اچھا سلوک
[شہیدؒ کے بعض دوست]
ہم 17 شہریور روڈ سے گزر رہے تھے۔ میں موٹرسائیکل پر ابراہیم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک موٹر سائیکل سوار گلی کے اندر سے تیزی سے روڈ پر آیا۔ ہمارے سامنے اس نے موڑ کاٹا اور ابراہیم نے تیزی سے بریک لگائی۔
موٹر سائیکل پر بیٹھا وہ جوان جس کا ظاہری حلیہ بھی کوئی اچھا نہ تھا، چلّانے لگا: ’’ہُو، کیا کر رہے ہو!‘‘ اس کے بعد وہ کھڑا ہو کر غصے سے ہماری طرف دیکھنے لگا۔
سب جانتے تھے کہ غلطی اسی کی ہے۔ میرا بھی دل چاہ رہا تھا کہ ابراہیم اپنے اس مضبوط جسم کے ساتھ نیچے اترے اور اسے ایک کرارا سا جواب دے، لیکن ابراہیم نے اس کی اس بدتمیزی کا جواب مسکراہٹ سے دیتے ہوئے کہا: ’’سلام، خدا تمہیں سلامت رکھے۔‘‘
وہ موٹر سائیکل سوار ہکا بکا رہ گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے ایسے ردّ عمل کی کوئی توقع نہیں تھی۔ تھوڑی دیر خاموش رہ کر اس نے کہا: ’’سلام، مجھے معاف کر دیجیے، میں شرمندہ ہوں۔‘‘
اس کے بعد وہ چلا گیا اور ہم اپنے راستے پر ہو لیے۔
ابراہیم راستے میں بتانے لگا اور جو سوالات میرے ذہن میں پیدا ہو چکے تھے ان کا جواب دینے لگا: ’’تم نے دیکھا کہ کیا ہوا؟ ایک ہی سلام سے اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اوپر سے اس نے معذرت بھی کر لی۔ اب اگر میں بھی چلّانے اور جھگڑا کرنے لگتا تو سوائے اپنے اعصاب و اخلاق کا ستیا ناس کرنے کے کچھ نتیجہ نہ نکلتا۔‘‘
ابراہیم کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کا طریقہ بذات خود کافی دلچسپ تھا۔ اگر وہ کسی کو کسی کام سے روکنا چاہتا تو اس کی کوشش ہوتی کہ یہ کام بالواسطہ طریقے سے انجام پا جائے، مثلاً اس کام کی معاشرتی اور طبی برائیوں اور نقصانات کی طرف اشارہ کرتا تا کہ مخاطب شخص خود بخود مطلوبہ نتیجے تک پہنچ جائے۔ اس وقت وہ اس برائی کے بارے میں دینی احکام بھی بطورِ دلیل بیان کر دیتا۔
ابراہیم کا ایک دوست نظربازی کی لت میں مبتلا تھا اور لڑکیوں کو تاڑتا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی غیر اخلاقی کام میں ملوث رہتا۔ کچھ دوستوں نے اسے برا بھلا کہہ کر اور اس پر غضبناک ہو کر اسے اس عادت سے روکنے کی کوشش بھی کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔
ایسی صورتحال میں کوئی بھی اسے اپنے پاس پھٹکنے نہ دیتا تھا لیکن ابراہیم اس سے کافی گرمجوشی سے ملتا تھا، حتی کہ اسے اپنے ساتھ اکھاڑے میں بھی لے آتا اور دوسروں کے سامنے اس کا کافی احترام کرتا تھا۔
کچھ دن گزرے تو ابراہیم نے اس سے بات کی۔ پہلے تو اس نے اسے غیرت دلاتے ہوئے کہا: ’’اگر کوئی تمہاری ماں اور بہن کے پیچھے پڑ جائے اور انہیں تنگ کرے تو تم کیا کرو گے؟‘‘
اس لڑکے نے غصے سے کہا: ’’میں اس کی آنکھیں نکال لوں گا۔‘‘
تو ابراہیم نے بہت ہی آرام سے اسے سمجھایا: ’’بہت اچھے، تم اپنی ناموس کے بارے میں تو اتنے غیرتمند ہو تو پھر یہی برا کام تم خود کیوں کرتے ہو؟ اگر ہر کوئی دوسروں کی ناموس کے پیچھے پڑ جائے تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا اور اصلاح کی گنجائش بھی نہیں رہے گی۔‘‘
اس کے بعد ابراہیم نے نامحرم کی طرف دیکھنے کے حوالے پیغمبر اکرمﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: ’’اپنی آنکھوں کو نامحرم سے محفوظ رکھو تا کہ تم عجائب کو دیکھ سکو۔[1]‘‘
اس کے بعد اس نے اور بھی بہت سی دلیلیں دیں۔ وہ لڑکا بھی ابراہیم کی باتوں کی تائید کرتا جا رہا تھا۔ اس کے بعد ابراہیم نے اسے کہا: ’’تم خود فیصلہ کر لو۔ اگر ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو تمہیں یہ کام چھوڑنا پڑے گا۔‘‘
ابراہیم کا اچھا سلوک اور مضبوط دلائل نے اس لڑکے کی عادت بدل کر رکھ دی اور وہ محلے کا ایک اچھا لڑکا بن گیا۔ ساری بری عادتیں اس نے چھوڑ دیں۔ یہ لڑکا ان افراد میں سے ایک مثال تھا جنہیں ابراہیم نے اپنے اچھے سلوک، استدلال اور برمحل گفتگو کی وجہ سے تبدیل کر دیا تھا۔
ہمارے محلے کی ایک گلی اب بھی اسی لڑکے کے نام پر ہے۔
*****
1982 کا موسمِ خزاں تھا۔ ہم موٹر سائیکل پر بیٹھے آزادی چوک کی طرف جا رہے تھے۔ ابراہیم نے محاذ پر جانا تھا اور میں چاہتا تھا کہ اسے مغربی بس اڈے تک پہنچا دوں۔
ایک نئے ماڈل کی گاڑی ہمارے پاس سے گزری۔ ڈرائیور کے ساتھ ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی جس نے مناسب طریقے سے حجاب نہیں اوڑھ رکھا تھا۔ اس نے ابراہیم کو دیکھا اور کوئی نامناسب بات کی۔
ابراہیم نے کہا: ’’جلدی سے اس کا پیچھا کرو!‘‘
میں بھی تیزی سے گاڑی کے پاس پہنچا اور ڈرائیور کو اشارہ کیا کہ گاڑی سائیڈ پر کرو۔ میں نے سوچا کہ اب کے جھگڑا ہوا کہ ہوا۔
گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی ہو گئی۔ ہم بھی اس کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔
