجتماع کے ذریعے تمام فتنہ گروں کے ارادوں پر خط بطلان پھیر دیا۔

اس دن میں نے علی نصراللہ کو دیکھا۔ وہ اپنی خراب حالت کے باوجود اس عوامی مارچ میں شرکت کرنے کے آئے ہوئے تھے۔

میں نے انہیں بتایا: ’’حاج علی، اس سارے فتنے کو شہداء نے ختم کیا ہے۔‘‘

حاج علی نے پلٹ کر مجھے دیکھا اور جواب دیا: ’’کیا ان کے علاوہ بھی کوئی کر سکتا ہے؟ خاطر جمع رکھو، یہ شہداء ہی کا کام تھا۔‘‘

أَیْنَ تَذْھَبُوْنَ  /  تم کہاں جا رہے ہو؟
[خانم رسولی وغیرہ]

دفاع مقدس کے دوران میں اپنے شوہر کے ساتھ محاذ پر گئی۔ میرے شوہر شہید اندرزگو گروپ میں ہوتے تھے اور میں گیلان غرب ہسپتال میں میڈیکل سٹاف میں تھی۔

ابراہیم ہادی کو میں نے پہلی بار وہاں دیکھا تھا۔ ایک دفعہ جب کچھ شہداء کے اجساد ہسپتال میں لائے گئے تو برادر ہادی نے آ کر کہا: ’’آپ خواتین آگے نہ آئیں۔ شہداء کے کچھ پیکر ملے ہیں اور مجھے ان کی شناخت کرنا ہے۔‘‘

اس کے بعد کئی بار ان کی ملکوتی آواز سنی۔ وہ بہت ہی خوبصورت آواز کے مالک تھے۔ جب دعا میں مشغول ہوتے تو سب کی حالت تبدیل ہو جاتی۔

میں نے دیکھا تھا کہ بسیجی، ابراہیم کے عاشق تھے۔ ان کے آس پاس کی جگہ ہمیشہ مجاہدین سے بھری رہتی۔

یہاں تک کہ 1982؁ کے اوائل میں وہ لوگ جنوب چلے گئے اور میں تہران واپس آ گئی۔

کچھ سال کے بعد ایک دفعہ میں 17 شہریور روڈ سے گزر رہی تھی کہ اچانک آغا ابراہیم کی تصویر ایک دیوار پر نظر آئی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ شہید یا مفقود ہو گئے ہیں۔ اس دن کے بعد سے ہر شبِ جمعہ اُن اور دوسرے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دو رکعت نماز پڑھتی ہوں۔ یہاں تک کہ 2009؁ [2]میں ہونے والی شرانگیزی کے ایام میں ایک رات عجیب اتفاق پیش آیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ آغا ابراہیم اپنا زیبا اور نوارنی چہرہ لیے ایک سرسبز ٹیلے پر کھڑے ہیں۔ ان کے پیچھے بہت سے خوبصورت درخت بھی نظر آ رہے ہیں۔ پھر دیکھا کہ ان کے دو دوست جنہیں میں پہچانتی تھی ٹیلے کے نیچے ایک دلدل میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ وہ نکلنا چاہتے ہیں مگر جتنے ہاتھ پاؤں چلاتے ہیں اتنے ہی مزید دھنستے چلے جاتے ہیں۔ ابراہیم نے ان کی طرف منہ کر کے یہ آیت پڑھی: أَينَ تَذْهَبُونَ (کہاں جا رہے ہو؟) لیکن وہ کوئی پرواہ ہی نہیں کرتے۔

میں کافی دن تک اس خواب کے بارے میں سوچتی رہی کہ اس کی کیا تعبیر ہو سکتی تھی؟!

ایک دن میرا بیٹا یونیورسٹی سے واپس آیا تو خوشی خوشی میرے پاس آ کر کہنے لگا: ’’ماں، آپ کے لیے ایک تحفہ لایا ہوں۔‘‘

اس کے بعد اس نے اپنے ہاتھ میں ایک کتاب اٹھاتے ہوئے کہا: ’’شہید ابراہیم ہادی کی کتاب چھپ گئی ہے۔۔۔‘‘

کتاب کی جلد پر ان کی تصویر دیکھتے ہی میرے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ میرا بیٹا ڈر گیا۔ اس نے پوچھا: ’’ماں، کیا ہوا؟ میں تو سوچ رہا تھا کہ آپ خوش ہو جائیں گی۔‘‘

