آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

مطلع الفجر
[حسین اللہ کرم]

بنی صدر کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے معزول ہوئے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ عراقی فوج کا دبدبہ ختم کرنے کے لیے جنگ کے شمالی، مغربی اور جنوبی محاذوں پر کچھ حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی۔

29 نومبر کو پہلا  بڑا حملہ طریق القدس (بستان کی آزادی کے لیے)کیا گیا۔ اس میں بعثی حکومت کی فوج کو پہلی بار بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

افسران کی ہم آہنگی کے مطابق دوسرا حملہ گیلان غرب سے لے کر سرپل ذہاب کے علاقے تک کرنا تھا جو بغداد شہر کا قریب ترین محاذ تھا۔ اسی لیے کافی عرصہ پہلے اس علاقے کی ریکی اور فوجوں کی تیاری کا کام شروع ہو چکا تھا۔

اس علاقے میں کیے جانے والے حملے گیلان غرب کور کے ہیڈ کوارٹر کے زیرِ نگرانی انجام پانا تھے۔ اندرزگو گروپ کے تمام جوان کمربستہ تھے۔دشمن کے علاقوں کی ریکی کا فریضہ ابراہیم کے کندھوں پر تھا۔ یہ کام تھوڑے ہی عرصے میں مکمل طور پر انجام پا گیا۔ ابراہیم معلومات اور مخبری  کے لیے  ایک کُرد جوان کو ساتھ لے کر دشمن کی فوج کے تعاقب میں گیا۔ وہ ایک ہفتے کے دوران نفت شہر تک پہنچ گئے تھے۔

اس عرصے میں ابراہیم نے محاذ جنگ کے بہت ہی اچھے نقشے تیار کر لیے تھے۔ اس کے بعد وہ چار عراقیوں کو بھی قید کر کے  اپنے کیمپ میں واپس آ گئے۔

ابراہیم نے ان قیدیوں سے پوچھ گچھ کرنے اور ضروری معلومات لینے کے بعد حملوں کے لیے نقشوں کو مکمل کیا اور افسران کی ہونے والی میٹنگ میں انہیں پیش کر دیا۔

فوج کی ذوالفقار بریگیڈ سے کرنل علی یاری اور میجر سلامی  بھی سپاہ کے جوانوں کے ساتھ مل گئے۔ سرپل ذہاب سے لے کر گیلان غرب تک مقامی فوجیوں میں سے اکثر کو مختلف بٹالینز میں تقسیم کر دیا گیا۔اندرزگو گروپ کے اکثر جوان ان بٹالینز کے انچارج مقرر ہوئے۔

سپاہ اور رضاکاروں کی کچھ بٹالینز نے بطور ہراول دستوں کے حملے شروع کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی۔

آخری میٹنگ میں اعلیٰ افسران نے ابراہیم کو حملوں کے مرکزی محاذ، برادر صفر خوش روان کو بائیں محاذ اور برادر داریوش ریزہ وندی کو دائیں محاذ  کا کمانڈر منتخب کیا۔ اس حملے کا مقصد  شہر گیلان غرب  کی چوٹیوں کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرانا اور گورک و حاجیان کی گھاٹیوں اور سرحدی چوکیوں پر قبضہ کرنابتایا گیا۔

حملے والے علاقے کا رقبہ تقریباً ستر کلومیٹر تھا۔کمان سنٹر سے یہ اطلاع پہنچی تھی کہ اس حملے کے فوراً بعد مریوان کے علاقے میں تیسرا حملہ کر دیا جائے گا۔

تمام معاملات مکمل ہم آہنگی سے طے پا رہے تھے۔ حملہ شروع ہونے سے کچھ دن پہلے سپاہ کے مرکزی دفتر سے یہ اطلاع ملی کہ عراق نے بستان کا علاقہ واپس لینے کے لیے ایک بڑے جوابی حملے کی تیاری کر لی ہے۔ آپ سب لوگ جلدی سے اپنے حملے کا آغاز کریں تا کہ بستان کے محاذ سے عراق کی توجہ ہٹائی جا سکے۔

اسی وجہ سے اگلے دن یعنی 11 دسمبر 1981؁ کو حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہم ولولے اور جوش سے بھرے ہوئے تھے۔ اگلے روز  ملک کے مغربی محاذ کی چوٹیوں پر ایک بڑے اور وسیع حملے کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ کسی بھی چیز کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس رات تمام جوانوں کے الوداعی مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔

بالآخر حملے کا دن آن پہنچا۔ مختلف محاذوں پر جوانوں کی شدید کارروائیوں سے بہت سے اہم اور اسٹریٹجک علاقے جیسے حاجیان اور گورک کے درے، بر آفتاب کا علاقہ، سرتتان، چرمیان، دیزہ کش، فریدون ہوشیار کی چوٹیاں، شیاکوہ کی بعض چوٹیاں اور دشت گیلان کے سارے گاؤں آزاد کروا لیے گئے۔

مرکزی محاذ پر کچھ ٹیلوں اور دریا پر قبضہ کرنے کے بعد ہمارے فوجی جوان انار کی چوٹیوں کی طرف بڑھنے لگے۔ دشمن دیوانہ وار آگ برسا رہا تھا۔

بعض بٹالینز ٹیلوں کو عبور کرتے ہوئے شیاکوہ کی چوٹیوں کے اوپر تک جا پہنچیں۔ دشمن اچھی طرح جانتا تھا کہ شیاکوہ کے ہاتھوں سے جاتے ہی وہ عراق کے شہر خانقین سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ان چوٹیوں اور جنگ کے علاقے میں اپنی زیادہ سے زیادہ فوج اتار دی تھی۔

آدھی رات کو وائرلیس سے پیغام ملا: ’’حسن بالاش اور جمال تاجیک اپنے جوانوں کے ساتھ مرکزی محاذ سے نکل کر شیاکوہ پہنچ گئے ہیں اور مزید کمک مانگ رہے ہیں۔‘‘ تھوڑی دیر بعد ابراہیم نے فون کیا: ’’انار کی تمام چوٹیاں آزاد ہو چکی ہیں، فقط ایک چوٹی جو بہت ہی حساس اور اہم مقام پر ہے، پر ہمیں شدید دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے پاس زیادہ نفری بھی نہیں ہے۔‘‘

میں نے ابراہیم سے کہا: ’’صبح ہونے سے پہلے پہلے میں امدادی نفری لے کر تم سے آن ملوں گا۔ تم فوجی افسران سے مل کر منصوبہ بندی کرو اور جیسے تیسے ہو اس ٹیلے کو آزاد کرواؤ۔‘‘

