آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

فراق
[عباس ہادی]

ابراہیم کو مفقود ہوئے ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ اس کے دوستوں میں سے کسی ایک کو بھی ایک لمحے کے لیے قرار نہیں تھا۔ ہم جہاں بھی اکٹھے ہوتے ابراہیم ہی کا تذکرہ کرتے اور آنسو بہاتے۔

ایک دن ایک دوست کی عیادت کے لیے ہم لوگ ہسپتال گئے۔ رضا گودینی بھی وہیں تھا۔ میں نے جب رضا کو دیکھا تو ایسا لگا کہ اس کے دل کا زخم تازہ ہو گیا ہے۔ وہ اونچی اونچی آواز میں رونے لگا۔ پھر کہا: ’’ابراہیم کے بغیر یہ دنیا میرے لیے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ یقین کرو کہ میں (آنے والی)پہلی ہی مہم میں شہید ہو جاؤں گا۔‘‘

ایک اور دوست نے کہا: ’’ہم نہیں سمجھ سکے کہ ابراہیم کون تھا۔ وہ خدا کا خالص بندہ تھا۔ وہ ہمارے درمیان آیا اور ہم نے اس کے ساتھ زندگی گزاری تا کہ ہم سمجھ سکیں کہ خدا کا بندہ ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔‘‘

ایک اور گویا ہوا: ’’ابراہیم مکمل معنوں میں ایک پہلوان تھا، ایک عارف پہلوان۔‘‘

*****

ابراہیم کی شہادت کو پانچ ماہ گزر گئے۔ ماں جب بھی پوچھتیں کہ ابراہیم چھٹی پر کیوں نہیں آتا تو ہم مختلف بہانوں سے بات کا رُخ بدل دیتے۔ ہم کہتے: ’’ابھی جنگ ہو رہی ہے لہٰذا ابھی وہ نہیں آ سکتا۔‘‘ مختصر  یہ کہ ہم ہر روز کوئی  نہ کوئی بہانہ بنا لیتے۔ یہاں تک کہ ایک دن ماں کمرے میں آ گئیں اور ابراہیم کی تصویر کے سامنے بیٹھ کر رونے لگیں۔ میں نے آگے بڑھ کر پوچھا: ’’ماں، کیا ہوا؟!‘‘

کہنے لگیں: ’’میں ابراہیم کی خوشبو سونگھ رہی ہوں۔ ابرہیم اس وقت اس کمرے میں ہے، اسی جگہ پر۔۔۔‘‘

جب ان کا گریہ کم ہوا تو کہا: ’’مجھے یقین ہے کہ ابراہیم شہید ہو گیا ہے۔ آخری دفعہ وہ کافی مختلف انداز میں گیا تھا۔ میں نے بہتیرا کہا تھا کہ آؤ خواستگاری کے لیے چلتے ہیں۔ میں تمہیں دولہا بنانا چاہتی ہوں لیکن وہ کہتا تھا: ’’نہیں ماں، مجھے یقین ہے کہ میں لوٹ کر نہیں آؤں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی روتی ہوئی آنکھ کمرے کے کونے میں پڑی میرا انتظار کرتی رہے۔‘‘

کچھ دن گزرے تو ماں دوبارہ ابراہیم کی تصویر کے سامنے کھڑی ہو کر رونے لگیں۔ ہم بالآخر مجبور ہو گئے کہ ماموں کو لے آئیں تا کہ وہ ماں کو ساری حقیقت سے آگاہ کر دیں۔

اس دن ماں کی حالت کافی بگڑ گئی۔ ان کے دل کا اضطراب اس قدر زیادہ ہو گیا کہ انہیں ہسپتال  کے سی سی یو میں داخل کروانا پڑا۔

