آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

فکہ، آخری وعدہ گاہ
[علی نصر اللہ]

آدھی رات کے وقت ہم مسجد میں آئے۔ ابراہیم نے سب دوستوں سے الوداع کیا۔ اس کے بعد گھر چلا گیا۔ ماں اور گھر والوں سے بھی رخصت لی اور ماں سے درخواست کی کہ اس کی شہادت کی دعا کریں۔ اگلے دن علی الصبح ہم محاذ پر چلے گئے۔

ابراہیم کم ہی باتیں کیا کرتا تھا۔ زیادہ تر ذکر یا تلاوت میں مصروف رہتا۔

ہم فکہ کے شمال میں واقع ڈویژن کے کیمپ میں پہنچ گئے۔ بٹالینز حملے کی مشقیں کر رہی تھیں۔ دوستوں کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ علی واپس آ گیا ہے تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔ سب اس سے ملنے کےلیے آنے لگے۔ خیمہ ایک لمحے کے لیے بھی خالی نہ ہوتا تھا۔

حاج حسین بھی آ گئے اور ابراہیم کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔سلام و احوال پرسی کے بعد ابراہیم نے پوچھا: ’’حاج حسین، سب جوان مشقیں کر رہے ہیں، کوئی نیا حملہ ہونے والا ہے کیا؟!‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’کل ہمیں حملہ کرنا ہے۔ اگر تم بھی ہمارے ساتھ چلتے ہو تو ہمیں بہت خوشی ہو گی۔‘‘

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’اس نئے حملے میں انٹیلی جنس کے جوانوں کو بٹالینز میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ ہر بٹالین کے پاس جاسوسی اور حملے کے ایک ایک دو دو انچارج ہونا ضروری ہیں۔‘‘

اس کے بعد انہوں نے ایک فہرست ابراہیم کے سامنے رکھتے ہوئے کہا: ’’ان جوانوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘

ابراہیم نے فہرست دیکھ اور ایک ایک شخص کے بارے میں اپنی رائے دی۔ اس کے بعد پوچھا: ’’بہت اچھے، اب آپ یہ بتائیں کہ نفری کی ترتیب و تنظیم کی کیا صورت حال ہے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’سب جوانوں کو مختلف پلٹنوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ چند بٹالینز مل کر ایک پلٹن تشکیل دیتی ہیں۔ حاج ہمت پلٹن ۱۱ قدر کے انچارج بنائے گئے ہیں۔ بٹالین ۲۷ بھی اسی پلٹن کے انڈر ہو گی۔ پلٹن ۱۱ قدر کے لیے جاسوسی کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔‘‘

اسی روز سہ پہر کے وقت ابراہیم نے مہندی لگائی۔ اپنے سر کے بال تراشے اور خط بنایا۔ اس کا خوبصورت چہرہ اور زیادہ ملکوتی ہو گیا تھا۔

غروب کے بعد ہم اس محاذ کے مختلف ویو پوائنٹس پر گئے۔ ابراہیم مخصوص دوربین سے حملے والے علاقے کا مشاہدہ کرنے اور کاغذ پر کچھ اہم نکات لکھنے لگا۔

کچھ اور دوست بھی اس ویو پوائنٹ پر آ گئے۔ وہ مسلسل کہے جا رہے تھے: ’’آغا، جلدی کرو۔ ہمیں بھی دیکھنا ہے۔‘‘

ابراہیم غصے میں آ کر چلانے لگا: ’’کیا یہ سینما ہے؟ ہمیں کل کے لیے کوئی راہِ حل تلاش کرنا ہے۔ اپنے جانے کا راستہ مشخص کرنا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ غصے میں آ کر وہاں سے چلا گیا۔

وہ کہہ رہا تھا: ’’میرا دل بہت پریشان ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’کچھ بھی نہیں ہے۔ پریشان مت ہو۔‘‘

