آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

سادگی
[شہیدؒ کے کچھ دوست]

جنگ کے ابتدائی دنوں میں ابراہیم بہت سے فوجی جوانوں کا آئیڈیل بن گیا تھا۔ بہت سے جوان اس کی دوستی پر فخر کرتے تھے لیکن وہ ہمیشہ ایسا رویہ رکھتا تھا کہ سب سے کمتر دکھائی دے، مثلاً وہ عام طور پر اپنی وردی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا۔ عموماً کُردی شلوار اور لمبی قمیص پہنے رکھتا تا کہ ایک تو مقامی لوگوں میں گھل مل سکے اور دوسرے اپنے نفس پر قابو رکھ سکے۔ وہ سادہ اور صاف ستھرا رہتا تھا۔ جب ہم نے اسے پہلی بار دیکھا تو یہی سمجھے کہ یہ فوجی جوانوں کا خدمتگار ہے، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس کی شخصیت کھل کر ہمارے سامنے آ گئی۔

ابراہیم کا مزاج ہمیشہ سے روایتی انداز سے ہٹ کر تھا۔  وہ اپنی ظاہری شکل و صورت کی طرف توجہ دینے کی بجائے زیادہ تر باطن کی فکر میں رہا کرتا تھا۔ دوسرے جوان بھی اس کی پیروی کرتے تھے۔

وہ ہمیشہ کہا کرتاتھا: ’’جوانوں کی ظاہری ٹیپ ٹاپ اور یونیفارم کی نسبت زیادہ ضروری یہ ہےکہ ہم ان کی روحانی اور معنوی تعلیم و تربیت پر دھیان دیں  اور جہاں تک ممکن ہو اپنے جوانوں کے دوست بن کر رہیں۔‘‘ اسی فکر کا نتیجہ اس گروپ کے حملوں میں نظر آتا تھا ، ہرچند کہ بعض جوانوں کے ابراہیم سے اختلافات بھی ہو جایا کرتے تھا۔

*****

ابراہیم نے چیتا پرنٹ والا ایک کپڑا خریدا اور ایک درزی کو دیتے ہوئے کہا: ’’کُردی لباس کا ایک جوڑا میرے لیے سی دو۔‘‘ اگلے دن اس نے درزی سے لباس لے کر پہن لیا۔وہ ان کپڑوں میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔  انہی کپڑوں میں وہ چھاؤنی سے باہر نکل گیا۔گھنٹہ بھر گزرا ہو گاکہ فوجی وردی میں واپس آ گیا۔

میں نے پوچھا: ’’تمہارے کپڑے کہاں ہیں؟‘‘  کہنے لگا: ’’ایک کُرد جوان کو میرے کپڑے بہت پسند آ گئے تو میں نے اسے تحفے میں دے دیے۔‘‘

اس نے اپنی گھڑی بھی ایک شخص کو دے دی تھی۔ اس شخص نے ابراہیم سے وقت پوچھا تھا لیکن ابراہیم نے اسے گھڑی ہی اتار کر دے دی تھی۔ اس طرح کے سادہ سے کام اس بات کا باعث بنے کہ مقامی کُرد افراد ابراہیم کے دلدادہ ہو کر شہید اندرزگو گروپ میں شامل ہو گئے۔ ابراہیم اپنی مکمل سادہ زیستی کے باوجود بھی سیاسی مسائل سے مکمل آگاہی رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ سیاسی امور کا تجزیہ بھی بہت ہی اچھے انداز میں کیا کرتا تھا۔

کیمپ میں امام خمینیؒ اور شہید بہشتیؒ کی تصویریں لگانے کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کے مغربی دفتر، جو براہِ راست بنی صدر[1] کے تحت کام کرتا تھا، نے شہید اندرزگو گروپ کو ختم کرنے اور ان کا کھانا پینا روک دینے کا حکم صادر کر دیا۔ لیکن مغربی علاقے کے کمانڈر نے اس علاقے میں اس گروپ کی موجودگی کو ضروری قرار دے دیا اور کہا کہ ہمارے سارے حملوں کی منصوبہ بندی اور اجراء یہی گروپ تو کرتا ہے۔ کچھ عرصے تک اسی کمانڈر کی تگ و دو سے یہ پابندی ختم ہو گئی۔