سالوں بعد تک جب بھی ماں کو بہشت زہرا سلام اللہ علیہا لے کر جاتے تو وہ قبرستان کے قطعہ 44 میں جانا زیادہ پسند کرتیں۔ ابراہیم کی یاد میں گمنام شہیدوں کی قبروں کے پاس بیٹھ جاتیں۔ ہرچند کہ رونا ان کے لیے سخت نقصان دہ تھا مگر وہ وہاں اپنا دل کھول کر رکھ دیتیں اور گمنام شہدا سے اپنے دل کی باتیں کرتیں۔

تلاش
[سعید قاسمی اور شہیدؒ کی بہن]

1990؁ میں قیدی آزاد ہو کر اپنے وطن واپس آ گئے۔ بعض لوگ ابھی تک ابراہیم کی واپسی کے منتظر تھے (اگرچہ آزاد ہونے والوں میں ابراہیم ہادی نام کے دو افراد موجود بھی تھے،) مگر سب دوست مایوس ہو چکے تھے۔

اس کے ایک سال بعد ابراہیم کے کچھ دوست جنگی علاقے دیکھنے کے لیے فکہ کے لیے عازم سفر ہوئے۔ اس سفر پر جانے والے دوستوں کو کچھ شہداء کے جسد مل گئے جنہیں انہوں نے تہران منتقل کر دیا۔

کچھ دن بعد ہم شہدا کے خاندانوں سے ملاقات کے لیے گئے۔ ایک شہید کی ماں مجھ سے کہنے لگیں: ’’تم جانتے ہو کہ میرا بیٹا کہاں شہید ہوا؟!‘‘

میں نے بتایا: ’’جی، ہم اکٹھے ہی تھے۔‘‘

انہوں نے پوچھا: ’’اب جبکہ جنگ ختم ہو چکی ہے تو کیا تم اس کے جسد کو ڈھونڈ کر لا سکتے ہو؟‘‘

اس ماں کے ان الفاظ نے مجھے سوچوں میں غرق کر دیا۔ اگلے دن میں نے کچھ افسران اور جنگ سےمتاثرہ لوگوں سے رابطہ کیا۔ طے پایا کہ ہم لوگ اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے کے لیے جائیں گے۔ اسی غرض سے کچھ دن بعد ہم چند دوست مل کر فکہ چلے گئے۔

ایک دفعہ پھر تلاش کرنے کے بعد تقریباً تین سو شہداء کے جسد ڈھونڈنے میں ہم کامیاب  ہو گئے جن میں اس ماں کا بیٹا بھی شامل تھا۔

اس کے بعد ’’تلاشِ شہداء‘‘ نامی ایک کمیٹی وجود میں آ گئی جو مختلف جنگی محاذوں پر جا کر شہداء کو ڈھونڈنے میں مشغول ہو گئی۔

فکہ کے مظلوم شہداء سے عشق اس چیز کا باعث بنا کہ مشکلات اور شدید رکاوٹوں کے باوجود بھی وہ لوگ اپنے کام میں زیادہ سے زیادہ توسیع کریں۔ اس کمیٹی کے بہت سے دوست جو ابراہیم کو جانتے تھے، وہ کہتے تھے: ’’تلاشِ شہداء کمیٹی کا بانی دراصل ابراہیم ہادی ہی تھا۔ وہ ہمیشہ حملوں کے بعد شہداء کے پیکر تلاش کرنے کے لیے نکل جایا کرتا تھا۔‘‘

جنگ ختم ہونے کے پانچ سال بعد بالآخر کافی محنت اور مشقت سے کمیل خندق میں تلاش کا کام شروع ہو گیا۔ یکے بعد دیگرے شہداء کے جسد مل رہے تھے۔ خندق کے آخر میں کافی شہداء کے جسد اکٹھے ہی اک دوسرے کے پاس پڑے ملے تھے۔ ان کے جسد آسانی کے ساتھ وہاں سے نکال لیے گئے مگر ابراہیم کا ابھی تک کوئی پتا نہیں چل رہا تھا۔