ہم پلٹن ۱۱ قدر کے ایک کمانڈر کے پاس چلے گئے۔ ابراہیم نے کہا: ’’جناب، اس علاقے کی اپنی ایک مخصوص حالت ہے۔ یہاں کی زمین نرم اور ریتلی ہے۔ اس میدان میں جوانوں کا چلنا بہت ہی مشکل ہے۔ عراق ہی نے یہ ساری رکاوٹیں ہمارے لیے تیار کی ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ حملہ کامیاب ہو جائے گا؟‘‘

کمانڈر نےجواب دیا: ’’ابرام جان، ہیڈ کوارٹر سے یہی حکم آیا ہے اور امام خمینی کے بقول ہم اپنے فرض کی ادائیگی پر مامور ہیں، نیتجہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

*****

اگلے روز سہ پہر کے وقت بٹالینز کے جوان آمادہ ہو گئے۔ ڈویژن 27 حضرت رسولﷺ میں سے گیارہ بٹالینز نے اپنا آخری آذوقہ تک اٹھا لیا تھا۔ سب فکہ کی طرف چلنے کو تیار تھے۔

میں نے دور سے ابراہیم کو دیکھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہی میرا دل لرز گیا۔ اس کا دلکش چہرہ ملکوتی ہو چکا تھا۔ ہمیشہ سے زیادہ اس کی صورت سفید تھی۔ اس نے عربی چفیہ اوڑھ اور خوبصورت کوٹ پہن رکھا تھا۔ وہ ہمارے پاس آیا اور سب جوانوں سے ہاتھ ملایا۔ میں اسے کھینچ کر ایک طرف لے گیا اور کہا: ’’ابراہیم بھائی، آج تو بہت نورانی ہو گئے ہو!‘‘

اس نے ایک لمبی سانس لے کر حسرت سے کہا: ’’جس روز ڈاکٹر بہشتی شہید ہوئے اس دن میں بہت پریشان تھا۔ لیکن میں  نے سوچا کہ کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو شہید ہو گئے۔ اگر وہ طبعی موت مرتے تو ان کے لیے کتنے عیب کی بات تھی! اصغر وصالی، علی قربانی، قاسم تشکری اور ہمارے بہت سے دوست چلے گئے۔ حال تو یہ ہے کہ تہران سے زیادہ بہشت زہرا سلام اللہ علیہا[1] میں ہمارے دوست ہیں۔‘‘

وہ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ گویا ہوا: ’’خرمشہر بھی آزاد ہو گیا اور میں ڈرتا ہوں کہ جنگ ختم ہو گئی تو شہادت سے محروم رہ جاؤں گا؛ اگرچہ ہمارا توکل خدا پر ہے۔‘‘

اس کے بعدا س نے ایک لمبی سانس لی اور کہا: ’’میں شہادت کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں، لیکن چاہتا ہوں کہ سب سے خوبصورت شہادت میرے نصیب میں ہو۔‘‘

میں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔ میں اس کی گفتگو کے جاری رہنے کا منتظر تھا کہ آنسوؤں کے قطرے اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی: ’’اگر تم ایک ایسی جگہ پر رہ جاتے ہو کہ جہاں کوئی اور تم تک نہ پہنچ سکے، نہ ہی تمہیں کوئی جانتا ہو، تم خود ہو اور آقا و مولا ہوں، پھر مولا تمہارا سر اپنے زانو پر رکھ لیں تو یہ سب سے زیادہ خوبصورت شہادت ہے۔‘‘

میں نے کہا: ’’ابرام بھائی، خدا کا واسطہ، ایسی باتیں تو نہ کرو۔‘‘

اس کے بعد میں نے بات کا موضوع بدلتے ہوئے کہا: ’’آؤ، کمانڈرز کے گروہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، یہ بہتر  رہے گا۔ جہاں بھی ضرورت پڑی تو مدد کر دینا۔‘‘