ایک روز اعلان کیا گیا کہ بنی صدر کرمانشاہ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ابراہیم، جواد اور کچھ دوسرے جوانوں کو ساتھ لے کر حاج حسین کے ہمراہ کرمانشاہ چلا گیا۔ فوجی افسران بن ٹھن کر بنی صدر کے منتظر تھے، لیکن اندرزگو گروپ کے جوانوں کا حلیہ بہت ہی دلچسپ تھا۔ وہ اسی سادہ انداز میں روزمرہ استعمال ہونے والے کُردی لباس میں بنی صدر کے استقبال کو چلے گئے۔ ہرچند کہ ان کا مقصد کوئی اور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس شخص سےمل کر اور بات چیت کر کے دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح کے فوجی نظریے کے تحت جنگ کو کنٹرول کر رہا ہے۔

اس دن ہم کافی خوار ہوئے۔ انتظار کرتے کرتے آخر میں اعلان کر دیا گیا کہ فنی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کرمانشاہ نہیں آ سکے گا۔

کچھ عرصے بعد آیت اللہ خامنہ ای حفظہ اللہ تعالیٰ کرمانشاہ آئے۔ ان دنوں وہ تہران کے امام جمعہ تھے۔ ابراہیم سارے جوانوں کو اپنے ساتھ لے آیا۔ انہوں نے اسی طرح سادہ حلیے کے ساتھ رہبر معظم سے ملاقات کی اور اس کے بعد ایک ایک کر کے  سب ان کے گلے ملے اور ان کے چہرے پر بوسہ دیا۔

چم[2] امام حسنؑ
[حسین اللہ کرم]

دشمن کے ٹھکانوں پر بھرپور حملے کرنے کے لیے ہم تیار ہو چکے تھے۔ابراہیم، جواد افراسیابی، رضا دستوارہ، رضا چراغی اور چار دوسرے اشخاص اس کام کے لیے منتخب ہوئے۔بعد میں مقامی کُرد قبیلے کے دو افراد  بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ وہ راستوں کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ہم نے ایک ہفتے کا آذوقہ اپنے ساتھ لے لیا جو زیادہ تر روٹی اور کجھور پر مشتمل تھا۔ کافی مقدار میں اسلحہ، بارود اور بارودی سرنگوں کا سامان بھی ہم نے اپنے بیگوں میں بھر لیا اور چل پڑے۔

بلند چوٹیوں  اور دریائے امام حسنؑ کو عبور کرتے ہوئے ہم چمِ امام حسنؑ پہنچ گئے۔ وہاں عراقی فوج کی پوری ایک بریگیڈ پڑاؤ ڈالے ہوئی تھی۔  ہم آس پاس کے نالوں میں اور ٹیلوں کے پیچھے چھپ گئے۔

دشمن سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایرانی فوج کے جوان ان بلندیوں کو عبور کر سکیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم انتہائی پرسکون ہو کر نقشے بنانے میں جُت گئے۔

ہم تین دن تک وہاں رہے۔اگرچہ تیز بارش نے ہمارے کام کی رفتار تھوڑی دھیمی کر دی تھی مگر دوستوں کی ہمت اور محنت کی وجہ سے ہم نے اس علاقے کے انتہائی دقیق نقشے تیار کر لیے۔

ریکی اور نقشے بنانے کے کام سےفارغ ہونے کے بعد ہم فوجی راستے کی کھوج میں نکل کھڑے ہو گئے۔ ہم نے کچھ بارودی سرنگیں وہاں نصب کیں۔ اس کے بعد جلدی سے اپنی فوج میں واپس آ گئے۔