میں امدادی نفری پر مشتمل ایک بٹالین لے کر مرکزی محاذ کی طرف چل پڑا۔ ہم لوگ راستے میں ہی تھے کہ سپاہ کے مرکزی دفتر سے اطلاع ملی: ’’دشمن نے بستان پر قبضے کا خیال دل سے نکال دیا ہے لیکن اس نے بہت بھاری تعداد میں فوج تمہارے محاذ کی طرف بھیج دی ہے۔ تم لوگ ڈٹ کر دفاع کرو، انشاء اللہ مریوان کی سپاہ پاسداران حاج احمد متوسلیان کی کمان میں جلد ہی اگلے حملے کا آغاز کرنے والی ہے۔‘‘ اسی پیغام کے ضمن میں انہوں نے فوج اور سپاہ کے جوانوں کی آپس میں بہترین ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کی تعریفیں کیں اور بتایا: ’’موصولہ رپورٹس کے مطابق آپ لوگوں کے حملے نے عراقی فوج کو بھاری نقصان سے دوچار کیا ہے۔ اب عراقی فوج کے ہیڈ کوارٹر نے حکم دیا ہے کہ اس محاذ پر مزید امدادی فوج بھیجی جائے۔‘‘

جھٹ پُٹے کا وقت ہو چلا تھا۔ راستے میں ہم نے نمازِ فجر ادا کی۔ ابھی ہم انار کے علاقے میں نہ پہنچے تھے کہ گیلان غرب کے محاذ پر غلام علی پیچک کی شہادت کی خبر نے ہمیں سوگوار کر دیا۔

جیسے ہی ہم انار کی چوٹیوں پر پہنچے تو ایک جوان نے آگے بڑھ کر خالص مشہدی لہجے میں مجھے بتایا: ’’حاج حسین، کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابراہیم شہید ہو گئے ہیں؟!‘‘

میرا بدن لرز کر رہ گیا۔ میں نے تھوک نگلتے ہوئے کہا: ’’کیا ہوا؟!‘‘

اس نے جواب دیا: ’’ابراہیم کی گردن پر ایک گولی لگی ہے۔‘‘

میرا رنگ اڑ گیا۔ سر گھومنے لگا۔ میں بے اختیار سامنے والے مورچوں کی طرف بھاگنے لگا۔ سارے راستے میرے ذہن میں وہ تمام لمحات فلم کی طرح چلنے لگے جو میں نے ابراہیم کے ساتھ گزارے تھے۔ میں طبی امداد والے مورچے میں اتر کر اس کے سرہانے پہنچ گیا۔

ابراہیم کی گردن کے عضلات میں ایک گولی پیوست ہو گئی تھی۔ اس سے بہت سا خون بہہ رہا تھا۔ میں نے جواد کو ڈھونڈ کر پوچھا: ’’ابرام کو کیا ہوا ہے؟!‘‘

وہ تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر کہنے لگا: ’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا بتاؤں؟‘‘

میں نے پوچھا: ’کیا مطلب؟!’‘‘

اس نے جواب دیا: ’’ہم نے فوج کے افسران سے بات کی کہ ٹیلے پر کیسے حملہ کریں۔ عراقی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔ ٹیلےکے اوپر اور آس پاس ان کے بہت سے فوجی تھے۔ ہم نے لاکھ جتن کیے مگر کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ فجر کی اذان ہونے والی تھی اور ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔ لیکن کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ کیا کریں۔ اچانک ابراہیم مورچے سے نکل کر عراقیوں کے ٹیلے کی طرف بڑھنے لگا اور پتھر کی ایک سِل پر روبہ قبلہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے بلند آواز سے اذانِ فجر دینا شروع کر دی۔ ہم نے بہت شور مچایا کہ ابراہیم، پیچھے آ جاؤ، عراقی ابھی تمہیں مار دیں گے۔ لیکن ہماری چیخ و پکار کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ وہ تقریباً ساری اذان دے چکا تھا۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ عراقیوں کی فائرنگ رُک چکی تھی لیکن اسی وقت ایک گولی چلی اور ابراہیم کو آ کر لگی۔ اس کے بعد ہم اسے اٹھا کر پیچھے لے آئے۔‘‘

اذان کا معجزہ
[حسین اللہ کرم]

ہم انار کی چوٹیوں پر تھے۔ فضا میں مکمل طور پر روشنی پھیل چکی تھی۔ نرس نے ابراہیم کی گردن کے زخم پر پٹی باندھ دی تھی۔ میں جوانوں کی ڈیوٹیاں لگانے اور وائرلیس پر بات کرنے میں مشغول تھا۔

اچانک ایک جوان دوڑتا ہوا جلدی سے میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’سر، سر، کچھ عراقی اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ہماری طرف آ رہے ہیں۔‘‘

میں نے تعجب سے پوچھا: ’’کہاں ہیں وہ لوگ؟!‘‘

اس کے بعد ہم اکٹھے ہی ٹیلے کے پاس ایک مورچے کی طرف چل پڑے۔ سامنے والے ٹیلے سے تقریباً بیس افراد  اپنے ہاتھوں میں سفید کپڑے اٹھائے ہماری طرف آ رہے تھے۔ میں نے فوراً کہا: ’’جوانو، اپنا اپنا اسلحہ اٹھا لو اور ہوشیار رہو۔ شاید یہ دشمن کی ایک چال ہو۔‘‘

کچھ دیر بعد اٹھارہ عراقی، کہ جن میں سے ایک ان کا اعلیٰ افسر بھی تھا، ہمارے سامنے سرنڈر کر چکے تھے۔ میں بھی اس بات پر خوش تھا کہ ہم نے اس محاذ پر بھی کچھ عراقیوں کو اسیر کر لیا ہے۔

میں یہی سوچ رہا تھا کہ ہمارے جوانوں کے بھرپور حملے اور گولہ باری نے عراقیوں کو وحشت میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ قید ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد میں نے اس عراقی افسر کو اپنے مورچے میں بلایا اور عربی جاننے والے اپنے ایک فوجی کو بھی آواز دی۔

میں نے تفتیشی افسر کے لہجے میں پوچھا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟ اپنا رینک اور ذمہ داری بھی بتاؤ۔‘‘

اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا: ’’میں میجر ہوں اور ٹیلے اور اس کے اطراف پر تعینات فوجیوں کی کمان میرے ہاتھ میں تھی۔ ہم بصرہ کی ریزرو فوج میں سے ہیں جنہیں اس محاذ پر بھیجا گیا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’اب ٹیلے پر کتنے فوجی رہ گئے ہیں؟‘‘

کہنے لگا: ’’ایک بھی نہیں۔‘‘

میں نے حیرت سے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا: ’’کوئی بھی نہیں؟!‘‘

اس نے جواب دیا: ’’ہم یہاں اپنے آپ کو آپ کو لوگوں کے حوالے کرنے آئے ہیں۔ باقی فوجیوں کو میں نے پیچھے بھیج دیا ہے۔ اب ٹیلہ بالکل خالی ہے۔‘‘

میں نے دوبارہ تعجب سے پوچھا: ’’کیوں؟!‘‘

کہنے لگا: ’’کیونکہ وہ لوگ سرنڈر نہیں ہونا چاہتے تھے۔‘‘

میری حیرت بڑھ گئی: ’’کیا مطلب؟!‘‘

اس عراقی افسر نے میرے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے مجھ سے سوال کر دیا: ’’أین الموذن؟‘‘

اس جملے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ترجمے کی ضرورت نہ تھی۔ میں نے تعجب سے پوچھا: ’’مؤذن؟!‘‘

اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ روہانسا ہو کر ہمیں ساری بات بتانے لگا۔ مترجم جلدی جلدی اس کی باتوں کا ترجمہ کیے جا رہا تھا: ’’ہمیں بتایا گیا تھا کہ تم لوگ مجوس اور آتش پرست ہو۔ ہمیں یہ بھی باور کروایا گیا کہ ہم اسلام کی خاطر ایران پر حملہ کریں گے اور ایرانیوں سے جنگ لڑیں گے۔ تم لوگ یقین کرو، ہم سب شیعہ ہیں۔ جب ہم دیکھتے تھے کہ عراقی افسر شراب پیتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے تو ہمیں تم لوگوں سے جنگ لڑنے میں تردد ہونے لگا۔ آج صبح جب ہم نے تمہارے ایک سپاہی کی اذان سنی  جو اپنی خوش لحن اور بلند آواز میں اذان دے رہا تھا تو میرا سارا بدن لرز کر رہ گیا۔ جب اس نے اذان میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام کا نام لیا تو میں نے اپنے آپ سے  کہا: ’’تم اپنے بھائیوں سے جنگ لڑ رہے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کربلا والا ماجرا دوبارہ دہرایا جا رہا ہو۔۔۔‘‘

اس کے بعد زارو زار آنسوؤں نے اسے بولنے نہ دیا۔تھوڑی دیر بعد اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:’’یہی وجہ بنی کہ میں نے سرنڈر کرنے کا فیصلہ کر لیا اور چاہا کہ اپنے گناہوں کا بوجھ زیادہ نہ کروں۔ پس میں نے حکم دیا کہ کوئی فوجی گولی نہ چلائے۔ جیسے ہی اجالا ہوا تو میں نے اپنے سپاہیوں کو جمع کیا اور انہیں بتایا کہ میں ایرانیوں کے آگے سرنڈر کرنا چاہتا ہوں۔ جو بھی میرے ساتھ آنا چاہے آ سکتا ہے۔ یہ افراد جو میرے ساتھ آئے ہیں، سبھی میرے ہم عقیدہ ہیں۔ میرے باقی ماتحت فوجی واپس چلے گئے۔ البتہ جس فوجی نے مؤذن کو گولی ماری تھی، اسے بھی میں لے آیا ہوں۔ اگر آپ کہتے ہیں تو میں اسے قتل کر دوں گا۔ اب مہربانی کر کے مجھے یہ بتائیں کہ وہ مؤذن زندہ ہے یا نہیں؟!‘‘

میں ہکا بکا اس عراقی افسر کی باتیں سنے جا رہا تھا۔ کچھ کہنے کی سکت نہیں تھی۔ تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد میں نے کہا: ’’ہاں، زندہ ہے۔‘‘

ہم اکٹھے ہی مورچے سے باہر نکلے اور ابراہیم کے پاس چلے گئے جو ایک اور مورچے میں سویا ہوا تھا۔ اٹھارہ کے اٹھارہ عراقی قیدی آگے بڑھ کر ابراہیم کے ہاتھوں کو بوسے دیتے لگے۔ آخری قیدی ابراہیم کے پاؤں میں گر پڑا اور رونے لگا۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’مجھے معاف کر دو۔ میں نے ہی تم پر گولی چلائی تھی۔‘‘

میری آنکھیں بھی بھر آ ئی تھیں۔ مجھ پر عجیب طرح کی کیفیت طاری تھی۔ میرا دھیان حملے اور اپنے فوجیوں کی طرف تھا ہی نہیں۔ میں ان عراقی قیدیوں کو پیچھے واپس بھیجنے کا سوچ رہا تھا کہ عراقی افسر مجھے بلا کر کہنے لگا: ’’وہاں  دیکھو۔ ایک کمانڈو بٹالین اور کچھ ٹینک وہاں سے پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد کہنے لگا: ’’تم لوگ جلدی سے جاؤ اور اس ٹیلے پر قبضہ کر لو۔‘‘

میں نے بھی جلدی سے اندرزگو گروپ کے کچھ جوانوں کو ٹیلے کی طرف بھیج دیا۔ اس ٹیلے کے ہاتھ آتے ہی انار کا علاقہ مکمل طور پر دشمنوں سے پاک ہو گیا۔

دشمن کی کمانڈو بٹالین نے بھی حملہ کیا لیکن ہم چونکہ بھرپور تیاری میں تھے اس لیے ان کے اکثر فوجی جان سے ہاتھ  دھو بیٹھے اور وہ شکست کھا گئے۔اگلے دنوں میں مریوان میں معرکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے گیلان غرب پر عراقی فوج کا دباؤ کافی حد تک کم ہو گیا۔

بہرحال معرکہ مطلع الفجر کی وجہ سے ہم نے اپنے بہت سے مقاصد پورے کر لیے۔ ہمارے ملک  کے بہت سے خطے آزاد ہو گئے۔ اگرچہ اس حملے میں ہمیں غلام علی پیچک، جمال تاجیک اور حسن بالاش جیسے بہت سے کمانڈرز کی شہادت کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔

چند دن آرام کرنے کی وجہ سے ابراہیم جب مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا تو دوبارہ آ کر گروپ کے ساتھ ملحق ہو گیا۔ اسی دن یہ اطلاع بھی مل گئی کہ معرکہ والفجر ، جو ’’یامہدی (عج)‘‘ کے کوڈ ورڈ سے اپنے انجام کو پہنچا، میں عراقی فوج کی چودہ مخصوص بٹالینز کام آ گئی ہیں۔ دو ہزار کے قریب فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ دو سو قیدی فوجیوں کا نقصان بھی عراق کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ عراق کے دو لڑاکا طیارے بھی ہمارے جوانوں کے نشانے پر آنے کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔

*****

معرکہ مطلع الفجر  کو پانچ سال گزر چکے تھے۔ 87-1986؁ کی سردیوں میں ہم شلمچہ میں معرکہ کربلا۵ میں مصروف تھے۔ جاسوسی معلومات اور مختلف ڈویژنز کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی کچھ ذمہ داری ہمارے سپرد تھی۔ میں ڈویژنز کے جوانوں کے ساتھ ہم آہنگی کرنے اور انہیں کچھ ضروری ہدایات دینے کے لیے بدر ڈویژن کے کیمپ میں گیا۔

طے یہ پایا تھا کہ اس ڈویژن کی بٹالینز جو تمام کی تمام ان عراقیوں اور عرب زبان جوانوں پر مشتمل تھیں جو صدام کے مخالف تھے، کو حملے کے اگلے مرحلے پر روانہ کیا جائے۔ میں نے ڈویژن کے افسران اور بٹالینز کے افسران سے میٹنگز کرنے اور ضروری ہم آہنگی پیدا کرنے کی ذمہ داری ادا کی اور چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔

دور سے ہی میں نے بدر ڈویژن کے ایک جوان کو دیکھا جو مجھ پر نظریں جمائے میری طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا۔ میں چلنے ہی لگا تھا کہ وہ بسیجی جوان آگے بڑھا اور مجھے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے عربی لہجے میں مجھ سے کہا: ’’آپ گیلان غرب میں نہیں تھے؟!‘‘

میں نے تعجب سے کہا: ’’ہاں۔‘‘

میں سوچ رہا تھا کہ شاید یہ مغربی علاقے کا کوئی جوان ہے۔ اس کے بعد وہ مجھے کہنے لگا: ’’مطلع الفجر یاد ہے نا آپ کو؟ انار کی چوٹیاں، آخری ٹیلہ!‘‘

