فتح المبین
[شہیدؒ کے کچھ دوست]
خوزستان میں سب سے پہلے ہم لوگ شہر شوش میں گئے جہاں پیغمبر خدا حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کی۔
وہاں اطلاع ملی کہ تمام رضاکار فوجی جوانوں (جو آج کل بسیجی کے نام سے مشہور ہو چکے ہیں) کو مختلف جنگی بٹالینز اور بریگیڈز میں تقسیم کر کے بڑے حملوں کے لیے انہیں آمادہ کیا جائے گا۔
زیارت کے دوران حاج علی فضلی پر ہماری نظر پڑ گئی۔ انہوں نے بھی گرمجوشی سےہمارا استقبال کیا۔ حاج علی فوجیوں کی تقسیم بندی کے ساتھ ہی ہمیں اپنے ساتھ المہدی (عج) بریگیڈ لے گئے۔ اس بریگیڈ میں کچھ بٹالینز بسیجی جوانوں کی اور کچھ بٹالینز فوجیوں کی تھیں۔
حاج حسین نے بھی اندرزگو گروپ کے جوانوں کو بٹالینز میں تقسیم کیا۔ اندرزگو کے اکثر جوانوں نے ریکی اور جاسوسی کی ذمہ داریاں اپنے سر لے لیں۔
کسی بٹالین کے ساتھ رضا گودینی تھا، کسی کے ساتھ جواد افراسیابی اور کسی کے ساتھ ابراہیم۔
فوجیوں کی تیاری کا کام بہت جلدی سے انجام پا گیا۔ سپاہ کے لیے جاسوسی کے فرائض سرانجام دینے والے جوانوں کو اس محاذ پر کام کرتے کئی ماہ ہو چکے تھے۔
دشمن کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کی جاسوسی کا مرحلہ مکمل ہو چکا تھا حتی کہ عراقی فوج کی بٹالینز اور بریگیڈز کے ٹھکانے تک مشخص ہو چکے تھے۔ 21 مارچ 1982 کو ’’یا زہرا سلام اللہ علیہا‘‘ کے کوڈ ورڈ کے ساتھ معرکہ فتح المبین کا آغاز ہو گیا۔
اسی دن سہ پہر کے وقت سپاہ کی طرف سے بٹالینز کے کمانڈرز اور ڈپٹی کمانڈرز کو حملے والے علاقے میں لے جایا گیا اور دور ہی سے اس علاقے اور اس میں ہونے والے حملے کی وضاحت کر دی گئی۔ اس حملے کی سب سے بھاری اور سخت ذمہ داری المہدی بریگیڈ کی بٹالینز کے سپرد کی گئی۔
21 مارچ 1982 کو جیسے ہی مغرب کا وقت نزدیک ہوا تو جوانوں کا جوش و جذبہ بڑھ گیا۔ نماز کے بعد فوج حرکت میں آ گئی۔
میں ایک لمحے کے لیے بھی ابراہیم سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ بالآخر ہماری بٹالین نے بھی حرکت کی لیکن کسی وجہ سے میں اور ابراہیم پیچھے رہ گئے۔ رات اڑھائی بجے ہم بھی چل پڑے۔ رات کی تاریکی میں ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں ایک میدان کے وسط میں بٹالین کے جوان بیٹھے ہوئے تھے۔ ابراہیم نے پوچھا: ’’تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہیں تو دشمن کی سرحد پر حملہ کرنا تھا۔‘‘
انہوں نے جواب دیا: ’’کمانڈر کا یہی حکم ہے۔‘‘ میں اور ابراہیم نے آگے بڑھ کر کمانڈر سے پوچھا: ’’آپ نے جوانوں کو اس میدان میں کیوں ٹھہرا دیا ہے؟ ابھی تھوڑی دیر بعد اجالا ہو جائے گا۔ یہاں ان کے لیے نہ تو کوئی جائے پناہ ہے او ر نہ ہی کوئی مورچہ۔ یہ مکمل طور پر دشمن کی گولیوں کی زد میں ہیں۔‘‘
کمانڈر نے کہا: ’’ہمارے آگے بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ہمارے پاس کوئی بم ڈسپوزل سکواڈ کا کوئی ماہر بھی نہیں ہے۔ میں نے ہیڈ کوارٹر میں فون کیا ہوا ہے۔ بندہ راستے ہی میں ہے۔‘‘ ابراہیم نے کہا: ’’اتنی دیر تک تو انتظار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ اس کے بعد اس نے جوانوں کی طرف رُخ کر کے کہا: ’’اپنی جان پر کھیل سکنے والے کچھ رضاکار میرے ساتھ آئیں تا کہ ہم راستہ کھول سکیں۔‘‘
کچھ جوان اس کی طرف دوڑتے ہوئے آ گئے۔ ابراہیم بارودی سرنگوں سے بھرے میدان میں اتر گیا۔ وہ اپنا پاؤں زمین پر گھسیٹتا اور آگے کی طرف بڑھ جاتا۔ باقی جوان بھی ایسا ہی کر رہے تھے۔
میں ہکا بکا ابراہیم کو دیکھ رہا تھا۔ میرا سانس سینے میں اٹک کر رہ گیا تھا۔ میں بٹالین کے جوانوں کے ساتھ کھڑا تھا اور وہ بارودی سرنگوں والے میدان میں۔
میرے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ میں ہر لحظہ سرنگ پھٹنے اور ابراہیم کی شہادت کا منتظر تھا۔ یہ لمحات بہت مشکل سے گزر رہے تھے۔ لیکن وہ میدان عبور کر کے اس پار پہنچ چکے تھے۔ خدا کا شکر کہ اس راستے میں کوئی سرنگ نہ پھٹ سکی۔
اس رات بارودی سرنگوں سے بھرے اس میدان کو عبور کرنے کے بعد ہم نے دشمن کے مورچوں پر حملہ کر کے ان کے ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا لیکن ہم اس سے زیادہ آگے نہ بڑھے۔
صبح کے نزدیک ابراہیم کے پہلو میں ایک گولی آن لگی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ ہمارے جوان اسے جلدی اٹھا کر پیچھے لے آئے۔ جب صبح ہو چکی تو طے پایا کہ ابراہیم کو جہاز کے ذریعے کسی شہر میں منتقل کر دیا جائے لیکن وہ ضد کر کے جہاز سے اتر آیا۔ ڈسپنسری میں زخم کو ٹانکے لگوانے اور پٹی بندھوانے کے بعد وہ دوبارہ سرحد پر آ گیا اور جوانوں کے ساتھ شامل ہو گیا۔
پہلی رات کے حملے میں ہماری بٹالین کے کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر بھی زخمی ہو گئے، جس کی وجہ سے علی موحد ہماری بٹالین کے کمانڈر مقرر کیے گئے۔