میں ابراہیم کے ردّعمل کا انتظار کر رہا تھا۔ ابراہیم تھوڑی دیر تک تو خاموش رہا پھر وہیں موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے ڈرائیور کے ساتھ گرمجوشی سے سلام و احوال پرسی کرنے لگا۔
ڈرائیور ہمارے ظاہری حلیے اور اس خاتون کے ہمارے ساتھ سلوک کو دیکھ چکا تھا، اسے اس طرح کے سلام کی توقع نہ تھی۔
جواب سلام کے بعد ابراہیم نے کہا: ’’میں بہت معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کی بیگم نےمجھے اور سب داڑھی والے افراد کو برا بھلا کہا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ۔۔۔‘‘
اس شخص نے ابراہیم کی بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’میری بیگم نے غلط کیا ہے۔‘‘
ابراہیم کہنے لگا: ’’نہیں جناب، ایسا نہ کہیں۔ میں فقط اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میری گردن پر ان کا کوئی حق ہے؟ یا میں نے کوئی غلط کام کیا ہے کہ یہ میرے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہیں؟‘‘
اس شخص کو ہماری طرف سے ایسے رد عمل کی اصلاً توقع نہ تھی۔ وہ گاڑی سے اتر آیا اور ابراہیم کا ماتھا چوم کر کہنے لگا: ’’نہیں میرے دوست، تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ ہم خطاکار ہیں۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ اس کے بعد وہ ہم سے بہت زیادہ معذرت خواہی کرتے ہوئے چلا گیا۔
ابراہیم کا یہ رویہ اور سلوک اور وہ بھی اُس زمانے میں، ہمارے لیے بہت ہی عجیب تھا۔
لیکن وہ ایسے رویے سے ہمیں لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے کا صحیح طریقہ بتاتا تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا: ’’زندگی میں وہی انسان سب سے زیادہ کامیاب ہے جو دوسروں کے غصے کے سامنے صبر کا مظاہرہ کرے اور غیر عقلی کام انجام نہ دے۔‘‘
اور اس کے رویوں میں بھی یہی چیز اس کی کامیابی کا راز تھی۔
اس کے اس حسن سلوک نے مجھے اس آیت کی یاد دلا دی: ’’ اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر (فروتنی سے) دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے گفتگو کریں تو کہتے ہیں: سلام۔[2]‘‘
سانپ کا قصہ
[مہدی عموزادہ]
رات کے دس بجے تھے۔ ہم گلی میں فٹ بال کھیل رہے تھے۔ میں نے محلے کے لڑکوں سے آغا ابراہیم کا نام سن تو رکھا تھا مگر ابھی تک ان سے ملاقات نہ ہوئی تھی۔
ہم اپنے کھیل میں مشغول تھے تو میں نے دیکھا کہ گلی کے سرے سے ایک شخص بیساکھی کے سہارے ہماری طرف آ رہا ہے۔ اس کی لمبی داڑھی اور زخمی پاؤں سے میں سمجھ گیا کہ وہی ہیں۔
وہ گلی کی ایک طرف کھڑے ہو کر ہمارا کھیل دیکھنے لگے۔ ایک لڑکے نے پوچھا: ’’آغا ابرام، کھیلیں گے؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’اس پاؤں کے ساتھ تو میں نہیں کھیل سکتا البتہ اگر تم کہتے ہو تو میں گول کیپر کے طور پر کھڑا ہو جاتا ہوں۔‘‘
میں بہت اچھا کھیلتا تھا لیکن میں نے لاکھ جتن کیے مگر گول نہ کر سکا۔ وہ کسی پیشہ ور کھلاڑی کے طرف کھیل رہے تھے۔
آدھا گھنٹہ گزرنےکے بعد جب گیند میرے پاؤں میں تھی تو انہوں نےکہا: ’’دوستو، کیا تمہارا نہیں خیال کہ اب کافی دیر ہو گئی ہے۔ لوگ اب سونا چاہتے ہوں گے۔‘‘
ہم نے کھیل کا سامان جمع کیا اور اس کے بعد آغا ابراہیم کو گھیر کر بیٹھ گئے۔ لڑکوں نے کہا: ’’اگر ممکن ہو تو محاذ کے واقعات ہمیں سنائیے۔‘‘
اس رات میں نے بہت ہی عجیب واقعہ سنا جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
آغا ابراہیم کہہ رہے تھے: ’’مغربی محاذ پر میں اور جواد افراسیابی دشمن کے علاقوں کی ریکی کے لیے گئے ہوئے تھے۔ آدھی رات کو وقت تھا اور ہم عراقی مورچوں کے پاس جا کر چھپ گئے تھے۔‘‘
جب اجالا ہوا تو ہم دشمن کے ٹھکانوں کی ریکی کا آخری مرحلہ مکمل کرنے لگے۔ ہم اپنے کام میں مشغول تھے کہ اچانک میری نظر ایک بہت ہی بڑے سانپ پر پڑی جو چپکے چپکے ہماری طرف آ رہا تھا۔
میں نے اس وقت تک اتنا بڑا سانپ نہ دیکھا تھا۔ سانس ہمارے سینوں میں اٹک کر رہ گئی تھی۔ ہم کچھ بھی نہ کر سکتے تھے۔ اگر سانپ کی طرف گولی چلاتے تو عراقی متوجہ ہو جاتے اور اگر وہاں سے بھاگتے تو پھر بھی عراقی ہمیں دیکھ لیتے۔ سانپ تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا تھا۔ کچھ فیصلہ کرنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔
میں نے اپنا تھوک نگلا اور ڈر کے مارے بیٹھ کر اپنی آنکھیں بند کر کے بسم اللہ کہا اور اس کے بعد خدا کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے حق کا واسطہ دیا۔
لمحات کافی مشکل سے گزر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جواد نےمیرے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ میں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ تعجب سے دیکھا کہ سانپ جیسے ہی ہمارے نزدیک پہنچا تو اس نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور ہم سے دور ہو گیا۔