میں نے تھوڑی دیر غور سے سوچ کر کہا:’’ہاں، یاد ہے۔ پھر؟!‘‘

کہنے لگا: ’’وہ اٹھارہ عراقی جو قید ہو گئے تھے، وہ بھی یاد ہیں نا آپ کو؟!‘‘

میں نے پھر حیرانی سے کہا: ’’ہاں بالکل یاد ہیں۔ مگر تم کون ہو؟‘‘

اس نے خوش ہوتے ہوئے جواب دیا: ’’میں انہی میں سے ایک ہوں۔‘‘

میری حیرانی میں اضافہ ہو گیا۔ میں نے پوچھا: ’’یہاں کیا کر رہے ہو؟!‘‘

وہ کہنے لگا: ’’ہم سارے اٹھارہ کے اٹھارہ افراد اسی بٹالین میں ہیں۔ آیت اللہ حکیم کی ضمانت پر ہمیں آزاد کر دیا گیا تھا۔ وہ ہمیں اچھی طرح پہچانتے تھے۔ پھر یہ طے پایا کہ ہم محاذ پر آ جائیں اور بعثیوں کے ساتھ جنگ کریں۔‘‘

میرے لیے بہت تعجب کی بات تھی۔ میں نے کہا: ’’خدا تمہیں سلامت رکھے۔ تمہارا افسر کہاں ہے؟!‘‘

اس نے جواب دیا: ’’وہ بھی اسی بٹالین میں ایک عہدے پر فائز ہے۔ اب ہم فرنٹ لائن کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

میں نے کہا: ’’اپنا اور اپنی بٹالین کا نام اس کاغذ پر لکھ دو۔ میں اس وقت جلدی میں ہوں۔ حملے کے بعد آؤں گا اور تم سب لوگوں سے تفصیلی ملاقات کروں گا۔‘‘

اس نے اپنے جوانوں کے نام لکھتے لکھتے پوچھا: ’’تمہارے مؤذن کا کیا نام تھا؟!‘‘

میں نے جواب دیا: ’’ابراہیم، ابراہیم ہادی۔‘‘

وہ کہنے لگا: ’’ہم سب اس کی تلاش میں تھے۔ اپنے افسران سے بھی ہم نے درخواست کی تھی کہ اسے کہیں سے ڈھونڈیں۔ ہم اس مردِ خدا سے ایک دفعہ پھر ملنا چاہتے ہیں۔‘‘

میں ساکت رہ گیا اور میری آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا۔ میں نے کہا: ’’انشاء اللہ بہشت میں تم لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کر لو گے۔‘‘

غم سے اس کی بری حالت ہو گئی۔ اس نے اپنے سب جوانوں اور بٹالین کا نام لکھ کر میرے حوالے کیا۔ میں نے بھی جلدی سے خدا حافظ کہا اور چل دیا۔ یہ غیر متوقع ملاقات مجھے بہت اچھی لگی۔

مارچ 1987؁ میں مہم ختم ہو گئی۔ بہت سے جوان چھٹیوں پر چلے گئے۔ ایک دن مجھے اپنے سامان میں وہی کاغذ مل گیا جو عراقی اسیر یا بدر ڈویژن کے اسی بسیجی نے مجھے دیا تھا۔ میں بدر ڈویژن کے ان جوانوں سےملنے چلا گیا۔ ڈویژن کے ایک افسر سے کاغذ پر لکھی گئی بٹالین کا پوچھا تو اس نے جواب دیا: ’’یہ بٹالین ختم ہو گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’میں اس کے جوانوں سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘

افسر نے مزید بتایا: ’’جس بٹالین کا آپ پوچھ رہے ہیں، یہ اپنے افسر کے ساتھ شلمچہ میں عراق کی طرف سے کیے جانے والے سخت حملے میں عراقی فوج کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ اگرچہ عراقی فوج نے انہیں شدید نقصان پہنچایا مگر وہ لوگ پھر بھی جم کر مقابلہ کرتے  رہے اور پیچھے نہ ہٹے۔‘‘

اس کے بعد اس نے کچھ لمحے خاموش رہ کر اپنی بات کو آگے بڑھایا: ’’اس بٹالین میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر واپس نہ آیا۔‘‘

میں نے اسے کہا: ’’یہ اٹھارہ افراد عراقی قیدی تھے۔ یہ ان کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ میں ان سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘

وہ آگے بڑھا اور نام میرے ہاتھ سے لے کر ایک اور شخص کو دے دیے۔ تھوڑی دیر گزری تو وہ شخص پلٹ آیا اور کہنے لگا: ’’یہ سب افراد شہید ہو چکے ہیں۔‘‘

میرے پاس کہنے کا کچھ نہ رہا تھا۔ وہیں بیٹھ کر سوچوں میں غرق ہو گیا اور اپنے آپ سے کہا: ’’ابراہیم نے ایک اذان کے ذریعے کیا کام کر ڈالا! ایک ٹیلہ آزاد ہوا، ایک حملہ کامیاب ہوا اور اٹھارہ افراد حضرت حُرؓ کی طرح جہنم کے گڑھے سے نکل کر جنت میں جا پہنچے۔‘‘

اس کے بعد مجھے اپنی وہ بات یاد آ گئی جو میں نے اس عراقی قیدی سے کہی تھی: ’’انشاء اللہ بہشت میں تم ایک دوسرے سے مل لو گے۔‘‘

میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ اس کے بعد خداحافظ کہہ کر میں باہر آ گیا۔

مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ ابراہیم جانتا تھا کہ کہاں اذان دینی ہے تا کہ دشمن کے دلوں کو لرزا دے اور جن لوگوں کے دل میں ابھی ایمان باقی ہے، ان کی ہدایت کرے۔

چفیہ[1]
[عباس ہادی]

1982؁ کے بہار کے دن تھے۔ ابراہیم چھٹی پر تھا۔

رات کے آخری پہر وہ گھر آیا تو ہم تھوڑی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی جیب میں نوٹوں کی ایک بڑی گڈی پڑی ہے۔

میں نے پوچھا: ’’سچ بتاؤ، بھائی! یہ پیسے کہاں سے لاتے ہو؟ میں نے تو ابھی تک تمہیں لوگوں کی مدد کرتے یا انجمن کے لیے خرچ کرتے ہی دیکھا ہے۔ اور اب یہ اتنے پیسے تمہاری جیب میں پڑے ہیں!‘‘ اس کے بعد میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا: ’’سچ سچ بتاؤ، کوئی خزانہ تو ہاتھ نہیں لگ گیا؟!‘‘

ابراہیم ہنس کر کہنے لگا: ’’نہیں یار، میرے دوست مجھے یہ سب پیسے دے دیتے ہیں اور بتا بھی دیتے ہیں کہ انہیں کہاں خرچ کرنا ہیں۔‘‘

اگلے دن میں اور ابراہیم بازار گئے اور کچھ چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں سے گزرتے ہوئے اپنی مطلوبہ دکان تک پہنچ گئے۔