اسی روزکچھ افسران کی میٹنگ ہوئی جس میں محسن وزوایی بھی شامل تھے۔ حملے کے اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی افسران کے گوش گزار کی گئی۔
اس مرحلے میں سب سے اہم کام دشمن کے بھاری توپخانے پر قبضہ اور پل رفائیہ کو عبور کرنا تھا۔ سپاہ کے جاسوس جوان کافی دن تک اس منصوبہ بندی میں مصروف رہے تھے۔ اگلے مراحل میں کامیابی کا سارا انحصار اسی مرحلے کی کامیابی پر تھا۔
اگلی رات پھر فوجی جوان حرکت میں آ گئے اور چل پڑے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ باقی جوانوں سے آگے آگے چل رہا تھا۔ اس کے پیچھے علی موحد، ابراہیم اور باقی جوان تھے۔
ہم لوگ کافی دیر تک چلتے رہے مگر دشمن کے مورچوں اور توپخانے تک نہ پہنچ سکے۔ چھ کلومیٹر چلنے کے بعد تھکاوٹ سے چور ہو کر ایک میدان میں جا کر بیٹھ گئے۔ علی موحد اور ابراہیم ادھر ادھر گھومتے رہے مگر دشمن کے توپخانے کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ ہم لوگ دشمن کے ٹھکانوں اور اس میدان میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود بھی جوانوں میں ایک عجیب طرح کا اطمینان اور سکون موجزن تھا۔ وہ اتنے پُرسکون تھے کہ سبھی تقریباً آدھے گھنٹے تک سوتے رہے۔
بعد میں ابراہیم نے مجلہ پیام انقلاب شمارہ مارچ 1982 کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا: ’’اس رات ہم نے آس پاس بہت تلاش کیا مگر صحرا کے علاوہ کوئی چیز ہمیں نظر نہیں آتی تھی، لہٰذا ہم وہیں سجدے میں پڑ گئے اور کچھ منٹ تک اسی حالت میں پڑے رہے۔ اس حالت میں ہم خدا کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے واسطے دیتے رہے۔‘‘
اس نے یہ بھی بتایا تھا: ’’اس صحرا میں ہم تھے اور امام زمانہ (عج)۔ ہم فقط اپنے امام کو پکار رہے تھے اور ان سے مدد مانگ رہے تھے۔ ہمیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا کریں۔ ہمارے ذہن میں جو چیز رہ رہ کر آ رہی تھی وہ امام زمانہ (عج) سے توسل ہی تھا۔‘‘
*****
کسی کو بھی اس بات کی سمجھ نہ آ سکی کہ اس رات کیا ماجرا ہوا۔ اس عجیب و غریب سجدے میں ان کے اور خدا کے درمیان کیا راز و نیازہوئے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ابراہیم اس جگہ سے جہاں سارے جوان آرام کر رہے تھے، بائیں طرف چلا گیا۔ تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ ایک مورچے تک پہنچ گیا۔ جب اس نے مورچے کی پشت پر دیکھا تو کافی تعداد میں توپیں اور بھاری اسلحہ اسے نظر آیا۔
عراقی فوجی پورے اطمینان سے آرام کر رہے تھے۔ فقط تھوری سی تعداد میں نگہبان صحن کے درمیان دکھائی دے رہے تھے۔ ابراہیم جلدی سے اپنی بٹالین کی طرف واپس لوٹ آیا۔
اس نے سارا ماجرا علی موحد سے کہہ ڈالا۔ اس کے بعد وہ جوانوں کو اس مورچے کے عقب میں لے آئے۔ راستے میں انہوں نے اپنے جوانوں کو سمجھا دیا تھاکہ: ’’جب تک ہم نہ کہیں کوئی شخص گولی نہیں چلائے گا۔ دشمن سے مڈبھیڑ کی صورت میں بھی زیادہ کوشش یہی کی جائے کہ انہیں اسیر کیا جائے۔‘‘
دوسری طرف محسن وزوایی کی کمانڈ میں حبیب بٹالین نے بھی توپخانے پر حملہ کر دیا تھا۔
اس رات ہمارے جوان معمولی سی جھڑپ اور اللہ اکبر اور یا زہرا سلام اللہ علیہا کے فلگ شگاف نعروں کے ذریعے عراقی فوج کے توپخانے پر قبضہ کرنے اور بہت سے عراقیوں کو قیدی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ توپخانے پر ہمارے قبضے نے خوزستان میں عراقی فوج کو سخت مشکل سے دوچار کر دیا۔ جوانوں نے فوراً توپوں کے رخ عراق کی طرف موڑ دیے، لیکن توپخانے کے ماہر فوجیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اسے استعمال نہ کیا جا سکا۔
توپخانے پر قبضہ ہو گیا تو ہم اس کے آس پاس کے علاقے کی چھان بین میں مشغول ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ ابراہیم ایک عراقی افسر کو اپنے ساتھ لا رہا ہے۔
عراقی افسر کو اس نے بٹالین کے جوانوں کے حوالے کر دیا۔ میں نے پوچھا: ’’آغا ابرام، یہ کون تھا؟‘‘
اس نے جواب دیا: ’’کیمپ کے آس پاس میں گشت کر رہا تھا کہ اچانک یہ افسر میری طرف آگیا۔ بے چارہ جانتا نہیں تھا کہ یہ سارا علاقہ ہم نے ان سے آزاد کروا لیا ہے۔‘‘
میں نے اسے کہا کہ سرنڈر کر دو، لیکن اس نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ اس کے پاس اسلحہ نہیں تھا لہٰذا میں نے بھی اس کے ساتھ کشتی شروع کر دی اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔ اس کے بعد اس کے ہاتھ باندھ کر یہاں لے آیا۔
فجر کی نماز ہم نے توپخانے کے پاس ہی پڑی۔ امدادی دستےجیسے ہی پہنچے تو ہم نے اس صحرا میں مزید آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ ہمارے سامنے کا علاقہ ابھی تک مکمل طور پر دشمن سے پاک نہیں ہوا تھا۔