علی محمود ’’تلاشِ شہداء‘‘کمیٹی کا انچارج تھا۔ وہ معرکہ والفجر ابتدائی میں پانچ روز تک کمیل خندق میں دشمن کے محاصرے میں گھِرا رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ابراہیم کا مرہونِ احسان سمجھتا تھا اور کہتا تھا: ’’فکہ کی غربت و مصیبت کوئی نہیں جانتا۔ ہمارے کتنے ہی مظلوم دوست اس خندق میں موجود ہیں۔ فکہ کی مٹی سے کربلا کی غربت کی خوشبو آتی ہے۔‘‘

ایک روز تلاش کے دوران ایک شہید کا پیکر ملا۔ اس کے ساتھ موجود اس کے سامان میں ایک یادداشتی ڈائری ملی جو اتنے سال گزرنے کے بعد بھی پڑھنے کے قابل تھی۔ اس ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا تھا: ’’آج محاصرے میں گھِرے ہوئے ہمیں پانچواں دن ہے۔ ہم نے اپنا راشن آپس میں تقسیم کر لیا ہے۔ شہداء، خندق کے آخر میں ایک دوسرے کے پاس پڑے ہیں۔ یہ شہداء اب پیاسے نہیں رہے۔ اے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزندؑ، آپ کے پیاسے ہونٹوں پر قربان۔‘‘

اس ڈائری کے پڑھنے سے سب دوست غم سے نڈھال ہو گئے، لیکن پھر بھی انہوں  نے تلاش جاری رکھی۔ بہت سے شہداء کے پیکر ملنے کے بعد بھی ابراہیم کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں مل رہا تھا۔

کچھ عرصے بعد ابراہیم کا ایک دوست فکہ آیا۔ اس نے اپنے واقعات کے ضمن میں یہ بات بھی کہی: ’’اب ابراہیم کی زیادہ تلاش چھوڑ دو؟!‘‘

وہ گمنام رہنا چاہتا تھا۔ اب بعید ہے کہ تمہیں مل سکے۔ ابراہیم فکہ ہی میں رہ گیا ہے تا کہ راہیانِ نور کے لیے ایک خورشید بنا رہے۔

*****

نوے کی دہائی کے آخر میں ایک دفعہ پھر فکہ میں تلاش کا کام شروع کیا گیا۔ اس بار بھی کچھ شہداء کے جسد مل گئے، لیکن ان میں سے اکثر تقریباً گمنام ہی تھے۔

اسی تلاش کے دوران علی محمود وند اور کچھ عرصے بعد مجید پازوکی بھی شہداء سے جا ملے۔

گمنام شہداء کے پیکر تلاش شہداء کمیٹی کے مرکز میں پہنچا دیے گئے۔ طے پایا کہ ایام فاطمیہ[1] میں پورے ملک کے اندر ایک بڑی شاندار تشییع جنازہ کے بعد ہر پانچ شہیدوں کو ایران کے مختلف مقامات پر دفن کیا جائے۔

جس رات گمنام شہداء کو تہران میں دفنایا جانا تھا، میں نے ابراہیم کو خواب میں دیکھا۔ وہ موٹر سائیکل پر میرے گھر کے سامنے کھڑا تھا اور کافی جوش و خروش سے کہہ رہا تھا: ’’ہم بھی واپس آ گئے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ ہاتھ ہلانے لگا۔

دوبارہ خواب میں شہداء کی تشییع جنازہ کو دیکھا کہ ٹرک سے ایک شہید کا تابوت ہلا اور ابراہیم اس میں سے باہر آیا۔ وہی خوبصورت چہرہ اور وہی ہمیشہ کی مسکراہٹ۔

اگلے روز ملک کے قدردان لوگ کافی جوش و خروش سے شہداء کے استقبال کے لیے جمع ہوئے۔ کافی شان و شوکت سے جنازے اٹھائے گئے۔ اس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں تدفین کے لیے بھیج دیے گئے۔