ابھی زیادہ دور نہ ہوئے تھے کہ کچھ دھماکوں کی آواز سنائی دی۔ ہم نے دیکھا کہ دشمن کی کاریں اور بکتر بند گاڑیاں آگ میں جل رہی تھیں۔

ہم جلدی سے اس خطرے والی جگہ سے دور ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہم اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ دشمن کی ٹینک پیادہ فوجیوں کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہیں۔ ہم نالوں کے اندر سے گزرتے اور ٹیلوں کے پیچھے چھپتے چھپاتے دریائے امام حسنؑ تک پہنچ گئے۔ ہمارے دریا عبور کر جانے کے بعد ٹینک ہمارا تعاقب جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔

دریا سے نکل کر ہم نے ایک مناسب جگہ دیکھ لی اور وہاں آرام کرنے لگے۔ کچھ منٹ گزرے تو دور سے ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی۔

اس کا تو ہم نے سوچا ہی نہ تھا۔ ابراہیم نے جلدی سے نقشے ایک بیگ میں ڈالے اور رضا کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’میں اور جواد یہیں رہیں گے۔ تم جلدی سے یہاں سے نکلو۔‘‘

اب کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہم نے اضافی میگزینیں اور کچھ دستی بم بھی انہیں تھما دیے اور غم و اندوہ کی حالت میں ان سے جدا ہو کر چل پڑے۔

اس مشن کا اصل مقصد ان نقشوں کا حصول تھا۔ ان نقشوں نے بعد میں ہونے والی مہمات کی کامیابی میں بہت زیادہ کردار ادا کرنا تھا۔

ہم نے دور سےدیکھا کہ ابراہیم اور جواد مسلسل اپنی جگہ تبدیل کر  رہے تھے اور اپنی جی ۳ کے ساتھ ہیلی کاپٹر کی طرف گولیاں برسا رہے تھے۔ عراقی ہیلی کاپٹر بھی موڑ کاٹ کاٹ کر ان کی طرف بمباری کر رہا تھا۔

دو گھنٹے بعد ہم چوٹیوں پر پہنچ گئے۔ اب کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ ایک جوان جو ابراہیم سے بہت محبت رکھتا تھا، رو رہا تھا۔ ہمیں ان کی کوئی خبر نہ تھی۔ نہیں جانتے تھے کہ وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں۔

مجھے یاد آ گیا کہ کل جب ہم نالوں میں چھپے ہوئے تھے تو  ابراہیم پُر سکون انداز میں مقابلہ کرنے اور کھیلنے لگا۔

اس کے بعد وہ اپنے گروپ کے کُردی جوانوں کو فارسی زبان سکھاتا رہا۔ اس کا لہجہ اتنا پر سکون تھا کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ ہم دشمنوں میں گھرے بیٹھے ہیں۔

جب نماز کا وقت ہوا تو وہ بلند آواز میں اذان دینا چاہتا تھا لیکن ساتھیوں کے اصرار پر اس نے بہت ہی آہستہ آواز میں اذان کہی۔ اس کے بعد ایک خاص روحانی کیفیت لیے نماز میں مشغول ہو گیا۔ اس وقت ابراہیم میں ایسی شجاعت اور بہادری دکھائی دے رہی تھی کہ سبھی ساتھیوں کے دلوں سے ڈر ختم ہو گیا۔ اب رات ہو چکی تھی۔ ابراہیم کو دیکھے کافی وقت ہو چکا تھا۔

ہم اپنے معین کردہ مقام پر پہنچ گئے۔ابراہیم اور جواد کے ساتھ طے پایا تھا کہ وہ روشنی ہونے سے پہلے پہلے اس جگہ پر پہنچ جائیں۔