اچانک دو عراقی ٹینک ہماری طرف بڑھے لیکن پھر پلٹ کر فرار ہو گئے۔ ابراہیم جلدی سے ان میں سے ایک طرف دوڑ پڑا۔ اس کے بعد اچھل کر ایک ٹینک پر چڑھ گیا اور ٹینک کا دروازہ کھول دیا۔ اس کے بعد اس نے عربی میں کچھ کہا تو ٹینک اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور اس میں سے کچھ فوجی اتر پڑے جنہوں نے سرنڈر کر لیا۔
ابھی تک اجالا نہیں ہوا تھا۔ فوج کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا اور ہم آگے کی طرف بڑھنے لگے۔ راستےمیں میں نے ابراہیم سے کہا: ’’تم نے غور کیا کہ ہم نے دشمن کے توپخانے پر عقب سے حملہ کیا تھا!‘‘
اس نے تعجب سے پوچھا: ’’نہیں تو، مگر کیسے؟‘‘
میں نے کہا: ’’دشمن بھاری تعداد میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ توپخانے کے اگلے حصے میں ہمارا انتظار کرتا رہا مگر خدا کو یہی منظور تھا کہ ہم ایک اور راستے سے آ ئے اور توپخانے کے عقب میں پہنچ گئے۔ یہی وجہ تھی کہ اتنے اسیر اور مال غنیمت ہمارے ہاتھ لگ گیا۔ دوسری طرف دشمن رات دو بجے تک مکمل طور پر تیار کھڑا تھا، لیکن اس کے بعد اس کے سپاہی آرام کرنے لگے اور ہم نے ان پر حملہ کر دیا۔‘‘
ہم نے دوبارہ عراقی قیدیوں کو جمع کیا اور انہیں کچھ جوانوں کی نگرانی میں پیچھے بھیج دیا۔ باقی فوجیوں کو لے کر ہم اس حملے کے آخری مرحلے کو اپنے اختتام تک پہنچانے کے لیے مزید آگے بڑھ گئے۔
زخم
[مرتضیٰ پارسائیان، علی مقدم]
ساری بٹالینز اپنی اپنی جگہ سے پیش قدمی کر چکی تھیں۔ ہمیں اپنے سامنے ٹھہرے دشمن کے ٹھکانوں اور اس کے آس پاس کے مورچوں کو عبور کرنا تھا لیکن اجالا ہو جانے کی وجہ سے ہمارا کام کافی مشکل ہو چکا تھا۔
ایک جگہ پر پل رفائیہ کے نزدیک تو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک عراقی فوجی ایک مورچے سے مشین گن کے ذریعے مسلسل گولیاں برسائے جا رہا تھا اور ہمارے کسی ایک سپاہی کو بھی آگے بڑھنے نہیں دے رہا تھا۔ ہم نے لاکھ کوشش کی مگر اس کنکریٹ سے بنے مورچے کو تباہ نہ کر سکے۔
میں نے ابراہیم کو بلایا اور دور سے اسے وہ مورچہ دکھایا۔ اس نے غور سے مورچے کو دیکھنے کے بعد کہا: ’’اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس مورچے کے نزدیک جایا جائے اور اس پر ایک دستی بم پھینکا جائے۔‘‘
اس کے بعد اس نے مجھ سے دو دستی بم لیے اور سینے کے بل چلتے ہوئے دشمن کے مورچوں کی طرف بڑھنے لگا۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔
میں ایک مورچے میں جا کر چھپ گیا۔ ابراہیم آگے بڑھ رہا تھا اور میں اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس کنکریٹ والے مورچے کے نزدیکی مورچوں میں سے ایک میں مناسب جگہ ڈھونڈ لی لیکن اس وقت ایک عجیب واقعہ ہو گیا۔ اس مورچے میں ایک کم سن بسیجی جوان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنا اسلحہ ابراہیم کے سینے پر رکھ کر مسلسل چلّانے لگا: ’’عراقی، میں تمہیں مار ڈالوں گا۔‘‘
ابراہیم نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے ہاتھ اوپر کر لیے۔ وہ کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔ سب کی سانسیں سینے میں اٹک کر رہ گئی تھیں۔ ہمیں کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ اس صورت حال میں کیا کریں۔ کچھ دیر اسی طرح گزر گئی۔ مشین گن کی گولیاں رکنے کا نام ہی نہ لے رہی تھیں۔
میں سینے کے بل آہستہ آہستہ آگے کی طرف بڑھا او ر اپنے آپ کو اس مورچے تک پہنچایا۔ میں فقط دعا کر رہا تھا اور کہے جا رہا تھا: ’’خدایا، تو خود ہی ہماری مددفرما! کل رات سے اب تک دشمن کی طرف سے کوئی مشکل پیش نہیں آئی، لیکن اب اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
اچانک ابراہیم نے اس کے چہرے پر ایک تھپڑ مارا اور اسلحہ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ اس کے بعد اسے سینے سے لگا لیا۔ وہ جوان اب اپنے ہوش میں آیا تھا اور رونے لگا تھا۔ ابراہیم نے مجھے بلا کر اس نوجوان کو میرے حوالےکیا اور کہا: ’’میں نے آج تک کسی کے چہرے پر تھپڑ نہیں مارا تھا لیکن یہاں ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔‘‘ اس کے بعد وہ مشین گن والے مورچے کی طرف بڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد اس نے پہلا دستی بم پھینکا لیکن وہ نشانے پر نہ لگا۔ اس کے بعد اس نے اٹھ کر مورچے کی طرف دوڑنا شروع کر دیا اور دوڑتے دوڑتے دوسرا بم پھینک دیا۔ ایک لمحے بعد وہ مورچہ تباہ ہو گیا۔ سارے جوان اللہ اکبر کے نعرے لگاتے اپنی جگہ سے اٹھے اور آگے بڑھنے لگے۔ میں بھی خوشی خوشی جوانوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک ایک جوان کے اشارہ کرنے پر میں پلٹا تو مورچے سے باہر میری نظر پڑی۔
میرے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیا۔ ہونٹوں سےمسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔ ابراہیم خون میں لت پت زمین پر پڑا تھا۔ میں نے اپنا اسلحہ پھینکا اور اس کی طرف دوڑ لگا دی۔