میرا یہی خیال ہے کہ ابراہیم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام میں گمنام شہداء کے ساتھ ہی واپس آ گیا تھا تا کہ ہمارے چہروں پر پڑے غفلت کے غبار کو صاف کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی کسی گمنام شہید کے مزار پر جاتا ہوں تو ابراہیم کی یاد ستانے لگتی ہے اور پھر اس ملت کے ان ابراہیموں کے لیے فاتحہ خوانی کرتا ہوں۔

حضور

ہمارے محلے میں جو کام انجام پائے ان میں سے ایک اہم کام شہید محلاتی ہائی وے پر موجود پل کے نیچے شہید ابراہیم کے چہرے کی مصوری تھی۔ اس کام کے آخری دنوں میں مَیں سید کےپاس گیا اور ان سے کہا: ’’آغا سید، میں نے سنا ہے شہید ہادی کے چہرے کی مصوری آپ نے کی ہے؟ کیا یہ بات درست ہے؟‘‘

سید نے کہا: ’’ہاں، مگر کیوں؟‘‘

میں نے کہا: ’’کچھ بھی نہیں، فقط آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس تصویر کے ذریعے محسوس ہوتا ہے کہ آغا ابراہیم ابھی تک ہمارے محلے میں موجود ہیں۔‘‘

سید کہنے لگے: ’’میں ابراہیم کو نہیں جانتا۔ اس کی چہرے کی تصویر بنانے کے عوض مجھے کچھ چاہیے بھی نہیں تھا، لیکن اس کام کو انجام دینے کے بعد خدا نے میری زندگی میں اتنی بے حساب برکت دی ہے کہ تمہیں بتا نہیں سکتا۔ میں نے اس تصویر کے بعد بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے۔‘‘

میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’مثلاً کیا؟‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’جب میں نے یہ تصویر بنائی اور’’جلوہ گاہ شہداء‘‘ نمائش کا انعقاد کیا گیا تو ایک شبِ جمعہ کو ایک خاتون میرے پاس آئی اور کہنے لگی: ’’آغا، یہ مٹھائی میں نے اس شہید کے لیے بنائی ہے، آپ اسے یہیں تقسیم کر دیں۔‘‘ میں نے سوچا کہ شاید یہ خاتون اس شہید کی کوئی رشتہ دار ہے، اسی لیے  میں پوچھ لیا: ’’آپ شہید ہادی کو جانتی ہیں؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ اس نے میری حیرت دیکھی تو مزید بتانے لگی: ’’ہمارا گھر یہیں پاس ہی ہے۔ میں زندگی میں کافی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ کچھ دن پہلے جب آپ اس تصویر کے کام میں مصروف تھے تو میں یہاں سے گزر رہی تھی۔ میں نے سوچا: ’’خدایا، اگر یہ شہید تیرے نزدیک کوئی مقام رکھتا ہے تو  اس کے حق کے صدقے میں میری مشکلات کو حل فرما۔ میں تیرے ساتھ عہد کرتی ہوں کہ نماز کو اول وقت میں پڑھوں گی۔ اس کے بعد میں نے اس شہید کے لیے فاتحہ پڑھی، جس کا نام میں نہیں جانتی تھی۔ آپ یقین کریں کہ میری مشکل فوراً حل ہو گئی۔ اب میں اس شہید کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں۔‘‘

سید نے اپنی بات جاری رکھی: ’’پچھلے سال میرے کام کی صورت حال بھی کافی خراب تھی۔ میں بہت سے مشکلات میں گھر گیا تھا۔ میں شہید کی تصویر کے سامنے سے گزرا تو دیکھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تصویر زرد اور خراب ہونے لگی ہے۔ میں نے پاڑ کا انتظام کیا اور رنگ لے کر شہید کی تصویر کو درست کرنا شروع کر دیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ جیسے ہی تصویر کا کام ختم ہوا تو مجھے ایک بہت بڑا پروجیکٹ مل گیا جس کی وجہ سے میری بہت سی مالی مشکلات دور ہو گئیں۔‘‘