کچھ گھنٹے ہم نے آرام کیا لیکن ان کی کوئی خبر نہ آئی۔ فضا میں تھوڑی تھوڑی روشنی پھیلنے لگی تھی لیکن ہمیں اس جگہ سے نکلنا تھا۔ ہمارے ساتھی مسلسل ذکر و دعا میں مصروف تھے۔ ہم چلنے ہی والے تھے کہ دور سے ایک آواز سنائی دی۔ ہم نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے اور بیٹھ گئے۔

کچھ دیر بعد آوازوں سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ ابراہیم اور جواد ہیں۔ سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ ہم تازہ دم ساتھیوں کےساتھ ان کی مدد کو لپکے۔ اس کے بعد جلدی جلدی ہم نے اس جگہ کو چھوڑ دیا۔

اس مہم میں تیار ہونے والے نقشوں نے بعد کی مہموں میں بہت زیادہ بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ مہم ابراہیم اور اس کے گروہ کے بہادر جوانوں کی ہمت و شجاعت کے بغیر سر ہونے والی نہیں تھی۔ اگلے دن ظہر کے وقت ابراہیم اور جواد ہمیشہ کی طرح تروتازہ اور بھرپور انداز میں اپنے جوانوں کے بیچ موجود تھے۔ میں رضا کو ساتھ لیے ابراہیم کے پاس چلا گیا۔ میں نے کہا: ’’بھائی ابرام، کل جب ہیلی کاپٹر پہنچا تو اس وقت تم نے کیا کیا تھا؟‘‘

اس نے ہمیشہ کی طرح سکون سے جواب دیا: ’’خدا نے مدد کی۔ میں اور جواد ایک دوسرے سے دور ہو کر اپنی جگہ بار بار تبدیل کرتے رہے اور ہیلی کاپٹر کی طرف گولیاں برساتے رہے۔ ہیلی کاپٹر بھی بار بار چکر کاٹ کر ہماری طرف بمباری کرتا رہا۔  جب اس کے تمام گولے ختم ہو گئے تو وہ واپس چلا گیا۔ ہم بھی عراقی پیادہ فوجیوں کے آنے سے پہلے پہلے جلدی جلدی چوٹی کی طرف بڑھنے لگے۔ البتہ کچھ چھرے ہمیں ضرور لگے تا کہ یادگار رہ جائیں۔‘‘

قیدی
[مہدی فریدوند، مرتضیٰ پارسائیان]

دوسروں کا احترام کرنا، ابراہیم کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت تھی۔ یہاں تک کہ وہ جنگی قیدیوں کا بھی احترام کیا کرتا تھا۔ ہم ہمیشہ اس کے منہ سے یہ سنتے تھے کہ : ’’ہمارے یہ دشمن زیادہ تر جاہل اور ناآگاہ لوگ ہیں۔  ہمارے اندر انہیں حقیقی اسلام کی جھلک دِکھنی چاہیے۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ یہی لوگ بعثی حکومت کے مخالف  ہو جائیں گے۔‘‘

یہی وجہ تھی کہ اکثر مہموں میں اس کی یہ کوشش ہوتی کہ وہ دشمن فوجیوں کی طرف گولیاں برسانے کی بجائے انہیں اپنی قید میں لے لے۔ قیدیوں کے ساتھ بھی اس کا سلوک بہت اچھا ہوتا تھا۔

ہمارے جوان تین عراقی فوجیوں کو قید کر کے شہر میں لے آئے۔ ابھی تک ان کی نگرانی کے لیے کسی جگہ کا بندوبست نہیں کیا گیا تھا۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہم نے ابراہیم کے سپرد کر دی۔ جو سامان بھی ہمارے واسطے آتا یا جو کچھ بھی ہم کھاتے، ابراہیم اسے ان قیدیوں میں بھی تقسیم کر دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب لوگ حتی کہ وہ قیدی بھی ابراہیم پر فریفتہ ہو گئے۔ اسے تھوڑی بہت عربی بھی آتی تھی۔ فارغ اوقات میں وہ ان کے پاس بیٹھ جاتا اور ان کے ساتھ باتیں کیا کرتا۔