اس نے کہا: ’’نہیں، میں بسیجیوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد ہم دونوں وہاں سے چل پڑے اور ہَراوَل دستوں کی طرف آ گئے۔ وہ لوگ اپنی آخری ترتیب میں مصروف تھے۔ میں نے کہا: ’’ابرام بھائی، تمہارے لیے کون سے ہتھیار اٹھاؤں۔‘‘ اس نے کہا: ’’فقط دو دستی بم۔ اگر بندوق وغیرہ کی ضرورت پڑی تو عراقیوں سے چھین لوں گا۔‘‘

حاج حسین اللہ کرم دور سے ابراہیم پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ ہم ان کی طرف چلے گئے۔ وہ مسلسل ابراہیم کے چہرے کی طرف دیکھے جا رہے تھے۔ بے اختیار انہوں نے ابراہیم کو سینے سے لگا لیا۔ چند لمحوں تک وہ اسی حالت میں رہے۔ گویا وہ جانتے تھے کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہے۔ اس کے بعد ابراہیم نے اپنی کلائی کی گھڑی کھولی اور کہا: ’’حسین، یہ آپ کے لیے یادگار ہے۔‘‘

حاج حسین کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ انہوں نے کہا: ’’نہیں، ابرام جان۔ یہ تمہارے پاس ہی رہے۔ تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔‘‘

ابراہیم نے خاص اطمینان سے کہا: ’’نہیں، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

حاج حسین کا فی متاثر ہو چکے تھے۔ انہوں نے بات کا رُخ بدلتے ہوئے کہا: ’’ابرام جان، حملے کے لیے ہمیں دو راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ سب جوان پہلے راستے سے جائیں گے جبکہ میں، کچھ افسران اور جاسوس جوان دوسرے راستے سے نکلیں گے۔ تم بھی ہمارے ساتھ ہی آ جاؤ۔‘‘

ابراہیم نے کہا: ’’میں بسیجی جوانوں کے ساتھ پہلے راستے سے جاؤں گا۔ کوئی مشکل تو نہیں ہو گی نا آپ کو؟‘‘

حاج حسین نے کہا: ’’نہیں، جیسے تمہیں آسانی ہو۔‘‘

ابراہیم آخری مادی تعلقات سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد وہ ہراول بٹالینز کے جوانوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔

معرکہ والفجر ابتدائی
[علی نصر اللہ]

کمیل بٹالین فکہ کے جنوبی علاقے میں سرحدی چوکی کی طرف کا ہراول دستہ تھا۔ ڈویژن کا ایک افسر آئے اور بٹالین کے جوانوں سے بات کرنے لگا: ’’بھائیو، آج ہم معرکہ والفجر کے لیے فکّہ کی طرف حرکت کریں گے۔ سرحد کے بالکل سامنے دشمن نے تین بڑی خندقیں کھود رکھی ہیں تا کہ تم لوگ آگے نہ بڑھ سکو۔ اس کے علاوہ بھی اس نے تمہاری پیش قدمی کو روکنے کے لیے مختلف رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں لیکن انشاء اللہ آپ کے ان رکاوٹوں اور خندقوں کو عبور کرتے ہی حملہ شروع ہو جائے گا۔ جیسے ہی آپ لوگ سرحدی چوکیوں طاووسیہ اور رشیدیہ پر قبضہ کر لیں گے تو حملے کا پہلا مرحلہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد سید الشہداء ڈویژن کے تازہ دم جوان اور باقی مجاہدین آپ کے نزدیک سے گزریں گے اور حملے کو جاری رکھنے کے لیے عراق کے شہر العمارہ کی طرف بڑھیں گے۔ انشاء اللہ اس حملے میں بھی آپ لوگ کامیاب ہوں گے۔‘‘

انہوں نے سب کی ذمہ داریوں، رکاوٹوں اور راستوں پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’’آپ لوگوں کا راستہ بارودی سرنگوں کے میدان سے گزرتا ہوا ایک باریک سا خط ہو گا۔ انشاء اللہ آپ سب لوگ جو فکہ کے جنوبی محاذ کا ہراول دستہ ہیں اپنے معینہ اہداف تک پہنچ کر رہیں گے۔‘‘