عین دھماکے کےوقت ایک گولی اس کے منہ کے اندر اور ایک پاؤں کی پشت پر لگی تھی۔ اس سے کافی خون بہہ رہا تھا۔ وہ زمین پر تقریباً بے ہوش پڑا تھا۔ میں چلّانےلگا: ’’ابراہیم!‘‘
میں ایک جوان کی مدد سے گاڑی کے ذریعے ابراہیم اور کچھ دوسرے زخمی جوانوں کو دزفول میں واقع فوجی ڈسپنسری میں لے گیا۔
ابراہیم اس حملے کے آخری مرحلے تک موجود رہا تھا اور اس علاقے میں دشمن کے آخری مورچوں پر قبضے تک وہ کافی زخمی ہو چکا تھا۔
میں راستے بھر روتا رہا۔ میرا دل بہت بے قرار تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابراہیم۔۔۔ نہیں، اللہ نہ کرے۔ اوپر سے حملے کی پہلی رات کے زخم بھی ابراہیم کے بدن پر موجود تھے۔ اس کے بدن سے کافی خون بہہ چکا تھا۔ اب نہیں معلوم وہ ان سارے زخموں کو سہہ پائے گا بھی یا نہیں۔
دزفول کی ڈسپنسری میں موجود ڈاکٹر نے بتایا: ’’چہرے پر لگنے والی گولی معجزانہ طور پر گردن سے باہر نکل گئی ہے مگر اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ البتہ پاؤں پر جو گولی لگی ہے اس نے اس سے ہلنے جلنے کی قوت چھین کر رکھ دی ہے۔ پاؤں کی پشت والی ہڈی چور چور ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پہلو کا زخم بھی کھل گیا ہے جس سے کافی خون بہہ رہا ہے۔ لہٰذا اسے علاج کے لیے تہران لے کر جانا پڑے گا۔‘‘
ابراہیم تہران منتقل ہو گیا اور ایک ماہ تک نجمیہ ہسپتال میں داخل رہا۔ اس کے کئی آپریشن ہوئے جن کے نتیجے میں اس کے بدن سے چھروں کے کئی چھوٹے موٹے ٹکڑے نکال لیے گئے۔
ہسپتال میں جب ایک صحافی ابراہیم کا انٹرویو لینے آیا تو ابراہیم نے اسے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: ’’اگرچہ سب جوانوں نے ان حملوں میں کئی ماہ تک تکالیف اور مشقتیں جھیلیں اور جاسوسی کا فریضہ انجام دیا مگر خداوند کریم کی عنایت سے فتح المبین میں ہم نے کوئی زیادہ کام نہیں کیا۔ ہم تو فقط راستہ چلتے رہے اور ہمارا نعرہ یا زہراء سلام اللہ علیہا تھا۔ وہاں جو کچھ بھی پیش آیا وہ خود خاتون دوعالم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نظر عنایت تھی۔‘‘
ابراہیم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا تھا: ’’ہم جس وقت صحرا میں اپنے جوانوں کو لیے اِدھر اُدھر بھٹک رہے تھے اور سب تھکاوٹ سے چور ہو چکے تھے تو میں سجدے میں چلا گیا اور امام زمانہ (عج) سے توسل کیا۔ میں نے امام سے درخواست کی کہ وہ خود ہی ہمیں کوئی راستہ دکھائیں۔ جس وقت میں نے سجدے سے سر اٹھایا تو دیکھا کہ سب جوان ایک عجیب سے اطمینان و سکون کی حالت میں سو رہے ہیں۔ ٹھنڈی ٹھنڈی نسیم چل رہی تھی۔ میں نے نسیم کے رُخ پر چلنا شروع کر دیا۔ ابھی زیادہ دور نہ گیا تھا کہ توپخانے کے آس پاس کے مورچوں تک پہنچ گیا۔‘‘
آخر میں جب صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے تو ابراہیم نے جواب دیا تھا: ’’ہم ان لوگوں سے شرمسار ہیں کہ جو اپنا پیٹ کاٹ کر ہم مجاہدوں کےلیے کھانا بھیجتے ہیں۔ میں بھی اسی وقت اپنے آپ کو اس قرض سے سبکدوش سمجھوں گا جب میرا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔‘‘
پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جانے کی وجہ سے ابراہیم چلنے پھرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ کچھ دن ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد وہ گھر آ گیا اور تقریباً چھ ماہ تک محاذ سے دور رہا لیکن اس عرصے میں بھی وہ محلے اور مسجد کے جوانوں میں اجتماعی اور مذہبی سرگرمیوں سے کبھی بھی غافل نہیں رہا۔
ذاکری
[امیر منجر، جواد شیرازی]
ہائی سکول کے زمانے میں ابراہیم نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ’’انجمن جوانان وحدت اسلامی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ وہ بہت سے دوستوں کے لیے خیر و ہدایت کا سبب بنا۔ وہ بار بار اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا تھا کہ دینی و مذہبی جوش و جذبے کی حفاظت کےلیے اپنے اپنے محلوں میں حتماً مذہبی انجمنیں قائم کریں اور خصوصاً ایسی انجمنیں ضرور بنائیں جن کا اصلی ہدف کسی شخصیت کا خطاب اور تقریر ہو۔
اس کا ایک دوست کہتا تھا: ’’ابراہیم کی شہادت کے کئی سال بعد میں تہران کی ایک مسجد میں ثقافتی سرگرمیوں میں مشغول تھا۔ ایک دن بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ کس طریقے سے جوانوں کو مسجد اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑ کر رکھا جائے۔‘‘
اسی رات خواب میں ابراہیم کو دیکھا۔ وہ مسجد کے تمام جوانوں کو جمع کر کے ان سے کہہ رہا تھا: ’’ہفتگی انجمنوں کے ذریعے اپنے جوانوں کی حفاظت کرو۔‘‘ اس کے بعد اس نے اس کا سارا طریق کار سمجھایا۔
ہم نے ایسا ہی کیا۔ پہلے پہل تو ہمیں اتنی کامیابی کی توقع نہیں تھی لیکن کئی سال گزرنے کے بعد بھی آج تک ہم ان ہفتگی انجمنوں کے ذریعے ہی تمام جوانوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔
اپنے محلے کے جوانوں کے ساتھ بھی ابراہیم کا یہی رویہ تھا۔ وہ جوانوں کو کھیل کی طرف راغب کر کے سیدھا انجمن اور مسجد کی طرف کھینچ لاتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’’جب جوانوں کا ہاتھ امام حسین علیہ السلام کے ہاتھ میں آ جاتا ہے تو مشکل حل ہو جاتی ہے۔ خود مولا ان پر اپنے لطف و کرم کی نظر ڈالیں گے۔‘‘
ابراہیم نے ہائی سکول کے زمانے ہی سے ذاکری شروع کر دی تھی۔ وہ دوسروں کو بھی ذاکری کی ترغیب دیا کرتا تھا۔ وہ ہر ہفتے انجمن جوانا ن وحدت اسلامی میں شہید عبداللہ مسگر کے ہمراہ شرکت کرتا اور ذاکری کیا کرتا تھا۔
جوانوں کا یہ اجتماع انجمن سے بڑھ کر ایک مقام رکھتا تھا۔ اس نے جوانوں کے اعتقادات اور سیاسی نظریات پر دور رس اثرات مرتب کیے۔
علامہ محمد تقی جعفری اور حاجی آقا نجفی جیسے علماء کی دعوت کرنا اور مختلف سیاسی اور مذہبی شخصیات کو خطاب کرنے کے لیے بلانا اس انجمن کی اہم سرگرمیوں میں سے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ساواک کے کارندے اس انجمن پر خاص نظر رکھے ہوئے تھے۔ کئی مرتبہ تو انہوں نے اس انجمن کے جلسات پر پابندی بھی لگائی۔
ابراہیم نے ذاکری کو اسی ہیئت اور اکھاڑے میں پہلوانی کے دوران شروع کیا۔ انقلاب کے دوران اور اس کے بعد تو وہ خاصا عروج پر پہنچ گیا تھا۔ لیکن سب سے اہم نکتہ جس کا وہ خاص خیال رکھتا تھا وہ یہ تھا، اور جیسا کہ وہ خود کہا بھی کرتا تھا: ’’میں اپنے دل کےلیے پڑھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ زیادہ تر خود استفادہ کروں اور قربۃً الی اللہ سے ہٹ کر کوئی نیت ذاکری میں داخل نہ کروں۔‘‘
*****
وہ موٹر سائیکل پر بیٹھا تھا اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں اشعار بہت ہی خوبصورتی سے پڑھنے لگا۔ اس کی آواز کافی دلکش اور سوزناک تھی۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ انجمن میں ان اشعار کو اسی انداز میں پڑھے لیکن وہ نہ مانا۔ اس کا کہنا تھا: ’’ان کے پاس ایک ذاکر موجود ہے۔ میری تو آواز اتنی اچھی ہے ہی نہیں۔ مجھے رہنے دو۔‘‘
لیکن میں اچھی طرح جانتا تھا کہ جب بھی کسی کام میں غیر خدا کی شائبہ ہو یا شہرت کا باعث ہو تو ابراہیم اسے ترک کر دیتا تھا۔ ذاکری میں اس کی ایک دلچسپ عادت تھی۔ وہ لاؤڈ سپیکر اور ایکو وغیرہ کا محتاج نہ تھا۔ اکثر اوقات وہ بغیر لاؤڈ سپیکر کے ہی پڑھتا تھا۔
سینہ زنی میں بہت مضبوطی سے سینے پر ہاتھ مارتا تھا۔ وہ کہتا تھا: ’’اہل بیتؑ نے اپنا تمام وجود اسلام پر قربان کر دیا۔ ہمیں کم از کم یہ سینہ زنی تو اچھے انداز سے کرنا چاہیے۔‘‘
شادی کی محفل ہو یا عزا کی، جہاں بھی وہ دیکھتا کہ اس کے علاوہ کوئی ذاکر نہیں ہے تو وہ ذاکری کیا کرتا تھا لیکن اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کے علاوہ بھی کوئی پڑھنے والا ہے تو وہ نہیں پڑھتا تھا بلکہ زیادہ تر دوسروں سے استفادے کی کوشش میں رہتا۔
ابراہیم امام رضا علیہ السلام کی اس نورانی حدیث کا مصداق تھا: ’’جو بھی ہمارے مصائب پر گریہ کرے اور دوسروں کو رُلائے، اگرچہ ایک شخص ہی کو رُلائے تو اس کا اجر خدا کے ذمے ہو گا۔ ہر وہ شخص جس کی آنکھیں ہمارے غم میں اشک آلود ہو جائیں اور وہ رو پڑے تو خداوند عالم اسے ہمارے ساتھ محشور کرے گا۔[1]‘‘
عزاداری میں اس کی طبیعت پر ایک عجیب وجد کی سی کیفیت طاری رہتی۔ بہت سے جوان فقط ابراہیم کی عزاداری میں موجودگی کی وجہ سے کافی جوش و جذبے میں آ جاتے۔
ابراہیم جہاں بھی ہوتا اس جگہ کو کربلا بنا دیتا۔ ابراہیم کے گریے اور نالے عجیب ہیجان بپا کر دیتے۔ جس کا ایک نمونہ 1982 کے اربعین کے موقع پر انجمن عاشقانِ حسین علیہ السلام میں نظر آتا ہے۔ انجمن کے جوان اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ابراہیم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا ذکر کر رہا تھا۔ مجلس پر اس نے ایک خاص ماحول طاری کر دیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے غش آ گیا۔ اس دن جوانوں کی جو حالت ہوئی وہ اس کے بعد کبھی دیکھنے میں نہ آئی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ابراہیم کے خاص جذبے اور اندرونی سوز نے محفل کی حالت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
ذاکری کے بارے میں ابراہیم بہت خوبصورت بات کہا کرتا تھا: ’’ذاکر کو چاہیے کہ اپنی گفتگو میں اہل بیتؑ کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ جو منہ میں آئے وہ نہ کہتا چلا جائے۔ اگر کسی محفل میں پڑھنے کی ساری شرائط موجود نہ ہوں تو اسے چاہیے کہ نہ پڑھے۔۔۔‘‘
ابراہیم کبھی بھی اپنے آپ کو ذاکر نہیں سمجھتا تھا مگر جہاں بھی پڑھتا تو عجیب سا ماحول بنا دیتا۔
وہ شہداء کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہا۔ اس نے کچھ اشعار بھی کہہ رکھے تھے جن میں شہداء خصوصاً اصغر وصالی اور علی قربانی کے اسما بھی موجود تھے۔ وہ مجالس میں اکثر یہ اشعار پڑھا کرتا تھا۔