ابراہیم دو دن تک ان کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی آ گئی۔ انہوں نے ابراہیم سے پوچھا: ’’تم بھی ہمارے ساتھ آؤ گے؟‘‘ جب انہوں نے ابراہیم کی طرف سے نفی میں جواب سنا تو بہت رنجیدہ ہوئے۔ وہ روتے ہوئےدرخواست کر رہے تھے: ’’ہمیں یہیں رہنے دیا جائے۔ جو کچھ آپ لوگ کہیں گے ہم کریں گے حتی کہ ہم بعثیوں کے ساتھ جنگ کرنے پر بھی تیار ہیں۔‘‘

 منطقہ ’’بازی دراز‘‘ کی چوٹیوں پر حملے کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہم دو افراد چوٹی کی بلندی کی طرف تھوڑا سا آگے بڑھے۔ ہم اپنے ساتھیوں سے دور ہو گئے تھے۔ ایک مورچے پر پہنچے کہ جس میں بہت سے عراقی فوجی موجود تھے۔ میں نے اسلحے سے انہیں باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ اتنے زیادہ ہوں گے۔ ہم دو جبکہ وہ پندرہ تھے۔ میں نےانہیں چلنے کو کہا مگر وہ اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں رہے تھے۔

وہ ہمارے سامنے ایسے کھڑے ہو گئے کہ جب بھی ممکن ہو ہم پر حملہ کر دیں۔ شاید انہوں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ہم دو ہوں گے۔

میں دوبارہ چلّایا: ’’جلدی چلو۔‘‘ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا لیکن وہ سب اپنے پیچھے کھڑے اپنے افسر کی طرف دیکھ رہے تھے۔بعثی افسر اپنی بھنووں کو اوپر کی طرف حرکت دے رہا تھا یعنی  نہ جاؤ۔ میں خود بہت ڈر گیا تھا۔ ابھی تک ایسی صورتحال سے پالا نہیں پڑا تھا۔ خوف سے میرا منہ کڑوا ہو گیا۔ ایک دفعہ تو میں نے سوچا کہ ان سب کو کلاشنکوف سے بھون ڈالوں مگر یہ درست نہیں تھا۔

کسی بھی وقت کوئی برا اتفاق پیش آ سکتا تھا۔ میں نے ڈر کے مارے اسلحے کو مضبوطی سے تھام لیا۔ خدا سے مدد طلب کی۔ اچانک مورچے کے پیچھے سے ابراہیم نظر ا ٓگیا۔ وہ ہماری طرف آ رہا تھا۔ مجھے عجیب سا اطمینان حاصل ہو گیا۔ وہ جیسے ہی پہنچا تو میں نے قیدیوں کی طرف دیکھے دیکھے کہا:’’آغا ابرام، مدد کرو!‘‘

 اس نےپوچھا: ’’کیا ہوا؟!‘‘

میں نے کہا: ’’اصل مسئلہ اس عراقی افسر نے بنایا ہوا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ یہ لوگ یہاں سے ہلیں۔‘‘ اس کے بعد میں نے عراقی افسر کی اشارہ کیا۔ اس کا یونیفارم اور رینک دوسروں سے مختلف تھا۔ ابراہیم نے اسلحہ اس کے کندھے سے اتارا اور آگے بڑھا۔ ایک ہاتھ سے اس افسر کا کالر اور دوسرے ہاتھ سے اس کا بیلٹ پکڑ کر اسے اچانک اٹھایا اور کئی میٹر دور تک اچھال کر پھینک دیا۔ سارے عراقی ڈر کے مارے زمین پر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اوپر کر لیے۔ عراقی افسر بار بار ابراہیم کی منتیں کر رہا تھا: ’’الدخیل، الدخیل، ارحم، ارحم۔‘‘ اور مسلسل رو بھی رہا تھا۔ میں حیران رہ گیا تھا اور خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے کا سارا خوف ہرن ہو چکا تھا۔ ابراہیم نے عراقی افسر کو باقی قیدی فوجیوں کے درمیان گھمایا۔ اس دن خدا نے ابراہیم کو ہماری کمک کے لیے بھیج دیا تھا۔