اس رات آغا ابراہیم نے کچھ مزاحیہ واقعات بھی ہمیں سنائے۔ ہم بہت ہنسے۔
اس کے بعد انہوں نے کہا: ’’کوشش کرو کہ رات کے آخری پہر جب لوگ آرام کرنا چاہتے ہوں، نہ کھیلا کرو۔‘‘
اگلے دن سے میں ہر وقت آغا ابراہیم کی تلاش میں رہتا تھا یہاں تک کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ فجر کی نماز مسجد ہی میں پڑھتے ہیں تو میں بھی ان کی خاطر مسجد میں جانے لگا۔
مجھ پر اور محلے کے دوسرے لڑکوں پر آغا ابراہیم کی تاثیر اتنی زیادہ تھی کہ ہم بھی انہی کی طرح آہستہ آہستہ اور خضوع و خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گئے تھے۔
کچھ دنوں بعد جب وہ محاذ پر جانے لگے تو ہم میں ان سے دوری کی طاقت نہ تھی لہٰذا ہم بھی محاذ پر چلے گئے۔
خدا کی خوشنودی
[عباس ہادی]
ابراہیم کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ عام طور پر کوئی بھی اس کے کاموں سے آگاہ نہیں ہوتا تھا، سوائے ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ رہتے تھے اور وہ خود اس کے کاموں کا مشاہدہ کرتے تھے۔ لیکن وہ خود جب تک ضروری نہ ہوتا اپنے کاموں کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا رہتا کہ جو کام خدا کی رضا کےلیے کیا جائے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یا کبھی کہتا کہ ہمارے کاموں میں یہی خرابی ہے کہ ہم خدا کے علاوہ باقی سب لوگوں کی رضامندی کے لیے کام کرتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جو کوئی بھی اپنے دل اور اعمال کو غیر خدا سے پاک کر لیتا ہے وہ خداوند کریم کا منظورِ نظر قرار پاتا ہے۔[3]‘‘
عظیم عرفاء بھی اپنے کلمات میں اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ’’اگر خدا کے لیے کوئی کام کیا جائے تو وہ قدر و منزلت کا حامل ہوتا ہے۔ یا ہر وہ سانس جو انسان غیر خدا کے لیے لیتا ہے آخرت میں اس کے لیے خسارے کا باعث بنے گا۔‘‘
جن دنوں ابراہیم زخمی تھا تو ہم تہران کے ایک اکھاڑے میں گئے اور جا کر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ ہر ماہر پہلوان کے داخل ہوتے ہی مرشد کی گھنٹی بج اٹھتی اور کھیل چند لمحات کے لیے رک جاتا۔ داخل ہونے والا دور ہی سے دوسرے کھلاڑیوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتا اور مسکراتا ہوا ایک جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا۔
ابراہیم غور سے لوگوں کی حرکات دیکھ رہا تھا۔ میری طرف پلٹ کر آہستہ سے کہنے لگا: ’’انہیں دیکھو کہ گھنٹی کی آواز پر کتنے خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد کہا: ’’بعض لوگ اکھاڑے کی گھنٹی کے عاشق ہیں۔ جتنا یہ اس گھنٹی کے عاشق ہیں اتنا ہی خدا کے عاشق ہو جاتے تو زمین پر نہ رہتے بلکہ آسمانوں میں اڑانیں بھر رہے ہوتے۔ دنیا یہی ہے۔ جب تک انسان دنیا کا عاشق ہے اور اس غرق ہے، اس کی یہی حالت رہتی ہے۔ لیکن اگر انسان آسمان کی طرف نگاہ کرے اور اپنے کام خدا کے لیے انجام دے تو یقیناً اس کی زندگی بدل جاتی ہے اور وہ زندگی کا حقیقی معنی و مفہوم سمجھ لیتا ہے۔‘‘
پھر کہنے لگا: ’’اکھاڑے میں اکثر لوگ یہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون دوسروں سے زیادہ طاقتور ہے اور کون جلدی تھک جاتا ہے۔ اگر تم کسی دن رِنگ ماسٹر بن جاؤ اور دیکھو کہ کوئی تھک گیا ہے تو خدا کی رضا کے لیے جلدی سے کھیل کو بدل دو۔ میں جن دنوں رنگ ماسٹر تھا تو میں نے ایسا نہیں کیا مگر اس سے میری کچھ خاص غرض نہ ہوتی تھی۔ میں تو ویسے ہی دوستوں میں مشہور ہو گیا، لیکن تم ایسا کام نہ کرنا۔‘‘
وہ یہ بھی کہتا تھا: ’’انسان کو ہر کام حتی کہ اپنے ذاتی کام بھی خدا کی خوشنودی کے لیے کرنا چاہییں۔‘‘
آگاه باش عالم هستی ز بهر توست آگاہ رہو کہ کائنات تمہارے ہی دم سے ہے | غیر از خدا هر آنچه بخواهی شکست توست خدا کے علاوہ تم جو کچھ بھی چاہو تو شکست سے دوچار ہو گے |
*****
جمعہ کی صبح ہونے والی تھی۔ ابراہیم خون آلود کپڑوں میں ملبوس گھر میں داخل ہوا۔ بہت ہی آہستہ سے اپنے کپڑے بدلے اور فجر کی نماز پڑھ کر کہنے لگا: ’’عباس، میں اوپر سونے جا رہا ہوں۔‘‘
لگ بھگ ظہر کا وقت تھا کہ گھر کا دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی۔ کوئی مسلسل دروازہ کوٹے جا رہا تھا۔ ماں نے جا کر دروازہ کھولا تو ہماری ہمسائی تھی۔ سلام کرنے کے بعد وہ غصے سے کہنے لگی: ’’کیا تمہارا یہ ابراہیم میرے بیٹے کا ہم عمر ہے؟ کل رات وہ میرے بیٹے کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر باہر لے گیا اور ایکسیڈنٹ کر کے اس کا پاؤں توڑ لایا۔‘‘