میں نے اسے کہا: ’’اس کتاب کو دیکھو۔۔۔‘‘

میں نے جلد پر بنے ہوئے اسی منظر کو رات خواب میں دیکھا تھا۔ ابراہیم ہادی مجھے اسی حالت میں دکھائی دیے تھے۔

اس کے بعد میں کتاب پڑھنا شروع ہو گئی۔ جب میں سمجھ گئی کہ میرا خواب سچا تھا تو میں نے اپنے شوہر کے توسط سے ابراہیم کے زمانے کے بسیجیوں میں سے ایک کو فون کیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہیں ان افراد کے بارے میں کوئی اطلاع ہے جنہیں میں نے خواب میں دیکھا تھا؟ مختصر یہ کہ تحقیق کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ دو افراد اپنے سابقہ جہاد اور مقام و مرتبے کے باوجود فتنہ گروں کی حمایت کر رہے ہیں اور رہبر انقلاب کے مقابلے میں آن کھڑے ہوئے ہیں۔

اگرچہ خوابوں کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی لیکن میں نے اپنا وظیفہ سمجھا کہ انہیں فون کر کے اپنے خواب سے آگاہ کروں۔ خدا کا شکر کہ وہ خواب کافی موثر ثابت ہوا۔ ابراہیم ایک بار اپنے دوستوں کے لیے ہادی ثابت ہوا۔۔۔

یادگاری مزار
[شہیدؒ کی بہن]

ابراہیم کے بعد میری حالت کافی دگرگوں ہو گئی تھی۔ وہ میری زندگی تھا۔ میں اس سے بہت محبت کرتی تھی۔ وہ صرف بھائی ہی نہیں بلکہ ہمارا استاد اور مربی بھی تھا۔

بارہا وہ مجھ سے حجاب کے حوالے سے گفتگو کیا کرتا اور کہتا تھا: ’’چادر، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی یادگار ہے۔ ایک عورت کا ایمان اسی وقت کامل ہوتا ہے جب وہ حجاب کا خیال رکھے۔‘‘

جب ہم گھر سے باہر یا کسی دعوت میں جانا چاہتیں تو وہ ہمیں نامحرموں کے ساتھ سلوک کے بارے میں خصوصی نصیحتیں کرتا۔ لیکن کبھی بھی امر و نہی نہیں کرتا تھا۔ وہ نصیحت کرنے میں بھی تربیت کے اصولوں کا خیال رکھتا تھا۔

نماز کے حوالے سے بھی میں نے کئی بار اسے دیکھا کہ مذاق ہی مذاق میں نماز فجر کے لیے ہمیں آواز دیتا  اور کہتا: ’’نماز، فقط اول وقت میں اور جماعت کے ساتھ۔‘‘

وہ اپنے دوستوں کو ہمیشہ اذان کہنے کی تلقین کرتا۔ اس کا کہنا تھا: ’’تم جہاں کہیں بھی ہو حتی کہ اگر موٹر سائیکل پر بھی سوار ہو تو جیسے ہی اذان کی آواز سنائی دے، موٹر سائیکل روک کر اونچی آواز میں اذان دو اور اپنے پروردگار کو پکارو۔‘‘

جن دنوں ابراہیم زخمی تھا اور گھر میں آیا ہوا تھا تو ایک طرف تو ہم کافی پریشان تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خوشی بھی تھی۔ پریشانی اس کے زخمی ہونے کی اور خوشی اس بات کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ہمارے ساتھ گزارے گا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کے دوست ایک دفعہ اس سے ملنے آئے تو اس نے اشعار پڑھنا شروع کر دیے۔ میرا خیال ہے کہ وہ اشعار اس نے خود ہی کہے تھے:

اگر عالم همه با ما ستیزند
اگر ساری دنیا ہم سے جنگ پر تُل جائے
اگر شویند با خون پیکرم را
اگر خون میں میرا جسم نہلا دیں
اگر با آتش و خون خو بگیرم
اگر میں آگ اور خون میں لت پت بھی ہو جاؤں

اگر با تیغ ، خونم را بریزند
اگر تلوار سے میرا خون بہا دیں
اگر گیرند از پیکر سرم را
اگر میرے تن سے میرا سر جدا کر دیں
ز خط سرخ رهبر برنگردم
پھر بھی رہبر کی سرخ لکیر سے واپس نہیں پلٹوں گا