ان کی باتیں جیسے ہی ختم ہوئیں تو بلافاصلہ ابراہیم نے ذاکری شروع کر دی۔ لیکن اس بار اس نے پہلے کی طرح نہیں پڑھا بلکہ بہت ہی انوکھے انداز میں اہل بیتؑ کے مصائب پڑھنا شروع کیے۔ وہ خود رو رہا تھا۔ وہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مصائب پڑھنے  اور پھر ماتم کرنے لگا۔ میں نے پہلی بار یہ خوبصورت شعر سنا تھا:

امان از دلِ زینب

زینبؑ کے دل کی خیر ہو

چه خون شد دلِ زینب

کیسے خون خون ہو گیا ہے

 

جوانوں نے بھی ماتم کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ اس کے بعد اس نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قید اور شہداء کربلا کے مصائب پڑھے۔ آخر میں کہنے لگا: ’’میرے دوستو، آج رات یا تو تم اپنے دوست سےملاقات کر لو گے یا سادات کی پھوپھی طرح قید ہو جاؤ اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرو۔[2]‘‘

ابراہیم کی اس پُرسوز مصائب خوانی کے بعد جوان آنسوؤں سے بھیگے ہوئے چہرے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد ہم نے مغربین کی نمازیں پڑھیں۔ جب سے ابراہیم واپس لوٹا تھا میں سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا اور ایک لمحے کے لیے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا تھا۔

میں اور ابراہیم نے ایک بھاری اور متحرک پل اپنے ساتھ اٹھایا اور دوسرے جوانوں کے ساتھ ساتھ چل دیے۔

فکہ کی ریتلی زمین پر چلنا بہت ہی مشکل تھا، اوپر سے ہر فرد کے پاس بیس کلو سے زائد اسلحہ اور دوسرے سامان کا وزن الگ۔ ہمارے پاس اس سامان کے علاوہ ایک بھاری پل بھی تھا جسے ہم ایک تابوت کی طرح اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔

ہم سب سیدھی قطار میں ایک دوسرے کے پیچھے اس راستے سے گزر گئے جو بارودی سرنگوں والے میدان میں معین کیا گیا تھا۔ ہم تقریباً بارہ کلومیٹر تک پیدل چلتے رہے۔ بالآخر فکہ کے جنوب میں پہلی نہر پر پہنچ گئے۔ ہمارے فوجی جوانوں میں اب ایک قدم آگے بڑھانے کی بھی ہمت نہ تھی۔

اتوار 6 فروری رات کے ساڑھے نو بجے تھے۔ متحرک پل اور سیڑھی کے ذریعے ہم نے اس خندق کو عبور کیا۔ علاقے پر عجیب سا سناٹا طاری تھا۔ عراقیوں کی طرف سے ایک گولی بھی نہیں چلی رہی تھی۔

پندرہ منٹ بعد ہم دوسری خندق تک پہنچ گئے۔ اسے بھی عبور کر لیا اور وائرلیس کے ذریعے ہیڈ کوارٹر میں اطلاع کر دی۔ چند منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ہم لوگ تیسری خندق تک بھی پہنچ گئے۔

ابراہیم ابھی تک دوسری خندق کے کنارے کھڑا جوانوں کی مدد کرنے میں مشغول تھا۔ اسے فوجی جوانوں کی بہت فکر رہتی تھی اس لیے کہ خندقوں کے اطراف میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں اور ان کے علاوہ دوسری رکاوٹیں بھی موجود تھیں۔

تیسری خندق تک پہنچ جانے کا مطلب تھا؛ سرحدی چوکیوں پر قبضہ کرنا اور حملہ کر دینا۔

لیکن بٹالین کے کمانڈر نے جوانوں کو روک کر کہا: ’’نقشے کے مطابق تو ہمیں ابھی مزید راستہ طے کرنا تھا مگر عجیب بات ہے کہ ہم بہت جلدی پہنچ گئےہیں، اوپر سے چوکیاں بھی نظر نہیں آ رہیں۔‘‘