سید نے اپنی بات جاری رکھی: ’’آغا، یہ شہداء خدا کے نزدیک بہت اعلیٰ مقام کے حامل ہیں۔ ہم نے ابھی تک انہیں پہچانا ہی نہیں ہے۔ آپ ان کے لیے چھوٹے سے چھوٹا کام بھی انجام دیں گے تو خدا اس سے کئی گنا زیادہ آپ کو عطا کرے گا۔‘‘

*****

اس نے مسجد میں آ کر مجھ سے ابراہیم کے دوستوں کے بارے میں پوچھا تھا۔ وہ ان سے شہید کے بارے میں کچھ سوالات کرنا چاہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: ’’تمہیں کام کیا ہے؟ شاید میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں۔‘‘

وہ کہنے لگا: ’’کچھ نہیں، میں فقط اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ یہ شہید ہادی کون ہے اور اس کی قبر کہاں پر ہے؟‘‘

میں سوچ میں پڑ گیا کہ اسے کیا جواب دوں؟ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اسے بتایا: ’’ابراہیم ہادی ایک گمنام شہید ہے اور دوسرے گمنام شہیدوں کی طرف اس کی بھی قبر نہیں ہے۔ لیکن تم اس شہید کا کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘

وہ کافی رنجیدہ ہو گیا اور کہنے لگا: ’’ہمارا گھر شہید ہادی کی تصویر والی جگہ کے پاس ہی ہے۔ میری ایک چھوٹی بیٹی ہے جو ہر روز شہید ہادی کی تصویر کے سامنے سے گزر کر سکول جاتی ہے۔ ایک دن وہ مجھ سے پوچھنے لگی: بابا، یہ کون ہیں؟ تو میں نے اسے بتایا کہ یہ دشمن کے ساتھ جنگ کرنے گئے تھے اور انہوں نےدشمن کو ہم پر حملہ نہیں کرنے دیا یہاں تک کہ خود شہید ہو گئے۔‘‘ میری بیٹی نے جب سے یہ بات سنی ہے تو جب بھی شہید کی تصویر کے سامنے سے گزرتی ہے تو اسے سلام کرتی ہے۔ کچھ دن پہلے میری بیٹی نے رات کو خواب میں اس شہید کو دیکھا۔ شہید ہادی میری بیٹی سے کہتا ہے: ’’بیٹی، تم جب بھی مجھے سلام کرتی ہو تو میں بھی تمہیں جواب دیتا ہوں اور تمہارے لیے دعا بھی کرتا ہوں کہ تم اس چھوٹی سی عمر میں بھی اپنے پردے کا کتنا خیال رکھتی ہو۔‘‘ اب میری بیٹی مجھ سے پوچھتی ہے کہ یہ شہید ہادی کون ہیں اور ان کی قبر کہاں ہے؟‘‘

میرے آنسو نکل آئے۔ کہنے کا کچھ بھی نہیں تھا میرے پاس۔ فقط اتنا کہا: ’’اپنی بیٹی سے کہو کہ اگر تم چاہتی ہو کہ آغا ابراہیم ہمیشہ تمہارے لیے دعا کرتے رہیں تو تم اپنی نماز اور پردے کا خاص خیال رکھو۔‘‘ اس کے بعد میں نے اسے ابراہیم کے کچھ اور واقعات بھی سنائے۔

*****

مجھے یاد آیا کہ ایک بورڈ پر لکھا تھا: ’’شہداء سے ارتباط اور دوستی دوطرفہ ہے۔ اگر آپ ان کے ساتھ ہیں تو وہ بھی آپ کے ساتھ رہیں گے۔‘‘ اس ایک جملے میں بہت سی باتیں پوشیدہ تھیں۔