دکان کافی بڑی تھی۔ دکان کا معمر مالک اور اس کے شاگرد ایک ایک کر کے ابراہیم سے گلے ملنے اور بوسے لینے لگے۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ ابراہیم کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

معمول کی کچھ گفتگو کے بعد ابراہیم نے کہا: ’’جناب، میں کل انشاء اللہ گیلان غرب جا رہا ہوں۔‘‘

دکاندار نے پوچھا: ’’ابرام جان، جوانوں کے لیے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟‘‘

ابراہیم نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور دکاندار کو دیتے ہوئے کہنے لگا: ’’ان چند چیزوں کے علاوہ ایک ویڈیو کیمرے کی بھی ضرورت ہے، چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ جنگ اور اس کے دوران دکھائی جانے والی بہادری کے مناظر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں۔ مستقبل میں آنے والے لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ کس انداز میں اس ملک اور اس دین کی حفاظت کی گئی ہے۔‘‘

اس کے بعد اس نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’اس کے علاوہ مجاہد بھائیوں کےلیے زیادہ تعداد میں چفیے بھی چاہییں۔‘‘

یہاں تک بات پہنچی تو دکاندار کا بیٹا جو ابراہیم کی باتیں سن رہا تھا آگے بڑھ کر کہنے لگا: ’’دوربین تو ہو گئی، مگر آغا ابرام ، چفیہ کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ بھی آوارہ اور بے کار لوگوں کی طرح اپنی گردن پر رومال باندھنا چاہتے ہیں؟!‘‘

ابراہیم نے تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد جواب دیا: ’’بھائی، چفیہ فقط گردن کا رومال ہی نہیں ہے بلکہ مجاہد بھائی جب بھی وضو کرتے ہیں تو چفیہ ان کے لیے تولیے کا کام کرتا ہے، جب نماز پڑھتے ہیں تو ان کی جائے نماز بن جاتا ہے، زخمی ہوں تو اس سے زخم باندھ لیتے ہیں۔۔۔‘‘

بوڑھے دکاندار نے فوراً بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا، آغا ابرام، ہم اس کا بھی انتظام کر لیں گے۔‘‘

اگلے دن ظہر سے پہلے کا وقت تھا۔ میں گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ وہی بوڑھا دکاندار بار سے لدی ہوئی ایک وانٹ[2] لے آیا۔  میں جلدی سے گھر میں داخل ہو گیا اور ابراہیم کو آواز دی۔

اس بوڑھے دکاندار نے ایک ویڈیو کیمرہ اور کچھ دوسرا سامان ابراہیم کے حوالے کیا اور کہنے لگا: ’’ابرام جان، یہ چفیہ سے بھری ہوئی گاڑی بھی میں لے  آیا ہوں۔‘‘

بعد میں ابراہیم بتایا کرتا تھا کہ معرکہ فتح المبین میں ہم نے ان چفیوں سے بہت سے کام لیے۔

آہستہ آہستہ چفیوں کا استعمال مجاہدین اسلام کی ایک خاص علامت بن گیا۔

شوخ طبعی
[علی صادقی، اکبر نوجوان]

کام کے وقت ابراہیم کافی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا تھا لیکن جب ہنسی مذاق کا موقع ہوتا تو وہ بہت ہی خوش طبع اور ہنس مکھ واقع ہوتا تھا۔  حقیقت میں لوگ ابراہیم کو اسی بات کی وجہ سے بہت پسند بھی کرتے تھے۔

کھانا کھانے کا اس کا اپنا ہی انداز تھا۔ جب کھانا زیادہ ہوتا تو وہ خوب کھاتا اور کہتا تھا: ’’ہمارا جسم کھیل اور زیادہ کام کی وجہ سے زیادہ خوراک کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘

کرمانشاہ میں ایک دن وہ گیلان غرب کے ایک مقامی جوان کے ساتھ سری پائے کے ہوٹل پر گیا۔ وہاں وہ دو بندے مل کر تین بکروں سری پائے  ہڑپ کر گئے!!

ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ایک دوست نے ابراہیم کو دن کے کھانے پر بلایا۔ اس نے 3 بندوں کے لیے 6 مرغ بھونے اور کافی مقدار میں چاول وغیرہ بھی پکا لیے۔ ان لوگوں نے اس میں سے ایک نوالہ بھی نہ چھوڑا۔

*****

جن دنوں ابراہیم زخمی تھا تو میں اس کی عیادت کے لیےگیا۔ اس کے بعد ہم دونوں موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ایک دوست کے گھر افطاری کی دعوت پر چلے گئے۔

میزبان ابراہیم کا قریبی دوست تھا۔ وہ تو کافی تکلف سے کام لے رہا تھا مگر ابراہیم کسی تکلف کا روادار نہ تھا۔ اس نے کوئی کسر نہ چھوڑی اور دسترخوان پر ایک چیز بھی باقی نہ بچی۔

ہمارا دوست جعفر جنگروی بھی وہیں پر تھا۔ افطار کے بعد وہ بار بار ساتھ والے کمرے میں جاتا اور اپنے دوستوں کو بلاتا۔ ان سب کو ایک  ایک کر کے کمرے میں لاتا اور کہتا: ’’ابرام جان، یہ بہت شدت سے تمہیں ملنے کے مشتاق تھے اور ۔۔۔‘‘

ابراہیم، جس نے کافی کھانا کھالیا تھا اور اس کے پاؤں میں درد بھی ہو رہا تھا، بے چارہ مجبور تھا کہ بار بار ہر آنے والے دوست کے لیے اٹھے اور اس کی روبوسی کرے۔ جعفر اس کے پیچھے کھڑا کھڑا خاموشی سے ہنسے جا رہا تھا۔

جیسے ہی ابراہیم بیٹھتا، جعفر دوسرے کمرے میں جا کر ایک اور دوست کو لے آتا۔ اس نے کئی بار ایسا ہی کیا۔

ابراہیم جو خاصا تنگ آ چکا تھا، اپنے خاص دھیمے لہجے میں کہنے لگا: ’’جعفر جان، ہماری باری بھی آئے گی۔‘‘

رات کے آخری پہر ہم واپس پلٹنے لگے۔  ابراہیم میری موٹرسائیکل پر بیٹھ کر کہنے لگا: ’’جلدی چلو۔‘‘

جعفر بھی اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہمارے پیچھے پیچھے آنے لگا۔ ہم اس سے کافی آگے نکل آئے اور ایک چوکی پر آ کر ٹھہر گئے۔ میں ٹھہر گیا۔ ابراہیم نے اونچی آواز میں کہا: ’’بھائی، ذرا یہاں آنا۔‘‘

ایک مسلح جوان آگے بڑھا۔

ابراہیم نے کہا: ’’پیارے دوست، میں فوجی ہوں اور یہ میرا دوست بھی فوجی ہے۔ ہم سپاہ پاسداران سے ہیں۔ ایک موٹر سائیکل ہمارا پیچھا کر رہا ہےجو۔۔۔‘‘

پھر تھوڑا ٹھہر کر کہنے لگا: ’’میں کچھ نہ کہوں تو بہتر ہی ہے۔ لیکن تم ذرا ہوشیار رہو۔ میرا خیال ہے کہ اس کے پاس اسلحہ بھی ہے۔‘‘