میں نےبارہا سن رکھا تھا کہ ابراہیم جب اپنے دوستوں سے اس بات کوسنتا کہ ہم محاذ پر شہید ہونے کے لیے جا رہے ہیں تو اسے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا: ’’ہمیشہ یہی کہو کہ ہم آخری سانس تک اسلام اور انقلاب کی خدمت کریں گے، اگر خدا نے چاہا اور ہمارے امتحان میں سو نمبر پورے ہو گئے تو اس وقت بے شک ہم شہید ہو جائیں۔ لیکن جب تک ہمارے پاس قوت اور ہمت ہے تو ہمیں اسلام کی خاطر مقابلہ کرنا ہے۔‘‘

وہ کہتا تھا کہ اس جسم کے ساتھ ہم اتنا کام کریں،راہ خدا میں اتنا مصروف رہیں کہ جب وہ خود مناسب سمجھے تو ہمارے کاموں پر دستخط کر دے اور ہم شہید ہو جائیں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ شہید ہونے کی لیاقت ہمارے برے کاموں کی وجہ سے ہم سے چھین لی جائے۔

*****

ابراہیم کی شہادت کو کئی سال گزر گئے۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے مفقود ہو جانے کی وجہ سے ہمارے خاندان پر کیا مصیبتیں آن پڑی تھیں۔ ماں تو اس کے گم ہونے سے بالکل ہی ڈھے گئی تھیں۔ یہاں تک کہ 2011؁ میں میں نے سنا کہ قبرستان بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں ایک گمنام شہید کی قبر پر ابراہیم کی یادگار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ابراہیم گمنامی کا عاشق تھا اور اب اس کی یادگار بھی ایک گمنام شہید کی قبر پر بنائی جا رہی تھی۔ حقیقت میں ایک گمنام شہیدکو، ابراہیم کے ذریعے سے خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔ یادگار بن گئی اور میں ایک دن اس کے یادگاری مزار کے کنارے جا کھڑی ہوئی۔

پہلے دن جب میں ابراہیم کی قبر کے پاس کھڑی ہوئی تو ایک دفعہ میرا بدن لرز کر رہ گیا۔ چہرے کا رنگ اڑ گیا اور میں حیرت سے اپنے آس پاس دیکھنے لگی۔ ہمارے کچھ رشتہ داروں کی بھی یہی حالت تھی۔ ہمیں ایک واقعہ یاد آ گیا جو تیس سال پہلے اسی جگہ پر پیش آیا تھا۔

خرمشہر کی آزادی کے لیے کیے جانے والے حملے کے فوراً بعد میری والدہ کےچچازاد حسن سراجیان شہید ہو گئےتھے۔ ان دنوں ابراہیم زخمی تھا اور عصا کے سہارے چلا کرتا تھا، لیکن پھر بھی وہ ان کی شہادت پر بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں آیا ہوا تھا۔

جب حسن کو دفنا چکے تو ابراہیم نے آگے بڑھ کر کہا: ’’بہت خوش قسمت ہو حسن، کیسی اچھی جگہ پر ہو۔ قطعہ 26 مین روڈ کے بالکل پاس۔ جو بھی یہاں سے گزرے گا تمہارے لیے ایک فاتحہ پڑھے گا اور تمہیں یاد کرے گا۔‘‘

اس کے بعد اس نےکہا: ’’مجھے بھی تمہارے پاس ہی آنا چاہیے۔ دعا کرو کہ میں بھی اسی جگہ آ جاؤں۔‘‘

اس کے بعد اس نے اپنا عصا زمین پر مارا حسن کی قبر سے چند قبروں کے فاصلے پر ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔

کچھ سال گزرے تو عین اسی جگہ پر جو ابراہیم نے دکھائی تھی ایک گمنام شہید کو دفن کیا گیا۔ اور اس کے بعد عجیب و غریب حالات میں ابراہیم کا یادگاری مزار بھی اسی جگہ پر بنا دیا گیا جہاں اس کی خواہش تھی۔

آخری بات

خدا کے لطف و عنایات سے کتاب کی اشاعت کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ صرف  2010؁ سے 2013؁ تک کتاب ’’سلام بر ابراہیم‘‘ کے پچاس سے زیادہ ایڈیشن منظر عام پر آ چکے ہیں۔

شاید خود ہمیں بھی اتنی توقع نہیں تھی کہ بغیر تشہیر اور نجی و سرکاری میڈیا کی مدد کے فقط حضرت باری تعالیٰ کی عنایات اور لوگوں کے روابط سے اس کتاب کی ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد  کاپیاں فروخت ہو گئیں، اور وہ بھی اس زمانے میں جب کہ کتابوں کی بازار مندے پڑے ہیں۔