پھر کہنے لگی: ’’دیکھو بہن، میں نے اپنے بیٹے کو بہترین سکول میں داخل کروایا ہوا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ تمہارے بیٹے جیسے لڑکوں سے اس کی دوستی ہو۔‘‘
ہماری ماں اس سارے قضیے سے بے خبر تھیں، بہت پریشان ہوئیں اور معذرت خواہی کرتے ہوئے حیرانی سے کہنے لگیں: ’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں لیکن میں پھر بھی ابراہیم سے بات کروں گی۔ آپ ہمیں معاف کر دیں۔‘‘
میں ان کی باتیں سن رہا تھا، دوڑتا ہوا دوسری منزل پر چلا گیا۔ ابراہیم کو جگا کر پوچھا: ’’بھائی، تم نے کیا کیا ہے؟‘‘
اس نے پوچھا: ’’ہوا کیا ہے؟‘‘
میں نے پوچھا: ’’تم نے ایکسیڈنٹ کیا؟‘‘
وہ اچانک اٹھ بیٹھا اور تعجب سے پوچھا: ’’ایکسیڈنٹ؟ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
میں نے کہا: ’’مگر تم نے سنا نہیں ہے۔ دروازے پر محمد کی ماں کھڑی تھی اور اس نے اچھا خاصا شور مچارکھا تھا۔‘‘
ابراہیم تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا: ’’اچھا، خدا کا شکر ہے کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہو گیا۔‘‘
اسی روز سہ پہر کے وقت محمد کی ماں اور باپ پھولوں کا ایک گلدستہ اور مٹھائی کا ڈبہ لیے ابراہیم سے ملنے آ گئے۔ وہ ہمسائی مسلسل معذرت خواہی کر رہی تھی۔ ہماری ماں نے تعجب سے کہا: ’’بہن، نہ تمہاری صبح والی باتوں کی سمجھ آئی ہے اور نہ ہی ابھی والی۔‘‘ ہمسائی مسلسل کہے جا رہی تھی: ’’خدا کی قسم، شرمندگی کے مارے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کہوں۔ محمد نے ہمیں سارا ماجرا بتا دیا ہے۔ محمد نے بتایا ہے کہ اگر آغا ابراہیم نہ پہنچتے تو نہ جانے میرا کیا حال ہو جاتا۔ محلے کے لڑکوں نے اس وجہ سے ہمیں یہ بتایا کہ ابراہیم اور محمد اکٹھے تھے اور ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے تا کہ ہم پریشان نہ ہو جائیں۔ بہن، میں نے فیصلہ کرنے میں جلدی کی اور بغیر سوچے سمجھے بہت کچھ کہہ دیا۔ اب بہت بے چین ہوں۔ آپ کو خدا کا واسطہ مجھے معاف کر دیں۔ میں نے محمد کے باپ سے بھی کہا ہے کہ کتنی بری بات ہے کہ ابراہیم چند ماہ سے زخمی ہے، ابھی تک اس کا پاؤں بھی ٹھیک نہیں ہوالیکن ہم اس کی عیادت کو نہیں گئے۔ اب اسی لیے ہم حاضر ہوئے ہیں۔‘‘
ماں نےپوچھا: ’’میں سمجھ نہیں پا رہی۔ مگر آپ کے محمد کو ہوا کیا ہے؟‘‘
اس ہمسائی نے بتانا شروع کیا: ’’شب جمعہ کو آدھی رات کے وقت مسجد کے بسیجی جوان ایک سڑک پر چیکنگ میں مصروف تھے۔ محمد سڑک کے درمیان دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اچانک اس کے ہاتھ سے ٹریگر دب گیا اور غلطی سے گولی اس کی بندوق سے نکل کر اس کے اپنے پاؤں پر جا لگی۔ وہ زخمی پاؤں کے ساتھ وہیں سڑک پر گر گیا اور اس کے پاؤں سے کافی خون بہنے لگا۔ ابراہیم اسی وقت موٹرسائیکل پر وہاں سے گزر رہا تھا۔ وہ فوراً محمد کے پاس آیا اور ایک دوست کی مدد سے محمد کےزخم کو باندھا اور پھر ہسپتال لے گیا۔‘‘
ہمسائی کی باتیں ختم ہوئیں تو میں نے پلٹ کر ابراہیم کو دیکھا۔ وہ پورے اطمینان سے کمرے کے کونے میں بیٹھا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ جو کوئی بھی خدا کے لیے کام انجام دیتا ہے اسے لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔
اخلاص
[عباس ہادی]
ہم ابراہیم کے ساتھ کھیل کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ کہنے لگا: ’’میں جب بھی ورزش یا کشتی کے مقابلوں پر جاتا تھا تو ہمیشہ باوضو ہو کر جاتا تھا اور مقابلے سے پہلے ہمیشہ دو رکعت نماز پڑھتا تھا۔‘‘
میں نے پوچھا: ’’کون سی نماز؟‘‘
اس نے جواب دیا: ’’دو رکعت نماز مستحب۔ اور اس میں خدا سے یہ دعا کرتا تھا کہ مقابلے کے دوران کسی کو مجھ سے کوئی اذیت نہ پہنچے۔‘‘
ابراہیم گناہ کی قریب بھی نہ پھٹکتا تھا، یہی وجہ تھی کہ سارے دوستوں کے لیے نمونہ عمل تھا۔ یہاں تک کہ اگر کسی محفل میں کوئی گناہ کی بات ہو رہی ہوتی تو وہ فوراً موضوع تبدیل کر دیتا۔ وہ جب بھی دیکھتا کہ اس کے دوستوں میں سے کوئی کسی کی غیبت کر رہا ہے وہ مسلسل کہنا شروع کر دیتا: ’’صلوات پڑھیے۔‘‘ یا اس کے علاوہ کسی بھی طریقے سے موضوع گفتگو کو بدل دیتا۔
سوائے اصلاح کی کبھی کسی کی برائی نہیں کرتا تھا۔
کبھی بھی تنگ یا چھوٹی آستینوں والا لباس نہیں پہنتا تھا۔ کئی بار تو اپنے آپ کو سخت اور مشکل کاموں میں مصروف کر دیتا۔ جس وقت اس سے اس بارے میں سوال کرتے تو جواب دیتا: ’’انسان کے نفس کے لیے ایسے کام بہت ضروری ہوتے ہیں۔‘‘