اس کے بعد اس نے مسلح جوان کو خدا حافظ کہا اور ہم چل دیے۔ میں فٹ پاتھ پر ہی تھوڑا سے آگے جا کر کھڑا ہو گیا۔ ہم دونوں ہنس رہے تھے۔

جیسے ہی جعفر کی موٹر سائیکل پہنچی، چار مسلح جوانوں نے موٹر سائیکل کو گھیر لیا۔

اس کے بعد ان کی نظر جعفر کی کمر سے لٹکے پستول پر پڑ گئی۔ اس کے بعد تو اس نے بہتیرا شور مچایا مگر کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔۔۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد اس ٹولی کا افسر آیا تو اس نے جعفر کو پہچان لیا۔ اس نے کافی معذرت خواہی کی اور اپنے سپاہیوں سے کہا: ’’یہ حاج جعفر ہیں جو سید الشہداء علیہ السلام ڈویژن کے افسران میں سے ہیں۔‘‘

ان جوانوں نے کافی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معذرت خواہی کی۔ جعفر جو بہت ہی غصے میں تھا، اپنا اسلحہ اٹھا کر سیدھا موٹر سائیکل پر بیٹھا اور چل دیا۔

تھوڑا آگے آیا تو اس نے ابراہیم کو دیکھ لیا جو فٹ پاتھ پر کھڑا زور زور سے ہنس رہا تھا۔ اب جعفر کی سمجھ میں سارا ماجرا آ چکا تھا۔

ابراہیم نے آگے بڑھ کر جعفر کو گلے لگا لیا اور اسے بوسہ دیا۔ جعفر کا غصہ ہوا ہو گیا اور وہ بھی ہنسنےلگا اور خدا کا شکر کہ اسی ہنسی پر سارا معاملہ ختم ہو گیا۔

دو بھائی
[علی صادقی]

شہید شہبازی کی رسم قل میں شرکت کے لیے ہم ایک سرحدی شہرمیں گئے۔ وہاں کے مقامی رسم و رواج کے مطابق قُل کی رسومات صبح سے ظہر تک جاری رہتی تھیں۔ ظہر کے وقت مہمانوں کے لیے لوٹا اور لگن لے آتے اور ان کے ہاتھ دھلا کر دن کا کھانا پیش کیا جاتا اور کھانے کے ساتھ ہی تقریب اپنے اختتام کو پہنچ جاتی۔

ہم جیسے ہی تقریب میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ جواد ایک اہم جگہ پر براجمان ہے اور اس کے ساتھ ابراہیم بھی بیٹھا ہوا ہے۔ میں بھی آگے بڑھ کر ابراہیم کے پاس بیٹھ گیا۔

ابراہیم اور جواد دونوں بہت گہرے دوست تھے اور دو بھائیوں کی طرح سلوک رکھتے تھے۔ ان کے مذاق اور نوک جھونک بھی کافی دلچسپ ہوتی۔

تقریب جیسے ہی ختم ہوئی تو میزبانوں میں سے دو افراد اٹھے اور پانی کا برتن اور لگن لے آئے۔ وہ سب سے پہلے جواد کے پاس آئے۔

جواد اس تقریب کے آداب کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ ابراہیم نے اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ تعجب سے اونچی آواز میں پوچھنےلگا: ’’سچ کہہ رہے ہو؟!‘‘ ابراہیم نے آرام سے کہا: ’’آہستہ، کچھ بھی نہ کہو۔‘‘

اس کے بعد ابراہیم نے میری طرف رُخ کیا۔ وہ بغیر آواز کے بہت زیادہ ہنس رہا تھا۔ میں نے پوچھا: ’’کیا ہوا ابرام؟ نہ ہنسو، بری بات ہے۔‘‘

وہ میری طرف منہ کر کے کہنے لگا: ’’میں نے جواد سے کہا ہے کہ جیسے ہی لوٹا تمہارے پاس آئے تو اپنے سر کو اچھی طرح دھو لینا۔‘‘

تھوڑی دیر گزری تو ایسا ہی ہوا۔ جواد نے ہاتھ دھونے کے بعد اپنا سر لوٹے کے نیچے رکھ لیا اور۔۔۔

جواد کے سر اور داڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور وہ تعجب سے اپنے اردگر بیٹھے لوگوں کے منہ دیکھے جا رہا تھا۔

میں نے کہا: ’’جواد، یہ تم نے کیا کیا؟ یہ کوئی حمام ہے؟‘‘ اس کے بعد میں نے اسے اپنا چفیہ دیا تاکہ وہ اپنا سر خشک کر لے۔

*****

ایک دن اطلاع ملی کہ ابراہیم، جواد اور رضا گودینی چند روزہ مہم ختم کر کے سرحدی چوکی کی طرف سے واپس آ رہے ہیں۔ ان کی سلامتی کی خبر سن کر ہمیں بہت خوشی ہوئی۔

شہید اندرزگو کیمپ کے سامنے ہم سب جمع ہو گئے۔ تھوڑی دیر گزری تو ان کی گاڑی آ کر رکی۔ ابراہیم اور رضا گاڑی سے اترے۔ سب جوان خوشی خوشی ان کے گرد جمع ہو گئے اور گلے ملنے لگے۔

ایک جوان نے پوچھا: ’’آغا ابرام، جواد کہاں ہے؟‘‘ اچانک سبھی خاموش ہو گئے۔

ابراہیم بھی تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد غم و اندوہ سے ڈوبی ہوئی حالت میں بولا: ’’جواد!‘‘ اس کے بعد اس نے آہستہ سے گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف دیکھا۔

وہاں ایک شخص لیٹا تھا جس کے اوپر کمبل تھا پڑا تھا۔ سب جوان خاموش ہو گئے۔

ابراہیم نے کہا: ’’جواد۔۔۔ جواد!‘‘ اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

کچھ جوانوں کی تو روتے روتے چیخیں نکل گئیں: ’’جواد، جواد!‘‘ سب گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف گئے۔ سب رو رہے تھے کہ اچانک جواد کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور پوچھنے لگا: ’’کیا ہوا، کیا ہوا؟!‘‘ وہ ہکابکا اپنے اردگرد کھڑے جوانوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔

سارے جوان اشک آلود چہرے لیے غصے کی حالت میں ابراہیم کی طرف لپکے مگر وہ وہاں سے ہٹ کر جلدی جلدی عمارت کے اندر داخل ہو چکا تھا۔

پستول
[امیر منجر]

1982؁ کی بہار کے دن تھے۔ ہم نے اپنا ساز و سامان اکٹھا کیا، اسلحہ جمع کروایا اور جنوب کی طرف چل پڑے۔ جنگی ہیڈ کوارٹر کے حکم کے مطابق طے پایا تھا کہ خوزستان میں ایک بڑا حملہ کیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ سپاہ اور بسیج کی بھاری نفری جنوب کی طرف نقل مکانی کر چکی تھی۔

اندرزگو گروپ بھی سپاہِ گیلان غرب کے جوانوں کے ساتھ جنوب کی طرف جانے پر تیار ہو گیا۔ آخری دنوں میں سپاہ کرمانشاہ کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی: ’’برادر ابراہیم ہادی نے ایک پستول لیا تھا جو ابھی تک انہوں نے واپس تحویل میں نہیں دیا ہے۔‘‘