تقریباً سبھی جوان دوسری خندق کو عبور کر چکے تھے کہ اچانک فکہ کا آسمان دن کی طرح روشن ہو گیا۔ گویا دشمن اپنی تمام تر توانائیوں اور تیاریوں کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ روشنی ہوتے ہی انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ مارٹر گولوں اور توپوں سے لے کر مشین گنوں تک، جو دور ہی سے ہماری طرف درست کی جا چکی تھیں، چاروں طرف سے ہم پر آگ برس رہی تھی۔ ہمارے جوان کچھ بھی نہ کر سکتے تھے۔ شمسی رکاوٹوں اور بارودی سرنگوں والے میدانوں نے ہر قسم کی پیشقدمی کو روک دیا تھا۔

جوانوں کی تھوڑی سی تعداد تیسری خندق میں اترنے میں کامیاب ہوئی۔ اکثر جوان تو ریتلی زمین ہی میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ ایک افراتفری کی سی کیفیت تھی۔ بہت سے جوان چاہتے تھے کہ انتہائی خطرناک خاردار تاروں کو عبور کر کے میدان کے درمیان میں جا کر مورچہ لے لیں مگر بارودی سرنگ پھٹنے سےوہ  شہید ہو گئے۔

راستے کے چاروں طرف بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں۔ ابراہیم جانتا تھا اسی لیے وہ تیسری خندق کی طرف دوڑ کر گیا اور چلّاتے ہوئے جوانوں کو اطراف میں جانے سے منع کرنے لگا۔ اب سب زمین پر لیٹ گئے۔ کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عراقی توپخانہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہم کہاں سے گزریں گے۔ اس لیے وہ عین اسی جگہ کو اپنے نشانے پر رکھے ہوئے تھا۔

سب کچھ درہم برہم ہو چکا تھا۔ ہر کوئی کسی نہ کسی طرف بھاگ رہا تھا۔

ہمارے قابو میں کچھ بھی نہ رہا تھا۔ فقط ایک ہی جگہ تھی جو سب سے زیادہ پُرامن تھی اور وہ تھی خندق۔ اس تاریکی اور افراتفری میں ابراہیم مجھ سے گم ہو گیا۔

میں تیسری خندق تک گیا لیکن کسی کو بھی نہیں ڈھونڈا جا سکتا تھا۔ ایک ساتھی ملا تو اس سے پوچھا: ’’ابراہیم کو تو نہیں دیکھا؟!‘‘ وہ کہنےلگا: ’’کچھ دیر پہلے یہیں سے گزر کر گیا ہے۔‘‘

میں بے چینی کے عالم میں اِدھر اُدھر دوڑتا رہا۔ ایک کمانڈر کو دیکھا۔ اس نے مجھے پہچان لیا اور کہا: ’’جلدی سے پیچھے والے راستے کی طرف جاؤ اور جو جوان ابھی راستے میں ہیں انہیں پیچھے واپس بھیج دو۔ اس خندق میں نہ جگہ ہے اور نہ ہی امن۔ جاؤ اور جلدی واپس آنا۔‘‘

کمانڈر کے حکم کے مطابق دوسری خندق کے آس پاس اور راستے میں آنے والے جوانوں کو میں پیچھے کی طرف لے گیا، یہاں تک کہ ہم نے بہت سے زخمیوں کی مدد بھی کی اور انہیں اٹھا کر پیچھے لے آئے۔اس کام میں دو تین گھنٹے لگ گئے۔ میں واپس ہونا چاہتا تھا کہ ڈویژن کے جوان کہنے لگے: ’’تم واپس نہیں جا سکتے۔‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کیوں؟‘‘

کہنےلگے: ’’پسپائی کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ اب آگے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ باقی جوان بھی صبح تک واپس آ جائیں گے۔‘‘