مارچ 2009؁، نوروز کے ایام تھے۔ کتاب کی تکمیل کے لیے ہم گیلان غرب کے لیے عازم سفر ہوئے۔ راستے میں شہر ایوان میں پہنچے تو سورج غروب ہونے کو تھا اور میں صبح سے ڈرائیونگ وغیرہ کی وجہ سے کافی تھک بھی چکا تھا۔ شہر میں ہمیں کوئی سرائے  بھی نہیں مل رہی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں کہا: ’’آغا ابرام، ہم تمہارے ہی کے کام کے سلسلے میں آئے ہوئے ہیں۔ خود ہی ہماری مدد کرو۔‘‘ اسی وقت مغرب کی اذان بلند ہوئی تو میں نے سوچا کہ اگر ابراہیم اس وقت یہاں ہوتا تو حتماً نماز کے لیے مسجد میں چلا جاتا۔ یہی سوچ کر ہم بھی مسجد کی طرف چل پڑے اور نماز جماعت کے ساتھ پڑھی۔

نماز جماعت ختم ہوئی تو لگ بھگ پچاس سال کے ایک شخص نے آگے بڑھ کر ادب سے ہمیں سلام کیا۔

انہوں نے پوچھا: ’’آپ لوگ تہران سے آئے ہیں؟‘‘

میں نے تعجب سے کہا: ’’جی ہاں، مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’میں آپ کی گاڑی کے نمبر سے سمجھ گیا تھا۔‘‘

اس کے بعد مزید کہا: ’’ہمارا گھر نزدیک ہی ہے۔ آپ کی خدمت کے لیے سب کچھ تیار ہے۔ آپ تشریف لائیں گے؟‘‘

میں نے کہا: ’’آپ کا بہت شکریہ، لیکن ہمیں جانا ہے۔‘‘

وہ کہنے لگے: ’’آج رات آرام کر لیجیے اور کل چلے جائیے۔‘‘

میں قبول نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ مسجد کا خادم ہمارے پاس آ کر کہنے لگا: ’’یہ آغا محمدی ہیں، یہاں کی بلدیہ کے ایک بڑے افسر۔ آپ ان کی دعوت قبول کر لیں۔‘‘

میں اس قدر تھک چکا تھا کہ ناچار ان کی دعوت قبول کرنا پڑی۔ ہم وہاں سے اکٹھے ہی ان کے گھر چلے گئے۔

انہوں نے بہت زیادہ اہتمام کے ساتھ رات کا کھانا کھلایا اور ہماری بہت اچھی مہمان نوازی کی۔ صبح ناشتے کے بعد رخصت ہونے لگے تو آغا محمدی نے  پوچھا: ’’کیا میں آپ کے، اس شہر میں آنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟‘‘

میں نے کہا: ’’میں ایک شہید کی زندگی پر کتاب لکھ رہا ہوں، اسی کی تکمیل کے لیے ہم گیلان غرب آئے ہیں۔‘‘

انہوں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’میں گیلان غرب ہی کا رہنے والا ہوں۔ آپ کس شہید کی بات کر رہے ہیں؟‘‘

میں نے کہا: ’’آپ اسے نہیں جانتے۔ وہ تہران سے آیا تھا۔‘‘ اس کے بعد میں نے بیگ سے ایک تصویر نکال کر انہیں دکھائی۔

وہ حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے: ’’یہ تو آغا ابراہیم ہیں۔ میں اور میرے والد صاحب شہید ہادی کے ماتحت تھے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہونے والے حملوں اور جاسوسی کے دوران ہم اکٹھے ہی رہے تھے۔‘‘

میں مبہوت ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کہوں۔ میں دلگرفتہ سا ہو گیا۔ کل رات سے ہم بہترین مہمان نوازی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ ہمارے میزبان بھی ابراہیم کے دوست نکلے۔

آغا ابراہیم، تمہارا بہت شکریہ۔ ہم نے تمہاری یاد میں نماز کو اول وقت میں پڑھا اور تم نے بھی۔۔۔


[1] جمادی الثانی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام۔