ابراہیم نے بہتیرا کہا کہ میرے پاس پستول نہیں ہے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ میں نے کہا: ’’ابراہیم، شاید تم نے پستول لیا ہو اور واپس دینا بھول گئے ہو؟‘‘ اس نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا: ’’اتنا تو مجھے یاد ہے کہ میں نے لیا تھا مگر اس کے بعد میں نے محمد کو دے دیا تھا کہ وہ واپس جمع کروا دے۔‘‘ بعد میں جب چھان بین کی تو پتا چلا کہ پستول محمد کے پاس ہی رہ گیا تھا اور اس نے واپس نہیں کیا تھا۔ اوپر سے وہ ایک ہفتہ پہلے تہران واپس چلا گیا تھا۔

ہم تہران میں محمد کے پتے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ یہاں سے اپنے گاؤں کوہپایہ کی طرف چلا گیا ہے جو اصفہان اور یزد کے راستے میں ہے۔ اسلحہ واپس کرنا ابراہیم کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا اس لیے وہ کہنے لگا: ’’آؤ، اکٹھے کوہپایہ چلتے ہیں۔‘‘

رات کے وقت ہم اصفہان کی طرف چل پڑے۔ وہاں سے کوہپایہ گاؤں چلے گئے۔ علی الصبح وہاں پہنچ گئے۔ موسم تقریباً ٹھنڈا تھا۔ میں نے ابراہیم سے کہا: ’’بہت اچھے، اب ہمیں کہاں جانا چاہیے۔‘‘

اس نے کہا: ’’خدا وسیلہ ساز ہے، وہ خود ہی کوئی نہ کوئی راستہ سجھا دے گا۔‘‘

ہم گاؤں میں تھوڑا گھومے پھرے۔ ایک سن رسیدہ خاتون اپنے گھر کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ اس گاؤں میں ہم اجنبیوں کو دیکھ رہی تھیں۔ ابراہیم گاڑی سے اترا اور بلند آواز سے کہا: ’’سلام، ماں جی۔‘‘

خاتون نے بھی اچھے لہجے میں جواب دیا: ’’سلام بیٹا، کسے ڈھونڈ رہے ہو؟!‘‘

ابراہیم کہنے لگا: ’’خالہ جی، آپ محمد کوہپائی کو جانتی ہیں؟!‘‘

انہوں نے پوچھا: ’’کون سا محمد؟‘‘

ابراہیم نے جواب دیا: ’’وہی جو ابھی ابھی محاذ سے واپس آیا ہے۔ اس کی عمر تقریباً بیس سال ہے۔‘‘

خاتون ہنس دیں: ’’یہاں آؤ۔‘‘ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئیں۔

ابراہیم نے کہا: ’’امیر، گاڑی کھڑی کر دو۔‘‘ اس کے بعد ہم چل پڑے۔

خاتون نے ہمیں اندر بلا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے ناشتہ بنایا اور اچھی طرح ہماری آؤ بھگت کی۔ پھر کہنے لگیں: ’’تم اسلام کے مجاہد ہو۔ خوب اچھی طرح کھاؤ تا کہ مضبوط ہو جاؤ۔‘‘

اس کے بعد کہنے لگیں: ’’محمد میرا نواسہ ہے اور میرے ہی گھر میں رہتا ہے۔ لیکن اس وقت وہ شہر گیا ہوا ہے اور رات تک بھی واپس نہیں آئے گا۔‘‘

ابراہیم کہنے لگا: ’’خالہ جی، معاف کیجیے گا۔ آپ کے اس نواسے نے ایسا کام کر دیا ہے کہ جس کی وجہ سے ہم محاذ سے کھنچے کھنچے یہاں آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘‘

انہوں نے تعجب سے پوچھا: ’’مگر اس نے کیا کیا ہے؟‘‘

ابراہیم نے کہا: ’’اس نے مجھ سے پستول لیا اور اس سے پہلے کہ اسے دفتر میں جمع کرواتا، اپنے ساتھ لے آیا۔ اب ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم اس پستول کو حتماً لے کر آئیں اور دفتر میں جمع کروائیں۔‘‘

وہ کھڑی ہوگئیں اور کہنے لگیں: ’’اس لڑکے کو تو  خدا ہی سمجھائے۔‘‘

ابراہیم نے کہا: ’’ماں جی، اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ ہم زیادہ دیر آپ کو زحمت نہیں دیں گے۔‘‘

خاتون نے کہا: ’’یہاں آؤ۔‘‘ میں اور ابراہیم ایک کمرے میں چلے گئے۔ خاتون کہنے لگیں: ’’اس الماری میں محمد کا سامان پڑا ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے دیکھا کہ وہ ایک چیز لایا اور یہاں رکھ دی۔ اب تم خود ہی تالا کھول کر دیکھ لو۔‘‘

محمد نےکہا: ’’ماں جی، بغیر اجازت کے کسی کا سامان ٹٹولنا اچھی بات نہیں ہے۔‘‘

وہ خاتون کہنے لگیں: ’’اگر میں کر سکتی تو خود ہی کھول لیتی۔‘‘

اس کے بعد وہ جا کر ایک پیچ کس لے آئیں۔ میں نے پیچ کس پھنسا کر جھٹکا دیا تو الماری کا وہ چھوٹا سا تالا کھل گیا۔

الماری کا دروازہ کھلا تو دیکھا کہ سامان کے اوپر پستول ایک سفید کپڑے میں لپٹا صاف نظر آ رہا تھا۔ ہم نے پستول اٹھایا اور کمرے سے باہر آ گئے۔

خداحافظ کہتے وقت ابراہیم نے پوچھا: ’’ماں جی، آپ نے ہم پر اتنا اعتماد کیسے کر لیا؟‘‘

وہ خاتون کہنے لگیں: ’’اسلام کا سپاہی کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ کیا تم اس نورانی چہرے کے ساتھ جھوٹ بول سکتے ہو؟‘‘

ہم وہاں سے چل دیے اور تہران آ گئے۔ اصفہان کے ہائی وے پر جا رہے تھے کہ میری نظر فوجی توپخانے کی بیرک پر پڑی۔ میں نے کہا: ’’آغا ابرام، تمہیں یاد ہے کہ سرپل ذہاب  میں توپخانے کا ایک کمانڈر تھا جو حملوں میں ہماری بہت مدد کیا کرتا تھا۔‘‘

ابراہیم نے پوچھا: ’’آغا مداح کی بات کر رہے ہو؟‘‘

میں نے کہا: ’ہاں، وہ اب اصفہان کے توپخانے کا انچارج ہو گیا ہے۔ شاید اب بھی یہیں ہو۔‘‘

اس نے کہا: ’’بہت اچھے، چلو اسے ملنے چلتے ہیں۔‘‘

ہم بیرک کے سامنے پہنچ گئے اور اپنی گاڑی کھڑی کر دی۔ ابراہیم اتر کر نگہبانی والے کمرے کی طرف چلا گیا اور کہا: ’’سلام، آغا مداح یہیں ہوتے ہیں؟‘‘