شہید جعفر جنگروی بتاتا تھا: ’’ایک بار انجمن کا کوئی پروگرام ختم کر کے ہم لوگ اکٹھے بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ابراہیم دوسرے کمرے میں اکیلا بیٹھا اپنی ہی مستی میں گم تھا۔ جب سب دوست چلے گئے تو میں ابراہیم کے پاس آ گیا۔ وہ ابھی تک میری طرف متوجہ نہ ہوا تھا۔ میں نے تعجب سے دیکھا کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک سوئی کو اپنے چہرے اور پپوٹوں پر چبھوتا۔ اچانک میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کیا کر رہے ہو ابرام بھائی؟‘‘ تو وہ میری طرف متوجہ ہو گیا اور چونک کر اپنی حالت سے باہر نکل آیا۔ پھر تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد کہنے لگا: ’’کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’تمہیں اپنی جان کی قسم ابرام۔ تمہیں بتانا پڑے گا کہ تم اپنے چہرے پر سوئی کیوں چبھو رہے تھے؟‘‘ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد روہانسا ہو کر کہنے لگا: ’’جو آنکھ نامحرم پر پڑے، اس کی یہی سزا ہے۔‘‘ اس وقت تو میں سمجھ نہ سکا کہ ابراہیم کیا کر رہا ہے اور اس کی ان باتوں کا کیا مطلب ہے؟ لیکن بعد میں جب عظیم لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ بھی گناہ سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو تنبیہ کرتے رہتے تھے۔‘‘
اس کی دوسری اہم صفت نامحرم سے دوری بھی تھی۔ اگر وہ کسی نامحرم حتی کہ اپنی کسی رشتہ دار خاتون سے بھی بات کرنا چاہتا تو اپنے سر کو اوپر نہیں اٹھاتا تھا۔ اس کے دوست کہتے تھے کہ ابراہیم کو نامحرم خواتین سے الرجی تھی۔
امام محمد باقر علیہ السلام کا کس قدر پیارا فرمان ہے: ’’نامحرم خواتین سے گفتگو کرنا شیطان کے تیروں میں سے ایک ہے۔‘‘
*****
ابراہیم کھانا کھلانے کو بہت زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ ہمیشہ اپنے دوستوں کی اپنے گھر دعوت کرتا اور انہیں کھانا کھلاتا تھا۔ جن دنوں وہ زخمی ہونے کی وجہ سے گھر پر ہی تھا تو روزانہ کھانے کا اہتمام کرتا، جو کوئی بھی اس کی ملاقات کو آیا ہوتا اسے اپنے دسترخوان پر بٹھا لیتا، اس کی مہمان نوازی کرتا اور اس کام سے لطف اندوز ہوتا۔ وہ اپنے دوستوں سے کہتا تھا: ’’ہم تو وسیلہ ہیں۔ یہ رزق تمہارا ہی ہے۔ مومنین کا رزق بابرکت ہوتا ہے۔۔۔‘‘
انجمنوں اور مذہبی پروگراموں میں بھی وہ ایسا ہی تھا۔ جب دیکھتا کہ میزبان کو مہمان نوازی میں کچھ مشکل پیش آ رہی تو بغیر کچھ کہے سب مہمانوں اور عزاداروں کے لیے کھانا بنا دیتا۔ وہ کہتا تھا: ’’مجلس امام حسین علیہ السلام کو ہر لحاظ سے مکمل ہونا چاہیے۔‘‘
ہر شب جمعہ کو بھی بسیج کے پروگراموں کے بعد دوستوں کے لیے کھانا بنایا کرتا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد ہم سب اکٹھے حضرت عبدالعظیم کی زیارت پر یا بہشت زہرا چلے جاتے۔
بسیج اور انجمن کے جوان اس عرصے کو کبھی بھی بھول نہیں سکتے۔ اگرچہ وہ خوبصورت اور ناقابل فراموش لمحات زیادہ عرصے تک باقی نہ رہ سکے۔
ایک بار میں نے ابراہیم سے کہا: ’’بھائی، یہ اتنے پیسے تم کہاں سے لاتے ہو؟! محکمہ تعلیم و تربیت سے ماہانہ دو ہزار تومان تنخواہ لیتے ہو لیکن اس سے کئی گنا زیادہ دوسروں پر خرچ کر دیتے ہو۔‘‘
میرے چہرے پر اپنی نگاہیں ڈالتے ہوئےکہنے لگا: ’’روزی دینے والا خدا ہے۔ میں تو ان پروگرموں میں فقط وسیلہ ہوں۔ میں نے خدا سے دعا کی ہے کہ کسی وقت بھی میری جیب خالی نہ رہے۔ خدا بھی وہاں وہاں سے میرے لیے خیر و برکت کے اسباب پیدا کر دیتا ہے جہاں سےمیری توقع بھی نہیں ہوتی۔‘‘
عوام کی حاجات اور نعمتِ پروردگار
[شہیدؒ کے بعض دوست]
میں ابراہیم کے ساتھ تھا اور ہم دونوں کہیں دور سے اپنے گھر کی طرف واپس آ رہے تھے۔ ایک معمر شخص اپنی بیوی بچوں کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ اس نے ہاتھ ہلایا تو میں نے موٹر سائیکل روک لی۔ اس نے ایک جگہ کا پتا معلوم کیا اور ہمارا جواب سننے کے بعد اپنی مشکلات بیان کرنا شروع کر دیں۔ اس کی ظاہری وضع قطع سے بالکل نہیں لگتا تھا کہ وہ کوئی نشئی یا گداگر ہے۔ ابراہیم نے موٹر سائیکل سے اتر کر اپنی جیبیں ٹٹولنا شروع کر دیں لیکن اسے کچھ نہ ملا۔
مجھے کہنے لگا: ’’امیر، تمہارے پاس کچھ ہے؟‘‘ میں نے بھی اپنی جیبوں میں ہاتھ مارا مگر اتفاق سے میرے پاس بھی اس وقت ایک پیسہ تک نہ تھا۔
ابراہیم کہنے لگا: ’’تمہیں خدا کا واسطہ، ایک بار پھر دیکھو۔‘‘ میں نے دوبارہ دیکھا مگر کچھ بھی نہ ملا۔
ہم نے اس معمر شخص سے معذرت کی اور اپنی راہ لی۔ راستے میں میں نے موٹرسائیکل کے عقبی شیشے سے ابراہیم کو دیکھا کہ وہ رو رہا تھا۔
اتنی سردی بھی نہیں تھی کہ اس کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ہوں، لہٰذا میں نے موٹر سائیکل کو سڑک کنارے کھڑا کیا اور حیرانی سے پوچھا: ’’ابرام جان، رو رہے ہو؟!‘‘
اس نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: ’’ہم ایک ضرورتمند انسان کی مدد نہ کر سکے۔‘‘
میں نے کہا: ’’ہمارے پاس پیسے بھی تو نہیں تھے، لہٰذا ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔‘‘