اس کے بعد ہم قیدیوں اور افسر کو لے کر چوٹی سے نیچے اتر آئے۔

نیمۂ شعبان
[شہیدؒ کے کچھ دوست]

پندرہ شعبان کے دن عصر کے وقت ابراہیم چھاؤنی  میں  داخل ہوا۔ گذشتہ آدھی رات سے وہ غائب تھا۔ اب جب کہ آیا تھا تو ایک عراقی قیدی کو اپنے ساتھ لے آیا تھا۔

میں نے پوچھا: ’’آغا ابرام، کہاں تھے تم؟ اور یہ قیدی کون ہے؟!‘‘

اس نے جواب دیا: ’’میں آدھی رات کو دشمن کی طرف چلا گیا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک جگہ جا کر چھپ گیا اور وہاں سے گزرنے والی عراقی گاڑیوں کو غور سے دیکھنے لگا۔ جب سڑک خالی ہو گئی تو دیکھا کہ ایک عراقی جیپ، جس میں ایک آدمی سوار تھا، میری طرف آ رہی تھی۔  میں جلدی سے سڑک کے درمیان جا پہنچا اور عراقی افسر کو گرفتار کر کے واپس آ گیا۔ راستے میں میں نے سوچا کہ یہ بھی ہماری طرف سےا مام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو ہدیہ ہے لیکن پھر میں اپنے اس خیال پر پشیمان ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ ہم کہاں اور امام زمانہ عج کو دیا جانے والا تحفہ کہاں۔‘‘

اس روز ہم سب اکٹھے ہو کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔ ہر موضوع پر باتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ ایک جوان ابراہیم سے پوچھنے لگا: ’’آپ کی نظر میں محاذ پر لڑنے والے کمانڈرز میں سے سب سے بہترین کون سا ہے اور کیوں؟‘‘

ابراہیم نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا: ’’سپاہ کے جوانوں میں سے میں محمد بروجردی جیسا کسی کو بھی نہیں سمجھتا۔ محمد نے ایسا کام کیا ہے کہ کوئی اور اسے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔کردستان میں ڈھیروں مشکلات کے باوجود بھی  اس نے کُرد مسلمانوں کا ایک فدائی گروہ تیار کر لیا اور اسی کے ذریعے کردستان میں امن و امان بحال کر دیا۔

فوج کے افسروں میں سے میجر علی صیاد شیرازی جیسا کوئی نہیں ہے، کیونکہ وہ رضاکار فوجیوں سے بھی زیادہ سادہ انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ آغا صیاد فوجی بعد میں ہیں اور ایک حزب اللہی اور مومن جوان پہلے ہیں۔

فضائیہ کے افسران میں سے جتنا چاہو تلاش کر لو کیپٹن شیرودی سے زیادہ کوئی قابل نظر نہیں آ ئے گا۔ کیپٹن شیرودی نے سرپل ذہاب کے علاقے میں اپنے ہیلی کاپٹر سے کئی عراقی حملوں کو ناکام بنا کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ وہ ایئر بیس کمانڈر کے عہدے تک پہنچ چکے ہیں مگر پھر بھی اتنی سادہ زندگی بسر کرتے ہیں کہ آپ کو تعجب ہو گا۔میں جب محکمہ کھیل و ورزش میں تھا تو کچھ جوڑے ورزشی جوتوں کے لے آیا تھا جن میں سے ایک شیرودی کو  دیا تھا۔ ایئربیس کمانڈر ہونے کے باوجود بھی ان کے پاس مناسب جوتے نہ تھے۔‘‘