کوئی ایک گھنٹے بعد میں نے نماز فجر پڑھی۔ اجالا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔ میں تھکاوٹ اور مایوسی سے بے حال ہو چکا تھا۔ ہر واپس آنے والے جوان سے ابراہیم کا پوچھتا مگر کسی کو کوئی خبر نہیں تھی۔

چند منٹ گزرے ہوں گے کہ مجتبیٰ پر نظر پڑ گئی۔ وہ خاک آلود چہرہ لیے تھکاوٹ سے چور سرحد کی طرف سے آ رہا تھا۔ میں نے ناامیدی سے پوچھا: ’’مجتبیٰ، ابراہیم کو تو نہیں دیکھا؟‘‘

وہ اسی طرح میری طرف آتے آتے بولا: ’’ایک گھنٹہ پہلے ہم اکٹھے تھے۔‘‘

میں خوشی سے اچھل پڑا اور آگے بڑھ کر اس سے پوچھا: ’’اچھا، اب وہ کہاں ہے؟!‘‘

اس نے جواب دیا: ’’میں نہیں جانتا۔ میں نے اسے کہا کہ پسپائی کا حکم آ چکا ہے۔ جب تک اندھیرا ہے ہم لوٹ کر پیچھے جا سکتے ہیں۔ اگر روشنی ہو گئی تو ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔‘‘

لیکن ابراہیم نے کہا: ’’سب جوان خندق میں ہیں۔ میں ان کے پاس جا رہا ہوں۔ ہم اکٹھے واپس آ جائیں گے۔‘‘

مجتبیٰ نےمزید بتایا: ’’میں ابراہیم سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ عاشورا ڈویژن سے ایک بٹالین ہماری سمت آئی۔ ابراہیم نے جلدی سے کمانڈر سے بات کی اور پسپائی کی خبر دی۔ میں چونکہ راستہ جانتا تھا لہٰذا ابراہیم نے مجھے ان کے ساتھ پیچھے بھیج دیا اور خود ایک آر پی جی اور کچھ گولیاں لے کر خندق کی طرف چلا گیا۔ اس کے بعد سے ابراہیم کا کچھ پتا نہیں ہے۔‘‘

کوئی ایک گھنٹے بعد میثم لطیفی کو میں نے دیکھا۔ وہ کچھ زخمیوں کے ساتھ پیچھے واپس آ رہا تھا۔ میں ان کے مدد کے لیے دوڑا اور جا کر  میثم سے پوچھا: ’’کیا خبر ہے؟!‘‘

اس نے جواب دیا: ’’یہ زخمی جوان خندق سے آگے ٹیلوں میں گھر گئے تھے اور  وہاں ابرام ہادی نے آ کر ہماری مدد کی۔‘‘

اچانک میں سناٹے میں آ گیا اور حیرت سے پوچھا: ’’ابرام بھائی؟! اچھا تو آگے کیا ہوا؟!‘‘

اس نے کہا: ’’اس نے مشکل سے ہمیں جمع کیا اور صبح کی ہلکی ہلکی روشنی میں ہم سب کو پیچھے کی طرف واپس لے آیا۔ ہمارے راستے میں ایک خندق آئی جو کیچڑ اور مٹی سے بھری ہوئی تھی۔ اس خندق کی چوڑائی بھی بہت زیادہ تھی۔ ابراہیم دو سٹریچر اٹھا لایا اور ان سے پل جیسا سہارا بنا لیا۔ اس کے بعد ہم سب کو اس سے گزار کر پیچھے بھیج دیا اور خود آگے چلا گیا۔‘‘

صبح دس بجے فکہ میں ڈویژن کے کیمپ میں افسران کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ اکثر کہہ رہے تھے کہ کچھ بٹالینز دشمن کے نرغے میں گھِر گئی ہیں۔


[1] تہران کا مشہور تاریخی قبرستان۔

[2] حیرت کی بات ہے کہ کمیل بٹالینز میں جن جوانوں کے سامنے ابراہیم نے مصائب پڑھے تھے وہ سارے کے سارے یا تو شہید ہو گئے یا اسیر۔