آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

معرکہ زین العابدین علیہ السلام
[جواد مجلسی]

نومبر 1982؁ کا زمانہ تھا۔ عموماً جہاں بھی ابراہیم جاتا تو اس کا بہت ہی گرمجوشی اور تپاک سے استقبال کیا جاتا۔ بہت سے افسران نے ابراہیم کی دلیری اور شجاعت کی داستانیں سن رکھی تھیں۔

ایک بار وہ ہماری بٹالین میں بھی آیا اور ہم اکٹھے باتیں کرتے رہے۔ گپ شپ کافی طولانی ہو گئی۔ جوان چلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب ہم واپس لوٹے تو ہمارے افسر نے ہم سے پوچھا: ’’کہاں تھے؟!‘‘

میں نے کہا: ’’میرا ایک دوست آ گیا تھا، اسے مجھے سے کام تھا۔ اب وہ اپنی گاڑی سے جا رہا ہے۔‘‘

افسر نے پوچھا: ’’اس کا نام کیا ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا: ’’ابراہیم ہادی۔‘‘

اچانک انہوں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’اچھا، تو یہ آغا ابراہیم جو اتنے مشہور ہیں، یہی ہیں؟‘‘

میں نے کہا: ’’ہاں، مگر کیا ہوا؟‘‘

انہوں نے حرکت کرتی ہوئی گاڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’یہ تو پرانے مجاہد ہیں تو پھر تمہارے دوست کیسے بن گئے؟‘‘

میں نے مغرورانہ انداز میں کہا: ’’تو کیا ہوا؟ یہ ہمارے علاقے سے ہیں۔‘‘

اس کے بعد انہوں نے کہا: ’’ایک بار انہیں یہاں لے آؤ تا کہ ہمارے جوانوں سے کچھ خطاب کر سکیں۔‘‘

میں نے بھی ذرا پھول کر کہا: ’’وہ بہت مصروف رہتے ہیں، لیکن پھر بھی میں دیکھتا ہوں۔‘‘

اگلے دن میں ابراہیم سے ملنے ملٹری اٹیلی جینس آفس میں چلا گیا۔سلام و احوال پرسی اور تھوڑی گپ شپ کے بعد کہنے لگا: ’’تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ۔ میں تمہیں پہنچا بھی دوں گا اور تمہارے کمانڈر کے ساتھ بات بھی کر لوں گا۔‘‘ اس کے بعد  ہم ایک ٹیوٹا پر بیٹھ کر بٹالین کے کیمپ کی طرف چلے پڑے۔

راستے میں ایک چھوٹی سی نہر پڑتی تھی۔ عموماً ہم جب بھی وہاں سے گزرتے تھے تو پھنس جاتے تھے۔ میں نے کہا: ’’آغا ابراہیم، اوپر سے گھوم کر آ جاتے ہیں۔ یہاں پھنس جائیں گے۔‘‘

کہنے لگا: ’’میرے پاس وقت نہیں ہے۔ یہیں سے نکل جاتے ہیں۔‘‘

میں نے کہا: ’’آگے آنے کی اصلاً ضرورت بھی نہیں ہے۔ یہاں تک جو تم مجھے لے آئے ہو تو اس کا بھی بہت شکریہ۔ باقی راستہ میں خود ہی طے کر لیتا ہوں۔‘‘

کہنے لگا: ’’بیٹھے رہو۔ میں تمہارے کمانڈر سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد اس نے گاڑی چلا دی۔

میں نے سوچا کہ  اس پانی کو کیسے عبور کرے گا، اور دل ہی دل میں ہنس کر کہا کہ اگر یہ پھنس گیا تو مزہ آ جائے گا۔ لیکن ابراہیم نے بلند آواز سے ایک دفعہ اللہ اکبر اور ایک دفعہ بسم اللہ کہا اور پہلے ہی گیئر میں گاڑی وہاں سے نکال کر پار لے گیا۔ ہم دوسرے کنارے پر پہنچے تو  کہنے لگا: ’’ہم ابھی تک اللہ اکبر کی طاقت کو نہیں جانتے۔ اگر ہمیں معلوم ہو جائے تو ہماری بہت سی مشکلات حل ہو جائیں۔‘‘