کہنے لگا: ’’میں جانتا ہوں مگر میرا دل اس کے لیے کڑھ رہا ہے۔ ہمیں اس کی مدد کی توفیق نہ ہو سکی۔‘‘
میں خاموش ہو گیا اور کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد ہم چل پڑے۔ لیکن مجھے ابراہیم کی نیک نیتی اور صاف دلی پر بہت رشک آنے لگا۔
اگلے دن میں ابراہیم سے ملا تو وہ کہنے لگا: ’’آئندہ میں پیسوں کے بغیر کبھی گھر سے باہر نہیں نکلوں گا تا کہ کل جیسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔‘‘
ابراہیم کی طرف سے لوگوں کی مشکلات حل کرنے پر مجھے حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی وہ خوبصورت حدیث یاد آ گئی، جس میں آپؑ فرماتے ہیں: ’’لوگوں کی حاجتوں کا تمہاری طرف پلٹنا تم پر خدا کی ایک نعمت ہے، لہٰذا اسے پورا کرنے میں کوتاہی نہ برتو کیونکہ یہ نعمت ختم ہو جانے والی ہوتی ہے۔[4]‘‘
*****
ابراہیم زخمی ہونے کی وجہ سے چھٹیوں پر تھا۔ اس کی چھٹیوں کے آخری ایام تھے۔ ایک دن اس نے میرے گھر کی دروازے کی گھنٹی بجائی اور سلام و احوال پرسی کے بعد کہنے لگا: ’’آج تمہیں گاڑی کی ضرورت تو نہیں ہے؟‘‘
میں نے کہا: ’’نہیں، ایسے ہی گھر کے سامنے کھڑی ہے۔‘‘
اس نے مجھ سے گاڑی لی اور کہنے لگا: ’’سہ پہر تک واپس آ جاؤں گا۔‘‘
سہ پہر کے وقت وہ گاڑی لے آیا۔ میں نے پوچھا: ’’کہاں جانا تھا؟!‘‘
کہنے لگا: ’’کہیں نہیں، بس کچھ سواریاں کرائے پر لے کر گیا تھا۔‘‘
میں نے ہنس کر کہا: ’’مذاق کر رہے ہو؟!‘‘
اس نے جواب دیا: ’’نہیں، اچھا، اگر فارغ ہو تو اٹھو چلیں، کچھ کام ہیں۔‘‘
میں گھر کے اندر جانے لگا تو وہ مجھے کہنے لگا: ’’اگر گھر میں چاول، تیل وغیرہ کچھ اضافی پڑا ہو تو لیتے آنا۔‘‘
میں گھر کے اندر گیا اور کچھ چاول اور تیل لے آیا۔ اس کے بعد ہم ایک دکان پر گئے۔ ابراہیم نے وہاں سےتھوڑا گوشت اور مرغی وغیرہ خریدی اور آ کر سوار ہو گیا۔ وہ دکان دار کو ٹوٹے ہوئے پیسے دےرہا تھا تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی پیسے ہیں جو اس نے سواریاں ڈھو کر جمع کیے ہیں۔
اس کے بعد ہم شہر کے جنوبی حصے کی طرف چلے گئے۔ وہاں کچھ لوگوں کے گھروں میں گئے۔ میں انہیں نہیں جانتا تھا۔ ابراہیم دروازہ کھٹکھٹاتا اور سامان انہیں دے کر کہتا: ’’ہم محاذ سے آئے ہیں۔ یہ آپ لوگوں کا حصہ ہے۔‘‘ وہ ایسے بات کرتا تھا کہ مخاطب کو کسی قسم کا احساسِ شرمندگی نہ ہو۔ حتی کہ وہ اپنا تعارف تک نہیں کرواتا تھا۔
یہ تو مجھے بعد میں پتا چلا کہ جن گھروں میں ہم گئے تھے وہ کچھ مجاہدین کے گھر تھے۔ ان خاندانوں کے مرد محاذ پر مصروفِ جنگ تھے جس کی وجہ ابراہیم ان کی دیکھ بھال کرتا رہتا تھا۔ اس کے کاموں نے مجھے امام صادق علیہ السلام کی یہ حدیث یاد دلا دی: ’’ایک مسلمان کی حاجت برآوری کے کوشش کرنا ستر بار خانہ خدا کا طواف کرنے سے بہتر اور قیامت کے دن حفظ و امان کا باعث ہے۔[5]‘‘
یہ نورانی حدیث ابراہیم کی زندگی کے لیے مشعلِ راہ تھی۔ وہ اپنی ساری کوششیں لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں صرف کیا کرتا تھا۔
*****
ہائی سکول کے دوران ابراہیم سہ پہر کو بازار میں کام کیا کرتا تھا اور اس سے اپنے لیے کچھ جمع خرچ اکٹھا کر لیا کرتا تھا۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے ہمسائے میں ایک خاندان شدید مالی مشکل کا شکار ہے۔ اس خاندان کا مرد شہید ہونے کی وجہ سے کوئی ان کی کفالت کرنے والا نہ تھا۔
ابراہیم نے کسی کو کچھ نہ بتایا۔ ہر ماہ جب بھی وہ تنخواہ لیتا تو اس خاندان کی زیادہ تر مالی ضرورت پوری کر دیا کرتا تھا۔ جب بھی گھر میں زیادہ کھانا پکتا تو وہ حتماً انہیں بھی بھیج دیتا۔ کئی سال بلکہ اس کی شہادت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ سوائے اس کی ماں کے کسی اور کو اس بات کی خبر نہیں تھی۔
*****
ایک شخص ابراہیم کےپاس آیا تھا۔ وہ پہلے آبدار[6] تھا اور اب بے روزگار ہو چکا تھا۔ وہ ابراہیم سے کچھ مالی مدد چاہتا تھا۔ ابراہیم نے اس کی مالی مدد کرنے کی بجائے اپنے کچھ دوستوں سے مل کر اس کے لیے مناسب نوکری کا انتظام کر دیا۔ اس سے جتنا ہو سکتا، لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرتا۔ اگر خود انجام نہ دے سکتا تو اپنے دوستوں کے پاس چلا جاتا اور ان سے مدد کا تقاضا کرتا۔ لیکن اس کام میں وہ ایک بات کا خاص خیال رکھتا تھا کہ لوگوں کی مدد کرتے کرتے گداپروری کی حد تک نہ پہنچ جائے۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں سے کہتا تھا: ’’اس سے پہلے کہ محتاج انسان اپنی عزت نفس خراب کر کے تمہارے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائے، تم اس کی مشکلات حل کر دیا کرو۔‘‘