نگہبان نے ابراہیم پر نظر ڈالی اور سر سے لے کر پاؤں تک اس کا جائزہ لینے لگا کہ کُردی شلوار، لمبی قمیض، اور سادہ چہرے والا ایک شخص آغا مداح، بیرک کے انچارج کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔

میں نے آگے بڑھ کر کہا: ’’بھائی، ہم آغا مداح کے دوست ہیں اور محاذ سےآ رہے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو ہم ان سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘

نگہبان نے فون ملایا اور ہمارا تعارف کروایا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ انچارج کے دفتر کی طرف سے دو چیپیں داخلی دروازے کی طرف آ گئیں۔ کرنل مداح ہمیں دیکھتے ہی ابراہیم سے لپٹ گیا اور اسے بوسے دینے لگا۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے بھی روبوسی کی اور اصرار کرتا ہوا اپنے دفتر میں لے گیا۔

اس کے بعد وہ ہمیں میٹنگ ہال میں لے گیا۔ تقریباً بیس فوجی افسران اس کمرے میں پہلے ہی سے موجود تھے۔ میٹنگ آغا مداح کی صدارت میں ہو رہی تھی۔ اس نے ہمارے لیے دو کرسیاں منگوائیں اور ہم بھی میٹنگ کے شرکاء میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے بات کرنا شروع کی: ’’دوستو! تم سب مجھے جانتے ہو۔ چاہے انقلاب سے پہلے 9 روزہ جنگ ہو یا دفاع مقدس کے پہلے سال کی جنگ، میں نے تمغہ ہائے شجاعت کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔ میرے توپخانے کے جوانوں نے سخت ترین ذمہ داریوں کو بھی احسن انداز میں انجام دیا اور تمام حملوں میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ میں نے خود بھی وطن اور ولایت میں سخت ترین اور اہم ترین فوجی تربیت کے کورسز کر رکھے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگ ایسے تھے اور اب بھی ہیں کہ جنہوں نے میری ساری کی ساری تعلیم اور تجربے پر سوالیہ نشان ڈال کر رکھ دیا۔‘‘

اس کے بعد اس نے مثال دیتے ہوئے کہا: ’’دنیا کی جنگوں کا قانون کہتا ہے کہ اگر تم ایک ایسی جگہ حملہ کرتے ہو جہاں دشمن کے سو افراد ہیں تو تمہارے افراد کی تعداد تین سو ہونا چاہیے۔ تمہاری مہمیں اور حملے بھی زیادہ ہوں تاکہ کامیابی حاصل ہو سکے۔‘‘

پھر اس نے تھوڑا وقفہ لیا اور اپنے بات کو جاری رکھا: ’’یہ آغا ہادی اور ان کے دوست ایسے کارنامے انجام دیتے رہے ہیں جو واقعاً بہت عجیب تھے۔ مثلاً بعض اوقات انہوں نے سو افراد سے بھی کم نفری کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا مگر اپنی تعداد سے زیادہ دشمن کے فوجیوں کو مارا یا انہیں اسیر کر لیا۔ میں بھی ان حملوں کی لاجسٹک کا فریضہ انجام دیتا رہتا تھا۔‘‘

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ یہ لوگ بازی دراز کے علاقے میں حملہ کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت جب میں نے حملہ کرنے والوں کے سازوسامان اور دوسری جنگی شرائط کا جائزہ لیا تو اپنے دوست سے کہا: ’’یہ لوگ حتماً شکست سے دوچار ہوں گے۔‘‘ لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ انہوں نے نہ صرف دشمن کے ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا بلکہ اپنے سے زیادہ تعداد میں دشمن کو فوجیوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔‘‘

میٹنگ میں موجود ایک جوان افسر نے کہا: ’’بہت اچھے، آغا ہادی، اگر آپ خود ہی اس حملے کی تفصیل بتا دیں تو اچھا رہے گا تا کہ ہم بھی کچھ سیکھ لیں۔‘‘

ابراہیم جو سر نیچے جھکائے بیٹھا تھا، کہنے لگا: ’’نہیں میرے بھائی، ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ آغا مداح نے کچھ زیادہ ہی مبالغہ کر دیا۔ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ جو کچھ تھا وہ خدا کا لطف و کرم تھا۔‘‘

آغا مداح نے کہا: ’’ان سے اور ان کے دوستوں سے جو بات ہم نے سیکھی وہ یہ تھی کہ حملہ اور افراد کی تعداد اہم نہیں بلکہ جنگ میں جو چیز کلیدی حیثیت رکھتی ہے وہ جوانوں کا مورال اور جوش و جذبہ ہے۔ یہ لوگ ایک تکبیر سے دشمن کے دل میں وہ خوف بٹھا دیتے تھے جو سینکڑوں توپوں اور ٹینکوں سے بھی زیادہ ہوتا تھا۔‘‘

اس کے بعد آغا مداح نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’ان کا ایک دوست تھا جو جسمانی لحاظ سے تو چھوٹے قد کا تھا مگر قدرت و شہامت میں آپ کی توقعات سے بھی کہیں بڑھ کر تھا۔ اس کا نام اصغر وصالی تھا جو جنگ کے ابتدائی دنوں میں اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔ میں نے ان بسیجی اور مخلص جوانوں سے قرآن کی اس آیت کو اچھی طرح سمجھا کہ جس میں خدا فرماتا ہے: اگر تم بیس لوگ صابر اور ثابت قدم رہو تو دو سو افراد پر غلبہ پا سکتے ہو۔‘‘

لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد ہم میٹنگ سے باہر نکلے۔ میٹنگ کے شرکاء سے معذرت خواہی کی اور تہران کی طرف چل پڑے۔ میں راستے میں اس دن پیش آنے والے تمام واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔

ابراہیم نے واقعات سے بھرے اسے پستول کو دفتر میں جمع کروایا اور اندرزگو گروپ کے جوانوں کے ساتھ جنوب کی طرف خوزستان چلا گیا۔

گیلان غرب میں چودہ ماہ کا عرصہ تمام تلخ و شیرین واقعات کے ساتھ ختم ہوا۔ اس عرصے میں شجاعت و بہادری کی عظیم داستانیں رقم ہوئیں۔ اس مدت میں ایک چھوٹے سے چھاپہ مار گروپ نے عراقی فوج کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس تین بریگیڈز کو اپنے حملوں سے ختم کر کے رکھ دیا تھا۔


[1] یہ ایک خاص قسم کا رومال ہوتا ہے جسے عرف عام میں چفیہ یا بسیجی رومال کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خاص ڈیزائن کا رومال ہوتا ہے جو عام طور پر دو رنگوں میں ہوتا ہے:سفید اور کالا۔  اس کے اوپر مربع شکل کے خانے بنے ہوتے ہیں۔ اگر رومال کی زمین کالی ہو تو خانوں کی دھاریاں سفید ہوتی ہیں اور اگر زمین سفید ہو تو دھاریاں سیاہ ہوتی ہیں۔ یہ رومال تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران ایرانی فوجی اور رضاکار جنگجووں کے سر یا کندھوں پر ہمیشہ یہ رومال رہتا تھا۔ 

[2] ایران میں باربرداری کے لیے استعمال ہونے والی ایک گاڑی۔