*****

بٹالین نئے حملے کے لیے اپنی ضروری تیاریاں مکمل کر چکی تھی۔ کچھ دنوں بعد سومار کی جانب جانے کا وقت آ گیا۔ میں جا کر سہ راہے کے سرے پر کھڑا ہو گیا۔ ابراہیم نے کہا تھا کہ وہ غروب آفتاب سے پہلے آئے گا۔ میں بھی اس کا انتظا رکر رہا تھا۔ ہماری بٹالین نے چلنا شروع کر دیا۔ میری نظریں مسلسل کچے راستے پر جمی ہوئی تھیں یہاں تک کہ ابراہیم کا خوبصورت چہرہ دور سے نظر آنے لگا۔

وہ ہمیشہ کردی شلوار میں بغیر اسلحے کے آیا کرتا تھا، لیکن اس دفعہ معمول سے ہٹ کر وہ ٹائیگر ڈیزائن والے لباس میں ملبوس، ماتھے پر پٹی باندھے اور کلاشنکوف ہاتھ میں لیے ہوئے آیا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر پوچھا: ’’آغا ابرام، تم نے اسلحہ اٹھا لیا؟!‘‘

ہنس کر کہنے لگا: ’’کمانڈر کی اطاعت واجب ہے۔ مجھے بھی کمانڈر نے اسی طرح آنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

اس کے بعد میں نے کہا: ’’آغا ابراہیم۔ اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے ساتھ آ جاؤں؟‘‘

اس نے کہا: ’’نہیں، تم اپنے جوانوں کے ساتھ چلو۔ میں بھی تمہارے پیچھے ہی ہوں۔ ایک دوسرے سے ملتے رہیں گے۔‘‘

ہم کچھ کلومیٹر تک چلے اور رات کی تاریکی میں دشمن کے ٹھکانوں کے قریب پہنچ گئے۔ میں چونکہ آر پی جی چلاتا تھا، اسی وجہ سے باقی سب سے آگے بٹالین کے کمانڈر کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ میری حالت بہت بری تھی۔ اصلاً ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں آ رہا تھا۔ اس علاقے میں ایک عجیب طرح کا سناٹا چھایا ہوا تھا۔

ہم لوگ کم نشیبی جگہ پر واقع ایک تنگ سے نالے سے گزر کر ٹیلے کی چوٹی کی طرف بڑھنے لگے۔ ٹیلے پر سے عراقی مورچے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ میری ذمہ داری تھی کہ یہاں پہنچتے ہی ان پر فائر کھول دوں۔

میں نے ایک لمحے کے لیے ادھر ادھر دیکھا۔ ٹیلے کے دامن میں دونوں طرف بنے دشمن کے مورچے ٹیلے کی چوٹی تک چلے گئے تھے۔ عراقی اچھی طرح جان چکے تھے کہ ہم اس نالے کو عبور کریں گے۔ میں نے اپنا تھوک نگلا اور دبے پاؤں ایسے چلنے لگا کہ کوئی آواز نہ نکلے۔ باقی بھی میری طرح چل رہے تھے۔ ہماری سانسیں سینوں میں اٹک کر رہ گئی تھیں۔

ابھی ہم ٹیلے کی چوٹی تک نہ پہنچے تھے کہ اچانک روشنی کا ایک گولہ داغا گیا۔ ہمارے سروں کے اوپر روشنی چھا گئی۔ اس کے بعد تینوں طرف سے ہم پر آگ اور گولیوں کی بارش شروع ہو گئی۔ ہم سب زمین سے لگ کر لیٹ گئے۔ ہم مکمل طور پر دشمن کی گولیوں کی زد میں آ چکے تھے۔ جیسے ہی کوئی دستی بم یا گولی ہماری طرف آتی تو زخمی جوانوں کی چیخیں بلند ہونے لگتیں۔۔۔

ہم اس اندھیرے میں کچھ بھی نہ کر سکتے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں دھنس جاؤں۔ میں موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اسی لمحے ایک شخص سینے کے بل رینگتا ہوا میرے پاس آیا اور میری ٹانگ پکڑ لی۔ میں نے زمین سے اپنا سر تھوڑا سا بلند کر پیچھے کی طرف دیکھا تو یقین نہیں ہو رہا تھا۔ جو چہرہ میرے سامنے تھا وہ ابراہیم کا نورانی چہرہ تھا۔