*****
شب عاشور تھی۔ مسجد میں کافی باشکوہ عزداری منعقد ہوئی۔ ابتداءمیں تو ابراہیم بہت زیادہ ماتم کر رہا تھا مگر بعد میں وہ وہاں نظر نہ آیا بلکہ مجلس کی تاریکی میں ایک کونے میں کھڑا آرام سے ماتم کر رہا تھا۔
سارے جوان کافی دیر تک ماتم کرتے رہے۔ رات کے بارہ بجے تھے کہ مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔ کھانا کھاتے وقت سب ابراہیم کے گرد جمع ہو گئے۔ میں نے کہا: ’’کیا خوب عزاداری ہوئی۔ جوانوں نے اچھا ماتم کیا۔‘‘
ابراہیم نے مجھ پر اور جوانوں پر ایک معنی خیز نگاہ ڈالتے ہوئے کہا: ’’اہل بیتؑ کے ساتھ اپنے عشق کو اپنے آپ تک ہی محدود رکھو۔‘‘
جب اس نے ہمارے حیران چہروں کی طرف دیکھا تو کہا: ’’یہ لوگ اس لیے آتے ہیں کہ ایک سال تک کے لیے اپنے آپ کو حضرت ابوالفضل عباس علیہ السلام کی حفاظت میں دے دیں، لیکن جب تمہاری عزداری طولانی ہو جاتی ہے تو یہ تھک جاتے ہیں۔ تم لوگ تھوڑی سی عزاداری کے بعد ان لوگوں کو کھانا کھلا دیا کرو۔ اس کے بعد جتنا چاہو ماتم کرو اور عشق اہل بیتؑ کا اظہار کرتے رہو۔ ایسا کام نہ کرو کہ لوگ مجلسِ اہل بیتؑ میں آ کر تھکاوٹ کا شکار ہو جائیں۔‘‘
مجلسِ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا
[شہیدؒ کے کچھ دوست]
ہم مسجد حاج ابوالفتح میں مجمع الذاکرین نامی ایک محفل میں گئے ہوئے تھے۔ اس مجلس میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل میں اشعار پڑھے جا رہے تھے اور ابراہیم انہیں لکھتا جا رہا تھا۔ مجلس کے آخر میں حاج علی انسانی نے مصائب پڑھنا شروع کیے۔
ابراہیم شدتِ غم سے بے حال ہو گیا۔ اشعار والی ڈائری بند کی اور اونچی اونچی آواز میں رونے لگا۔ مجھے اس کی اس حالت پر بہت تعجب ہوا۔ مجلس ختم ہونے کے بعد جب ہم گھر جا رہے تھے تو راستے میں وہ کہنے لگا: ’’انسان جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مجلس میں آتا ہے تو اسے انؑ کے وجود مقدس کو محسوس کرنا چاہیے کیونکہ اس مجلس کی نسبت انؑ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
*****
ایک رات میں اصرار کر کے اسے محفل عید الزہراء سلام اللہ علیہا میں لے گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ابراہیم کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے خاص عقیدت ہے لہٰذا وہ بہت خوش ہو گا۔
محفل میں جب ذاکر نے (اپنی دانست میں) حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی خوشنودی کے لیے (آپؑ کے دشمنوں کے بارے میں) نازیبا باتیں کیں تو ابراہیم نے محفل کے درمیان ہی مجھے اشارہ کیا اور ہم محفل سے اٹھ کر باہر آ گئے۔
راستے میں میں نے پوچھا: ’’لگتا ہے تم بہت ناراض ہو گئے ہو؟ صحیح کہہ رہا ہوں نا؟‘‘
وہ ہمیشہ کا اطمینان و سکون جو اس کے چہرے پر رہتا تھا، غائب تھا۔ وہ غصے میں اپنے ہاتھوں کو جھٹک رہا تھا۔ کہنے لگا: ’’ان محافل میں خدا نہیں ملتا۔ ہمیشہ ایسی جگہ پر جاؤ جہاں خدا و اہل بیتؑ کا ذکر ہو۔‘‘
اس نے کئی دفعہ اس بات کی تکرار کی۔ بعد میں میں نے جب ایسی محافل اور وحدت المسلمین کی حفاظت کے بارے میں علماء کی آراء دیکھیں تو اس وقت ابراہیم کی گہری نظروں کا ادراک ہوا۔
معرکہ فتح المبین میں جب ابراہیم زخمی ہوا تو ہم اسے جلدی جلدی دزفول لے گئے۔ اور فوجی ڈسپنسری کے ہال میں اسے بٹھا دیا۔ وہاں پر کافی تعداد میں زخمی داخل تھے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ زخمی نالہ و فریاد کر رہے تھے۔ کسی کو آرام نہ تھا۔ بالآخر ہمیں ایک کونہ خالی مل گیا اور ابراہیم کو وہاں لٹا دیا۔ نرسوں نے ابراہیم کی گردن اور پاؤں پر پٹیاں باندھ دیں۔ اس وقت سب کے اعصاب شل ہوئے پڑے تھے۔ زخمیوں کی چیخ و پکار بہت زیادہ تھی۔ اچانک ابراہیم نے اپنی میٹھی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا۔ اس نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں اشعار پڑھنا شروع کر دیے۔ ’’یا زہراء سلام اللہ علیہا‘‘ ہمارے اس معرکہ فتح المبین کا کوڈورڈ بھی تھا۔ چند لمحات کے لیے پورے ہال پر ایک عجیب سا سکوت چھا گیا۔ کوئی زخمی بھی نالہ نہیں کر رہا تھا۔ گویا ہال میں سب کچھ مرتب و منظم ہو گیا تھا۔
جس طرف بھی نظر جاتی ہے سکون ہی سکون نظر آتا تھا۔ آنسوؤں کے قطرے تھے کہ زخمیوں اور نرسوں کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ سب پُرسکون ہو چکے تھے۔
ابراہیم نے پڑھنا ختم کیا۔ ایک ڈاکٹر خاتون جو باقیوں کی نسبت کافی سن رسیدہ تھی اور اس نے درست طریقے سے حجاب بھی نہیں اوڑھا ہوا تھا، آگے بڑھی۔ وہ بہت زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ آہستہ سے کہنے لگی: ’’تم بھی میرے بیٹے ہی کی طرح ہو! جوانو، تمہارے قربان جاؤں۔‘‘ اس کے بعد اس نے بیٹھ کر ابراہیم کے سر پر بوسہ دیا۔ ابراہیم کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ اس کے کان سرخ ہو چکے تھے۔ اس کے بعد اس نے شرم کے مارے چادر کو اپنے چہرے پر اوڑھ لیا۔