اس عرصے میں ابراہیم کی نئے دوستوں کی طرف سے ہمیں ہزاروں فون آئے اور ہزاروں  ایس ایم ایس اور ایمیلز وصول ہوئیں۔ یہ سب چیزیں اس شہید کی صدقے میں خداوند کریم کی عنایات پر دلالت کرتی تھیں۔

یزد ہسپتال میں سرطان کے مریض کی شہید ہادی کے توسل سے دعا کرنے کے بعد صحت یابی سے لے کر ایک لاابالی جوان کی زندگی میں تبدیلی تک جو اتفاقاً ہی اس شہید سے آشنا ہوا تھا۔ ایک اور جوان جو جہاں بھی خواستگاری کے لیے جاتا، ناامید لوٹ کر آتا۔ جب اس نے خدا کو شہید ہادی کے حق کی قسم دی تو ایسے گھر میں اس کی آخری خواستگاری کامیابی سے ہمکنار ہوئی جہاں شہید ہادی کی تصویر سجی ہوئی تھی اور انہوں نے بھی اس شہید کے توسل سے یہی دعا کی تھی کہ۔۔۔ ان کے علاوہ وہ بہت سے جوان بھی جنہوں نے ابراہیم کے عشق میں پہلوانی کے اکھاڑے میں جانا شروع کر دیا اور خدا کی خوشنودی کو مرکز و محور بناتے ہوئے اپنے تمام کاموں کو منظم کرنے لگے۔

ان سالوں میں کوئی ایسا دن نہ تھا کہ ہم اس کی یاد سے جدا رہیں۔ ہماری زندگی اس کی یاد سے منسلک ہو  کر رہ گئی تھی۔

ابراہیم نے ایک ایسا راستہ ہموار کر دیا تھا کہ خدا کی عنایات کی بدولت تیس سے زیادہ اور کتابیں بھی مرتب ہو گئیں۔

جو راستہ اس نے ہمیں دکھایا تھا اس کے ذریعے دسیوں ایسے گمنام شہیدوں کے چہرے اسلامی معاشرے کے سامنے ابھر کر آئے جو اس سرزمین کے مختلف مقامات پر گوشۂ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے۔

ایسی کتابیں مرتب ہو گئیں جن کے دسیوں ایڈیشن چھپے اور تقسیم ہوئے۔

شاید پہلے دن سے ہمیں اس چیز کی توقع نہیں تھی کہ ایسا ہو گا ، لیکن ہمارا پیارا ابراہیم، اخلاص و بندگی کا نمونہ، دوسرے ممالک اور اقوام کے جوانوں کے لیے بھی عملی اخلاقی کا ایک آئیڈیل بن کر سامنے آیا۔

برصغیر سے ہمارے کچھ دوستان آئے اور انہوں نے اس کتاب کو اردو میں ترجمہ کر کے برصغیر میں شائع کرنے کی اجازت چاہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابراہیم اس خطے کے مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ فروری 2014؁ میں پہلا اردو ترجمہ شائع ہوا۔

اس کے بعد کچھ اور غیر ملکی دوستوں نے انگریزی میں اس کتاب کے ترجمے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا ماننا تھا کہ ابراہیم تمام انسانوں کے لیے اخلاق کا عملی نمونہ ہے۔ خدا کا شکر کہ 2014؁ میں یہ کام بھی انجام پا گیا۔

ہاں، ہم پہلے دن اس کے واقعات کے تلاش میں نکلے تا کہ یہ دیکھ سکیں کہ مرحوم شیخ حسن زاہد کا کلام کس قدر معانی و مفاہیم کا حامل ہے۔ اور خدا کی مدد سے ان کا کلام سچا ثابت ہوا۔

ابراہیم تمام انسانوں کے لیے اخلاق کا عملی نمونہ ہے جس سے وہ صحیح اور صالح زندگی گزارنے کا سبق سیکھنا چاہتے ہیں۔

تَمَّتْ بِالْخَیْرِ


[1] الصافات: 109 تا 111۔

[2] ایران میں ۲۰۰۹؁ میں ہونے والی صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد میر حسین موسوی  (اصلاح پسندوں کے صدارتی امیدوار) نے کافی شرانگیزی پھیلائی تھی، جس کے نتیجے میں تہران میں فسادات پھوٹ پڑے اور عوام کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