اچانک اس نے کہا: ’’یہ تم ہو؟!‘‘ اس کے بعد آر پی جی میرے ہاتھ سے لے کر آگے کی طرف بڑھ گیا اور اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہی فائر کھول دیا۔ سامنے کے مورچے جو زیادہ گولیاں برسا رہے تھے، منہدم ہو گئے۔ ابراہیم نے اپنی جگہ سے کھڑے ہو کرکہا: ’’امیر المومنینؑ کے شیعو، کھڑے ہو جاؤ۔ مولا کا ہاتھ ہماری پشت پر ہے۔‘‘ ابراہیم کے اس اقدام نے سب جوانوں میں ایک تازہ روح پھونک دی۔

میں اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگا۔ باقی لوگ بھی اپنی جگہوں سے کھڑے ہو گئے۔ سب گولیاں برسا رہے تھے۔ تقریباً سارے عراقی بھاگ گئے تھے۔ چند لمحوں بعد دیکھا تو ابراہیم ٹیلے کی چوٹی پر کھڑا تھا۔

عراقیوں کے اہم ٹیلے پر قبضے کی مہم بہت ہی تیزی سے انجام پا چکی تھی۔ دشمن کے کچھ فوجی اسیر ہو گئے۔ ہمارے باقی جوان آگے بڑھنے لگے۔

میں بھی اپنے کمانڈر کے ساتھ آگے جانے لگا۔ کمانڈر نے راستے میں مجھ سے کہا: ’’سب لوگ ایسے ہی بلا وجہ خواہش نہیں کرتے کہ حملوں میں ابراہیم کے ساتھ رہیں۔ عجیب شجاعت ہے اس میں۔‘‘

آدھی رات کو میں ابراہیم سے ملا تو وہ کہنے لگا: ’’تم نے مولا کی عنایت کا مشاہدہ کیا: ’’دشمن کو بھگانے کے لیے فقط ایک اللہ اکبر کی ضرورت تھی۔‘‘

*****

ہمارے علاقے میں حملہ ختم ہو چکا تھا۔ سب بٹالینز کے جوان واپس آ گئے تھے لیکن بعض بٹالینز اپنے کچھ شہیدوں اور زخمی جوانوں کو وہیں چھوڑ آئی تھیں!!

ابراہیم جب ایک بٹالین کے کمانڈر کے ساتھ بات کر رہا تھا تو چلّا رہا تھا۔ وہ کافی غصے میں تھا۔ میں نے اس وقت تک اسے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔

وہ کہہ رہا تھا: ’’آپ واپس جانا چاہتے تھے، نفری اور باقی امکانات بھی آپ کے پاس موجود تھے تو پھر اپنی بٹالینز کے زخمیوں کو وہیں پر کیوں چھوڑ آئے؟  آپ کو ان کی ذرا پرواہ نہیں ہے؟ کیوں۔۔۔‘‘

علاقے کا انچارج جو ابراہیم کا دوست تھا، اس کے ساتھ اس نے ہم آہنگی کی اور جواد افراسیابی اور کچھ دوسرے جوانوں کو ساتھ لے کر  دشمن کے ٹھکانوں میں کافی آگے تک چلا گیا۔

اگلی چند راتوں میں وہ بہت سے شہداء کے لاشوں اور زخمیوں کو اٹھا کر واپس لے آئے۔

علاقے کی حساسیت کی وجہ سے دشمن میدان جنگ سے اپنے فوجیوں کی لاشیں اور سازوسامان نہیں سمیٹ سکا تھا۔

ابراہیم اور جواد کو 12 دسمبر 1982؁ کی رات تک تقریباً اٹھارہ زخمیوں اور نو شہیدوں کو دشمن کے علاقے سے نکال کر واپس لانے کا موقع مل گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ ایک شہید کے جسد کو دشمن کے مورچوں سے صرف دس میٹر کے فاصلے سے انتہائی مہارت اور تکنیک سے اٹھا کر لے آئے تھے۔