اس کے دوستوں میں سے جو کوئی بھی کسی مشکل میں گرفتار ہوتا یا اسے اندازہ ہو جاتا کہ اسے کوئی مالی پریشانی ہے تو اس سے پہلے کہ وہ اس سے کسی مدد کا تقاضا کرتا وہ خود ہی اس کی مخفیانہ انداز میں مدد کر دیتا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیتا: ’’مجھے فی الحال ان کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی میں تمہیں قرض دے رہا ہوں۔ جب بھی ہوئے لوٹا دینا۔ یہ پیسے قرض الحسنہ ہیں۔‘‘
ابراہیم نے کبھی ان پیسوں کا حساب نہیں کیا تھا۔ وہ مدد کرتے وقت لوگوں کی عزت و آبرو کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ہمیشہ ایسا رویہ اپناتا کہ مخاطب کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
*****
علمائے دین ہمیشہ اس بات کی نصیحت کرتے رہے ہیں کہ اپنی مشکلات حل کرنے کے لیے جہاں تک ہو سکے لوگوں کی مشکلات حل کریں۔ اسی طرح وہ اس بات کی تاکید بھی کرتے رہے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے لوگوں کے اطعام اور کھانے پینے کا اہتمام کریں اور اس ذریعے سے بہت سی مصیبتوں سے نجات حاصل کریں۔
ماہِ رمضان میں ایک دن غروب کے وقت ابراہیم ہمارے گھر آیا اور سلام و احوال پرسی کے بعد مجھ سے ایک دیگچہ لے کر سری پائے کی ایک دکان میں داخل ہو گیا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے آیا اور کہا: ’’ابرام جون، افطاری میں سری پائے! واہ، مزہ آ جائے گا!!‘‘
وہ کہنے لگا: ’’تم سچ کہتے ہیں، لیکن یہ میرے لیے نہیں ہے۔‘‘
اس نے سری پائے اور کچھ سنگک[7] روٹیاں لیں۔ جب باہر آیا تو ایرج بھی موٹرسائیکل لے کر پہنچ گیا۔ ابراہیم اس کے ساتھ بیٹھا اور خداحافظ کہہ کر چلا گیا۔
میں نے سوچاکہ حتماً کچھ دوست جمع ہوئے ہوں اور افطاری کریں گے۔ اس نے مجھے پوچھا تک نہیں تھا جو مجھے بہت برا لگا۔ اگلے دن میں ایرج سے ملا اور اس سے پوچھا: ’’کل تم کہاں گئے تھے؟!‘‘
اس نے جواب دیا: ’’چہل تن پارک کے پیچھے گلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ ہم نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سری پائے انہیں دے دیے۔ کچھ بچے اور ایک معمر شخص جو دروازے پر آئے تھے، بہت زیادہ شکریہ ادا کر رہے تھے۔ وہ ابراہیم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ بہت ہی مستحق خاندان تھا۔ اس کے بعد میں نے ابراہیم کو اس کے گھر چھوڑ دیا۔‘‘
*****
ابراہیم کی شہادت کو 26 سال گزر چکے تھے۔ میں نے ایک رات خواب میں ابراہیم کو دیکھا۔ وہ ایک فوجی گاڑی پر سوار ہو کر تہران آیا ہوا تھا۔
خوشی کے مارے مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ ابراہیم کا چہرہ کافی نورانی تھا۔ میں آگے بڑھا اور اس سے بغلگیر ہو گیا۔ میں خوشی سے چلّا رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ’’دوستو، آؤ، آغا ابراہیم واپس آ گئے ہیں۔‘‘
ابراہیم نے کہا: ’’آؤ، سوار ہو جاؤ۔ بہت کام پڑے ہیں۔‘‘
ہم اکٹھے ایک بلند عمارت کے پاس پہنچ گئے۔ انجینئرز اور عمارت کے مالک سب نے ابراہیم کے ساتھ سلام و احوال پرسی کی۔ سب اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ ابراہیم نے عمارت کے مالک کی طرف رُخ کر کے کہا: ’’میں اُن سید کی سفارش کرنے آیا ہوں۔ اس عمارت کا ایک فلیٹ ان کے نام کر دیں۔‘‘ اس کے بعد اس نے ہم سے دور کھڑے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔
عمارت کا مالک کہنے لگا: ’’آغا ابرام، اس شخص کے پاس نہ تو پیسے ہیں اور نہ ہی یہ کہیں سے قرض لے سکتا ہے۔ میں کس طرح ایک فلیٹ اسے دے دوں؟‘‘
میں نے بھی اس کی بات کی تائید کرتے ہوئے ابراہیم سے کہا: ’’ابرام جان، ان باتوں کے زمانے گئے۔ اب تو سب لوگ فقط پیسے کو جانتے ہیں۔‘‘
ابراہیم نے ایک معنی خیز نگاہ سے مجھے دیکھ کر کہا: ’’میں اگر لوٹ کر آیا ہوں تو فقط اسی وجہ سے کہ ان جیسے کچھ لوگوں کی مشکل حل کروں، ورنہ میرا یہاں اور کوئی کام نہیں تھا۔‘‘
اس کے بعد وہ گاڑی کی طرف چل پڑا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا کہ اچانک میرے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی جس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔
خمس
[مصطفیٰ صفار ہرندی]
جن علماء سے ابراہیم کو خاص ارادت تھی ان میں سے ایک مرحوم حاج آغا ہرندی بھی تھے۔
یہ نیک طینت عالم دین نماز کے علاوہ باقی اوقات میں کپڑے بیچنے کا کاروبار کیا کرتے تھے۔
1981 کے موسم گرما کے آخری ایام تھے۔ میں اور ابراہیم ان محترم عالم دین کی خدمت میں گئے اور دو شرٹوں کا کپڑا ان سے خریدا۔
ہفتے بعد نماز کے وقت میں نے دیکھا کہ ابراہیم مسجد میں آیا اور حاج آغا کے پاس چلا گیا۔
میں بھی گیا کہ دیکھوں کیا ہوا ہے؟ ابراہیم اپنے پورے سال اور اپنے مال کے خمس کا حساب کر رہا تھا۔
میری ہنسی نکل گئی۔ وہ خود اپنے لیے کچھ بھی بچا کر نہیں رکھتا تھا۔ جو کچھ بھی اس کے پاس ہوتا وہ اسے دوسروں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا۔ تو پھر یہ کس چیز کے خمس کا حساب کر رہا ہے؟!