ابراہیم ہمیشہ کہا کرتا تھا: ’’خدا پر توکل کے بعد حضرات معصومین علیہم السلام بالخصوص حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے توسل کرنا مشکلات کو حل کر دیتاہے۔‘‘
*****
ہم ابراہیم سے ملنے کےلیے نجمیہ ہسپتال گئے ہوئے تھے۔ اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے کہ ابراہیم نے اجازت لے کر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب پڑھنا شروع کر دیے۔ دو ڈاکٹر آئے اور دور کھڑے ہو کر اسے دیکھنے لگے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کیوں، کیا ہوا؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’کچھ بھی نہیں۔ ہم جہاز میں اس کے ساتھ ہی تھے۔ یہ بار بار بے ہوش ہو جاتا اور پھر ہوش میں آ جاتا لیکن اس حالت میں بھی یہ خوبصورت آواز میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہا۔‘‘
1982 کا موسم گرما
[مرتضیٰ پارسائیان]
1982 کے موسم گرما میں ابراہیم جب زخمی ہونے کی وجہ سے تہران میں تھا تو تعلیم و تربیت کے محکمے میں مصروف کار رہا۔ سروس کے ساتھ ساتھ اس نے کچھ ڈپلومے بھی حاصل کر لیے۔ اس کے علاوہ اس نے اس مختصر سی مدت میں بعض ثقافتی پروگراموں کا انعقاد بھی کیا۔
*****
وہ اپنی بغل کے نیچے بیساکھیوں کا سہارا لیے محکمہ تعلیم و تربیت کی سیڑھیوں سے اوپر نیچے آ جا رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا: ’’آغا ابرام، کیا ہوا؟! اگر کوئی کام ہے تو میں انجام دے دیتا ہوں۔‘‘
کہنے لگا: ’’نہیں، یہ کام میرے اپنے کرنے کا ہے۔‘‘
اس کے بعد وہ کئی کمروں میں گیا اور دستخط لیے۔ اس کا کام ختم ہو گیا تھا۔ اب وہ اس عمارت سے باہر جانا چاہتا تھا۔
میں پوچھا: ’’یہ کیسا کاغذ تھا؟ کیوں اپنے آپ کو اس قدر مشکل میں ڈال رکھا تھا۔‘‘
کہنے لگا: ’’ایک اللہ کا بندہ دو سال سے استاد کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہا ہے لیکن ابھی تک اس کی نوکری کا کوئی مسئلہ بنا ہوا۔ میں نے اس کی مشکل حل کروائی ہے۔‘‘
میں نے پوچھا: ’’کوئی فوجی بھائی تھا؟!‘‘
کہنے لگا: ’’شاید ان میں سے نہیں ہے لیکن اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ اس کا یہ مسئلہ حل کروا دوں۔ میں نے بھی دیکھا کہ یہ کام واقعاً میرے ہی کرنے کا ہے لہٰذا میں یہاں آ گیا۔‘‘
اس کے بعد وہ کہنے لگا: ’’جتنا ہو سکتا ہے انسان کو دوسروں کے کام آنا چاہیے خصوصاً اپنے ہم وطن لوگوں کے جو اتنے اچھے ہیں۔ ہم سے جو بھی بن پڑتا ہے ہمیں ان کے لیے انجام دیتے رہنا چاہیے۔ کیا تم نے امام خمینیؒ کا یہ فرمان نہیں سنا: ’’یہ عوام ہمارے ولیِّ نعمت ہیں؟ ‘‘
*****
اپنے محلے میں سبھی ابراہیم کو پہچانتے تھے۔ جو کوئی بھی ایک بار ابراہیم سےملتا، اس کے حسن سلوک کا دیوانہ ہو جاتا۔ اس کا گھر ہمیشہ اس کے دوستوں سے بھرا رہتا۔ مجاہدین جیسے ہی محاذ سے آتے تو اپنے گھروں میں جانے سے پہلے ایک دفعہ ابراہیم کے پاس ضرور آتے۔
ایک دن فجر کی نماز کے وقت مسجد محمدیہ (شہداء) کے امام جماعت نہ آئے تو لوگوں نے اصرار کر کے ابراہیم کو آگے کھڑا کر دیا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ جب امام جماعت کو معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہا: ’’اگر میں بھی ہوتا تو ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا۔‘‘
*****
میں نے ابراہیم کو دیکھا کہ بیساکھی کے سہارے گلی میں جا رہا ہے۔ اس نے چند بار آسمان کی طرف دیکھا اور اپنا سر نیچے کر لیا۔
میں نے آگے بڑھ کر اس سے پوچھا: ’’آغا ابرام، کیا ہوا؟!‘‘
پہلے تو اس نے جواب نہ دیا مگر پھر میرے اصرار پر کہنے لگا: ’’ہر روز اس وقت تک کوئی نہ کوئی بندہ خدا میرے پاس آ جاتا تھا اور جیسے تیسے ہوتا میں اس کی مشکل حل کر دیتا تھا مگر آج صبح سے ابھی تک کوئی بھی میرے پاس نہیں آیا۔ میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسی خطا نہ ہو گئی ہو جس کے سبب خدا نے خدمت کی توفیق مجھ سے سلب کر لی ہو۔‘‘
روشِ تربیت
[جواد مجلسی راد، مہدی حسن قمی]
ہم آغا ابراہیم کے پڑوس ہی میں رہتے تھے۔ میری عمر اس وقت سولہ سال تھی۔ میں روزانہ دوسرے لڑکوں کے ساتھ گلی میں والی بال کھیلتا تھا۔ اس کے بعد اپنی چھت پر جا کر کبوتربازی میں مشغول ہو جاتا۔
ان دنوں میرے پاس تقریباً 170 کبوتر تھے۔ اذان ہوتے ہی میرا بھائی تو مسجد چلا جاتا مگر مجھے مسجد میں جانے کی عادت نہ تھی۔
سہ پہر کے وقت ہم والی بال کھیل رہے تھے۔ آغا ابراہیم اپنے گھر کے دروازے پر بیساکھیوں کے سہارے کھڑے ہمارا کھیل دیکھ رہے تھے۔ کھیل کے دوران گیند ان کے پاس چل گئی۔
میں گیند لینےگیا تو انہوں نے گیند اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس کے بعد گیندکو اپنے انگوٹھے پر بڑی خوبصورتی سے گھماتے ہوئے کہا: ’’یہ لو آغا جواد۔‘‘
مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوا کہ وہ میرا نام جانتے ہیں۔ کھیل ختم ہونے تک میں کنکھیوں سے انہیں دیکھتا رہا۔ سارے کھیل کے دوران میں یہی سوچتا رہا کہ وہ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟
کچھ دن بعد ہم دوبارہ کھیل رہے تھے۔ آغا ابراہیم آگے بڑھے اور کہنے لگے: ’’دوستو، ہمیں بھی کھیلنے دو گے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’جی بالکل، کیوں نہیں! مگر کیا آپ والی بال بھی کھیل لیتے ہیں؟!‘‘
کہنے لگے: ’’اگر نہیں کھیل سکتے تو آپ لوگوں سے سیکھ لیں گے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے اپنی بیساکھی ایک طرف رکھی، لنگڑاتے ہوئے ہمارے پاس آ گئے اور کھیلنے لگے۔
میں نے اس وقت تک کسی کو اتنا اچھا کھیلتے نہ دیکھا تھا۔
وہ ابھی تک زخمی تھے اور مجبور تھے کہ ایک ہی پاؤں کے سہارے کھڑے ہوں لیکن بڑی مہارت سے گیند کو ضربیں بھی لگا رہے تھے اور دفاع بھی کر رہے تھے۔
رات کو میں نے اپنے بھائی کو بتایا: ’’آپ آغا ابراہیم کو جانتے ہیں؟ بہت ہی حیرت انگیز مہارت سے والی بال کھیلتے ہیں۔‘‘
میرا بھائی ہنس دیا: ’’تم انہیں ابھی تک نہیں جانتے؟ ابراہیم سکولوں کے درمیان ہونے والے مقابلوں کے چیمپئن رہے ہیں اور کشتی کے بھی چیمپئن ہیں۔‘‘
میں نے حیرانی سے پوچھا: ’’سچ کہہ رہے ہیں؟ تو پھر انہوں نے کیوں کچھ نہیں بتایا!‘‘
میرے بھائی نے جواب دیا: ’’نہیں معلوم، فقط اتنا جان لو کہ وہ بہت عظیم آدمی ہیں۔‘‘
کچھ دن بعد ہم ایک بار پھر کھیل میں مصروف تھے کہ آغا ابراہیم آ گئے۔ دونوں ٹیموں کی خواہش تھی کہ وہ اس کی طرف سے کھیلیں۔ اس کے بعد وہ ہمارے ساتھ کھیلنے لگے۔ وہ بہت ہی اچھا کھیلے تھے۔
کھیل کا اختتام تھا کہ مسجد سے اذان ظہر کی آواز بلند ہوئی۔ ابراہیم نے گیند پکڑ لی اور کہا: ’’دوستو، میرے ساتھ مسجد چلو گے؟‘‘
ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد ہم نماز جماعت کے لیے چلے گئے۔
کچھ دن اسی طرح گزر گئے۔ اس عرصے میں ہم آغا ابراہیم کے شیفتہ ہو چکے تھے۔ ہم مسجد میں انہی کے لیے جاتے تھے۔ ایک دن انہوں نے دن کے کھانے پر ہماری دعوت بھی کی اور ہم اکٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس دن کے بعد میں ہر وقت ان کے پاس جاتا۔
اگر ایک دن انہیں نہ دیکھتا تو دل ان کے لیے بے چین ہو جایا کرتا تھا۔ میں واقعاً بہت بے قرار ہو جاتا تھا۔ ایک دن ہم اکٹھے پہلوانی کے اکھاڑے میں چلے گئے۔ مختصر یہ کہ میں ان کے اخلاق و اطوار کا شدت سے عاشق ہو چکا تھا۔ وہ اپنی محبت اور دوستی کے ذریعے ہمیں مسجد اور نماز کی طرف کھینچ لائے تھے۔
آہستہ آہستہ وہ اپنی زخمی حالت سے بہتری کی طرف جا رہے تھے۔ اب وہ اپنے محاذ پر جانا چاہتے تھے۔ ایک رات ہم گلی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ مجھے معرکہ فتح المبین میں شامل تیرہ چودہ سالہ لڑکوں کے بارے میں بتا رہے تھے۔
وہ اسی طرح باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے کہا: ’’اگرچہ ان کا قد و قامت اور عمر تم سے بہت کم تھی مگر خدا پر توکل کرتے ہوئے انہوں نے بہادری کی کیا کیا داستانیں رقم کی ہیں۔ تم ہو کہ یہاں بیٹھے کر آسمان پر نظریں گاڑے ہوئے ہو کہ تمہارے کبوتر کیا کر رہے ہیں!!‘‘
اگلے دن میں نے اپنے تمام کبوتروں کو چھوڑ دیا اور محاذ پر چلا گیا۔
اس واقعے کو کئی سال گزر گئے۔ اب جبکہ میں تعلیمی امور کا ماہر ہوں تو اب سمجھا ہوں کہ آغا ابراہیم اپنے تربیتی کام کو کس قدر دقت اور صحیح طریقے سے انجام دیتے تھے۔ وہ کتنے خوبصورت انداز میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے تھے۔ وہ اتنے اچھے طریقے سے اپنا کام کرتے تھے کہ تربیتی امور کے ماہرین انہیں اپنے لیے نمونہ عمل سمجھتے تھے، اور وہ بھی ایسے زمانے میں کہ جب تربیتی طریقہ ہائے کار کا نام و نشان تک نہ ہوتا تھا۔
*****
نیمہ ٔشعبان تھا۔ میں اور آغا ابراہیم ایک گلی میں داخل ہوئے۔ گلی میں بہت اچھا چراغاں کیا گیا تھا۔ محلے کے نوجوان گلی کے آخری سرے پر جمع ہو گئے تھے۔ جب ہم ان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا کہ سارے تاش اور جوا وغیرہ کھیل رہے تھے۔
آغا ابراہیم نے دیکھا تو بہت غضبناک ہوئے لیکن کچھ بھی نہ کہا۔ میں نے آگے بڑھ کر آغا ابرہیم کا تعارف کروایا۔
یہ میرے دوست اور والی بال اور کشتی کے چیمپئن ہیں۔ اس کے بعد جوانوں نے ابراہیم سے سلام دعا کی۔
اس کے بعد اس انداز میں ابراہیم نے مجھے کچھ پیسے دیے کہ کوئی متوجہ نہ ہونے پائے۔ پیسے دے کر کہا: ’’جاؤ، جلدی سے ۱۰ آئسکریم لے آؤ۔‘‘
اس رات ابراہیم کچھ آئسکریم، باتوں اور ہنسی مذاق کے ذریعے ہمارے محلے کے جوانوں کا دوست بن گیا۔
آخر میں اس نے تاش کے پتوں کے حرام ہونے کے بارے میں بات کی۔ جب ہم گلی سے نکلے تو تاش کے سارے پتے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نالی میں بہائے جا چکے تھے۔
[1] مستدرک الوسائل: ج۱ ص386