اس حملے کے بعد ابراہیم کی طبیعت تھوڑی خراب ہو گئی اور ہم اکٹھے تہران واپس آ گئے۔ وہ چند ہفتے تہران میں رہا اور یہاں مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔

آخری ایام
[علی صادقی، علی مقدم]

دسمبر کے ایام تھے۔ میں اور ابراہیم تہران واپس آ گئے تھے۔ وہ خستگی اور تھکاوٹ کے باوجود کافی خوش تھا۔ کہتا تھا: ’’دشمن کے علاقے میں کوئی شہید اور زخمی باقی نہیں بچا۔ جو کچھ بھی تھا ہم اٹھا کر لے آئے تھے۔‘‘ اس کے بعد اس نے کہا: ’’آج کی رات ہم نے کتنی منتظر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی۔ ان شہداء میں سے جس کی ماں بھی اپنے بیٹے کی قبر پر جائے گی، اس کا ثواب ہمیں بھی ملے گا۔‘‘

میں نے فوراً اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا: ’’آغا ابرام، اگر ایسا ہے تو پھر تم اپنے لیے کیوں دعا کرتے ہو کہ تم گمنام رہو۔‘‘

اسے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا: ’’میں نے اپنی ماں کو تیار کر رکھا ہے۔ میں نے انہیں کہہ دیا ہے کہ وہ میرا انتظار نہ کیا کریں حتی کہ انہیں یہ بھی کہا ہے وہ میرے لیے گمنام شہادت کی دعا کریں۔‘‘ لیکن جو جواب  میں چاہتا تھا وہ اس نے پھر بھی نہ دیا۔

میں اور ابراہیم چند ہفتے تہران میں رہے۔حملے ختم ہوئے تو بہت سے دوست ہر رات ابراہیم کے پاس آ جاتے۔ ابراہیم جہاں ہوتا، انجمن کے جوان اور مجاہد بھائی اس کے پاس موجود ہوتے۔

*****

جنوری کے ایام تھے۔ ابراہیم کا مزاج اب پہلے کی نسبت کافی مختلف ہو چکا تھا۔ اب عامیانہ گفتگو اور مذاق وہ کم ہی کرتا تھا۔ اکثر دوست اسے ’’شیخ ابراہیم‘‘ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔

ابراہیم نے اپنی داڑھی چھوٹی کر لی تھی مگر اس کے چہرے کی نورانیت میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ شہادت کی آرزو جو سب دوستوں کی دلوں میں تھی، ابراہیم کے لیے ایک الگ ہی معنی رکھتی تھی۔

ہم رات کی تاریکی میں اکٹھے ہی چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ میں نے ایک دن پوچھا: ’’تم شہادت کی آرزو رکھتے ہو نا؟!‘‘ وہ ہنس دیا۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد گویا ہوا: ’’شہادت تو میری آرزؤں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ امام حسین علیہ السلام کے بے کفن ساتھیوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں۔ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا کہ میرا جنازہ واپس آئے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں گمنام ہی رہوں۔‘‘

اس کی ان باتوں کی وجہ میں پہلے بھی سن چکا تھا۔ وہ کہتا تھا: ’’چونکہ سادات کی ماں (حضرت زہرا سلام اللہ علیہا) کی قبر نہیں ہے، لہٰذا میں نہیں چاہتا کہ میری قبر بنے۔‘‘

اس کے بعد ہم پہلوانی کلب میں چلے گئے۔ اس نے تمام دوستوں کو اگلے روز دن کے کھانے کی دعوت دی۔

اگلے دن ظہر کے وقت ہم اس کے گھر گئے۔ کھانے سے پہلے نماز باجماعت پڑھی گئی۔ ابراہیم کو ہم نے نماز پڑھانے کے لیے آگے کیا۔ نماز میں اس کی عجیب حالت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس دنیا میں ہے ہی نہیں۔ اس کا پورا وجود ملکوت کی سیر کر رہا تھا۔

نماز کے بعد اس نے اپنی میٹھی آواز میں دعائے فرج پڑھی۔ ایک دوست نے میری طرف پلٹ کر کہا: ’’ابراہیم کافی عجیب ہو گیا ہے۔ میں نے آج تک اس کی یہ حالت نہیں دیکھی کہ نماز میں ایسے آنسو بہا رہا ہو۔‘‘