حاج آغا نے پورے سال کا حساب کیا اور کہا: ’’تمہارا خمس 400 تومان بنتا ہے۔‘‘ اس کے بعد کہا: ’’مجھے مراجع کرام کی طرف سے جو اجازہ حاصل ہے اور تمہیں اچھی طرح پہچانتا بھی ہوں لہٰذا یہ خمس تمہیں معاف کرتا ہوں۔‘‘
لیکن ابراہیم اصرار کر رہا تھا کہ وہ اس دینی واجب کو ادا کرنا چاہتا ہے۔ بالآخر وہ خمس دے کر ہی اٹھا۔
ابراہیم کے اس کام سے مجھے امام صادق علیہ السلام کی یہ حدیث مبارک یاد آگئی: ’’جو شخص خدا کے حق کو ادا نہیں کرتا تو اس کا دگنا وہ باطل راستے میں خرچ کر دے گا۔[8]‘‘
نماز کے بعد میں اور ابراہیم حاج آغا کی دکان پر چلے گئے۔ ابراہیم نے انہیں کہا: ’’اس دن کی طرح دو شرٹس کا کپڑا اور چاہیے۔‘‘
حاج آغا نے تعجب سے دیکھتےہوئے کہا: ’’بیٹا، ابھی کچھ دن پہلے ہی تو تم نے مجھ سے کپڑا لیا ہے۔ یہ سرکاری کپڑا ہے۔ ہمیں ایک خاص مقدار سے زیادہ کسی کو دینے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
ابراہیم نے کچھ نہ کہا مگر میں سارا ماجرا جانتا تھا۔ اس لیے میں نے کہا: حاج آغا، ابراہیم نے پہلے والی دونوں شرٹس کسی ضرورتمند کو دے دی ہیں۔ اکھاڑے میں بعض جوان ایسے ہیں جو چھوٹی آستینوں والی شرٹس پہنتے ہیں یا ان کی مالی حالت اچھی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ابراہیم شرٹس انہیں دے دیتا ہے۔‘‘
حاج آغا جو حیرت سے میری باتیں سن رہے تھے، ابراہیم کے چہرے پر ایک گہری نگاہ ڈال کر بولے: ’’اس دفعہ تمہارے لیے کپڑا کاٹوں گا لیکن تم اسے کسی اور کو دینےکا حق نہیں رکھتے۔ جسے بھی کپڑا چاہیے اسے اس دکان پر بھیج دو۔‘‘
ہم تجھے چاہتے ہیں
[جواد مجلسی]
1982 کی خزاں کے دن تھے۔ ہم ایک بار پھر ابراہیم کے ساتھ جنگی علاقوں کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ اس بار سب مجالس میں ابراہیم کا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے توسل کا تذکرہ تھا۔ ہم جہاں بھی جاتے اسی کی بات ہو رہی ہوتی۔
بہت سے مجاہد بھائی مختلف حملوں میں ابراہیم کی بہادری اور شجاعت کی داستانیں سناتے رہے۔ یہ ساری کامیابیاں حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا سے توسل کی برکت سے تھیں۔
ہم سومار کے علاقے میں گئے۔ جس مورچے میں بھی جاتے، ابراہیم سے یہی مطالبہ کیا جاتا کہ وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب پڑھے۔
رات کا وقت تھا۔ ابراہیم نے ایک بٹالین کے جوانوں میں پڑھنا شروع کر دیا۔ تھکاوٹ اور مجالس کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے اس کی آواز بیٹھ گئی تھی۔
مجلس ختم ہوئی تو ایک دو دوستوں نے ابراہیم سے مذاق کرتے ہوئے اس کی آواز کی نقل اتاری۔ اس کے بعد کچھ ایسی باتیں بھی کیں کہ ابراہیم ان سے بہت ناراض ہو گیا۔
اس رات سونے سے پہلے ابراہیم کافی غصے میں تھا۔ کہنے لگا: ’’میری اپنی بات ہوتی تو کوئی مضائقہ نہیں تھا مگر ان لوگوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مجلس کے ساتھ مذاق کیا ہے، لہٰذا آئندہ میں نہیں پڑھوں گا۔‘‘
میں نے بہتیرا سمجھایا کہ دوستوں کی باتوں کو دل پر مت لو، تم اپنا کام جاری رکھو مگر وہ نہ مانا۔
رات کے آخری پہر ہم اپنے کیمپ میں واپس آ گئے۔ اس نے دوبارہ قسم کھائی کہ آئندہ ذاکری نہیں کرے گا۔
رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے۔ میں تھک ہار کر سو گیا۔
فجر کی اذان سے پہلے مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرا ہاتھ ہلا رہا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں کو جھٹ سے کھولا تو ابراہیم کا نورانی چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ اس نے مجھ سے کہا: ’’اٹھو، اذان کا وقت ہو گیا ہے۔‘‘
میں اٹھ بیٹھا اور اپنے آپ سے کہا: ’’اس بندہ خدا کو نہیں معلوم کہ تھکاوٹ کیا ہوتی ہے؟‘‘ البتہ اتنا مجھے معلوم تھا کہ وہ جس وقت بھی سوئے، اذان سے پہلے بیدار ہو کر نماز میں مشغول ہو جاتا ہے۔
ابراہیم نے دوسرے دوستوں کو بھی جگایا۔ اس کے بعد اذان دی اور نماز فجر ادا کرنے لگا۔
نماز و تسبیحات کے بعد وہ دعا پڑھنے لگا اور اس کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل پڑھے۔
ابراہیم کے خوبصورت اشعار نے سب جوانوں کی آنکھوں کو اشک آلود کر دیا تھا۔ میں، جو گذشتہ رات کو ابراہیم کی قسم سن چکا تھا، سب سے زیادہ حیران تھا لیکن میں نے کچھ نہیں کہا۔
ناشتے کے بعد ہم جوانوں کے ساتھ سومار واپس آ گئے۔ سارا راستہ میں اس کے عجیب و غریب کاموں کے بارے میں سوچتا رہا۔
ابراہیم نے ایک معنی خیز نگاہ مجھ پر کی اور کہا: ’’تم یہی پوچھنا چاہتے ہو نا کہ میں نے قسم کھانے کے باوجود ذاکری کیوں کی؟‘‘
میں نے کہا: ’’بالکل، تم نے رات کو قسم کھائی تھی کہ۔۔۔‘‘
اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’جو بات میں تمہیں بتانے والا ہوں، جب تک میں زندہ ہوں تم کسی سے نہیں کہو گے۔‘‘
پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولا: ’’گذشتہ رات مجھے نیند نہیں آ رہی تھی لیکن آدھی رات کو ہلکی سی آنکھ لگ گئی۔ اچانک میں نے دیکھا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا بنفس نفیس تشریف لائیں اور مجھے کہا: یہ مت کہو کہ میں نہیں پڑھتا۔ ہم تم سے محبت کرتے ہیں۔ جو کوئی بھی کہتا ہے کہ پڑھو تو تم ضرور پڑھو۔‘‘
پھر وہ اتنا رویا کہ بات کرنا اس کے لیے دوبھر ہو گیا۔ اس کے بعد ابراہیم نے ذاکری کو جاری رکھا۔
[1] میزان الحکمۃ: ج10، ص72
[2] سورہ فرقان: 63
[3] غرر الحکم: ص538
[4] بحار الانوار: ج78، ص121
[5] بحار الانوار: ج74، ص318
[6] اردو میں ’’آبدارچی‘‘ کا ہم معنی ’’آبدار‘‘ ہے۔ یعنی وہ شخص جو اداروں یا کسی رئیس کے گھر میں پانی وغیرہ پلانے کے نوکری پر مامور ہو۔ آج کل اسے آفس بوائے کہا جاتا ہے۔
[7] ایران میں روٹی کی ایک قسم۔