انجمن کے پروگراموں میں وہ ہمیشہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے توسل کیا کرتا تھا اور دعا کے دوران کہتا تھا: ’’سب گمنام شہدا کی یاد میں کہ مادرِ سادات کی طرح جن کی قبر کا نشان نہیں ہے۔‘‘ وہ انجمن میں ہمیشہ محاذ اور مجاہدین کو یاد کیا کرتا تھا۔

*****

فروری کے ایام تھے۔ رات کے نو بجے گلی میں کسی نے آواز دی: ’’جناب علی! آپ گھر پر ہیں؟‘‘

میں کھڑکی کے پاس آیا۔ گلی میں ابراہیم اور علی نصر اللہ موٹرسائیکل لیے کھڑے تھے۔ میں خوش ہو گیا اور دروازے پر آیا۔

ابراہیم اور اس کے بعد علی سے گلے ملا، انہیں بوسہ دیا اور گھر کے اندر لے آیا۔

موسم کافی ٹھنڈا تھا اور میں اکیلا۔ میں نے کہا: ’’کھانا کھایا ہے؟‘‘ ابراہیم نے کہا: ’’نہیں، لیکن تم زحمت نہ کرو۔‘‘

میں نے کہا: ’’تکلف نہ کرو۔ ابھی انڈا بنا دیتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد میں نے رات کے کھانے کا تھوڑا سا انتظام کیا۔

میں نے کہا: ’’آج بیگم اور بچے بھی گھر پر نہیں ہیں۔ اگر تمہیں کوئی کام نہیں ہے تو یہیں رک جاؤ۔ کرسی[1] بھی آمادہ ہے۔‘‘

ابراہیم مان گیا۔ میں نےہنس کر کہا: ’’ابرام بھائی۔ اس سردی میں بھی کُردی شلوار پہن کر چلتے ہو۔ تمہیں سردی نہیں لگتی؟!‘‘

وہ ہنس دیا: ’’نہیں،  میں نے تو چار شلواریں پہن رکھی ہیں۔‘‘

اس کے بعد اس نے اوپر والی تین شلواریں اتار دیں اور کرسی میں گھس گیا۔ میں بھی علی سے باتیں کرنے لگا۔

نہیں معلوم، ابراہیم سو گیا تھا یا نہیں لیکن اچانک ہی اچھل کر بیٹھ گیا اور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر بلافاصلہ کہا: ’’علی، میری جان، سچ بتاؤ۔ میرے چہرے پر تمہیں شہادت نظر آ رہی ہے؟!‘‘

مجھے ایسے سوال کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ میں کچھ دیر تک ابراہیم کی صورت دیکھتا رہا پھر آرام سے کہا: ’’بعض دوستوں کی شہادت کے وقت ایک عجیب سی حالت ہو جاتی ہے لیکن ابرام جان تمہاری تو ہر وقت یہی حالت رہتی ہے۔‘‘

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ابراہیم اٹھا اور علی سے کہنے لگا: ’’اٹھو۔ ہمیں جلدی چلنا ہے۔‘‘

میں نے حیران ہو کر کہا: ’’آغا ابرام، کہاں؟!‘‘

اس نےجواب دیا: ’’ہمیں جلدی جلدی مسجد جانا ہے۔‘‘

اس کے بعد اس نے اپنی شلواریں پہنیں اور علی کے ساتھ چلا گیا۔


[1] ایران اور افغانستان میں استعمال ہونے والی ایک ایک میٹر لمبی چوڑی مربع یا مستطیل شکل کی میز جس کے اوپر چار چار میٹر یا سات سات میٹر کا لحاف سِلا ہوتا ہے۔ میز کو لحاف کے درمیان میں رکھ کر لحاف کو میز کے ساتھ  سی دیا جاتا ہے اور لحاف کے چاروں کونے چاروں طرف پھیلا دیے جاتے ہیں۔ سردیوں میں گھر کے افراد چاروں طرف اس لحاف کے اندر ٹانگیں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور درمیان میں رکھی میز پر کھانے پینے کی چیزیں رکھ کر کھاتے اور باتیں کرتے جاتے ہیں۔