باتوں باتوں میں  بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ہر کوئی اپنی اپنی خواہش بیان کرنے لگا۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ بیان کر رہا تھا البتہ اکثر جوانوں کی آرزو شہادت ہی تھی۔

ابوالفضل کاظمی کی طرح کے بعض دوست مذاق میں کہتے تھے: ’’خدا نیک اور اچھے بندوں کو ہم سے جدا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں تا کہ فرشتوں کی توجہ ہماری طرف نہ ہو۔ ہم ابھی زندہ رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ سب جوان اس کی باتوں سے ہنسنے لگے۔

اس کے بعد ابراہیم کی باری آ گئی۔ سب ابراہیم کی آرزو جاننے  کے منتظر تھے۔ ابراہیم نے تھوری دیر سکوت کے بعد کہا: ’’میری آرزو بھی شہادت ہی ہے مگر ابھی نہیں۔ مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ میں اسرائیل سے لڑتےہوئے شہید ہوں۔‘‘

******

میں علی الصبح خفیہ مورچوں سے گیلان غرب کی طرف لوٹ آیا تھا۔ چھاؤنی میں داخل ہوا تو خلاف معمول وہاں کوئی نہ تھا۔

کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا مگر بے سود۔میں ڈر گیا کہ کہیں عراقیوں نے شہر پر قبضہ ہی نہ کر لیا ہو۔ میں نے صحن میں کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکارا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ ایک کمرے کا دروازہ کھلا تو ایک جوان نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ میں کمرے میں داخل ہوا تو سب لوگ کمرے میں روبہ قبلہ بیٹھے خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ابراہیم اکیلا ساتھ والے کمرے میں بیٹھا سوزناک آواز میں کوئی نوحہ پڑھ رہا تھا۔  وہ اپنے لیے پڑھ رہا تھا۔ امام زمانہ عج سے مناجات کر رہا تھا۔ اس کی آواز میں اتنا درد تھا کہ وہاں بیٹھے سبھی افراد آنسو بہا رہے تھے۔

انعام
[قاسم شبان]

مغربی علاقے میں ہماری ریکی مکمل ہو چکی تھی۔ ہم نے اپنے جوانوں کو پیچھے واپس کر دیا تھا۔ ریکی ختم ہونے کے بعد ہم نے ایک ایک کر کے سارے مورچے دیکھے۔ کوئی باقی نہیں بچا تھا۔ ہم آخری نفر تھے جو واپس ہو رہے تھے۔ آدھی رات کو ایک بجے کا وقت تھا۔ ہم پانچ لوگ تھوڑی دیر تک چلتے رہے۔ میں نے ابراہیم سے کہا: ’’آغا ابرام! بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے۔ اگر کوئی مشکل نہ ہو تو یہاں کچھ دیر کے لیے سستا لیں۔‘‘ ابراہیم نے میری بات کی تائید کی اور ہم ایک مناسب جگہ ڈھونڈ کر آرام کرنے لگے۔

ابھی ہماری آنکھ بھی نہ لگی تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ دشمن کی طرف سے کوئی ہمارے نزدیک ہوتا جا رہا ہے۔ میں اچانک اپنی جگہ سے اچھل پڑا اور ایک کونے سے جھانکنے لگا۔ میرا اندازہ صحیح تھا کیونکہ پورے چاند کی روشنی میں سب کچھ صاف صاف دکھائی دے رہا تھا۔  ایک عراقی کسی کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہمارے نزدیک ہوتا جا رہا تھا۔

میں نے بہت آہستہ سے ابراہیم کو آواز دی۔ آس پاس اچھی طرح دیکھا۔ عراقی کے علاوہ وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔

جب وہ ہمارے بالکل نزدیک پہنچ گیا تو اچانک میں نے اپنے مورچے سے باہر کی طرف چھلانگ لگا دی اور اس عراقی کے سامنے آ گیا۔ عراقی فوجی بہت ڈر گیا تھا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔

اچانک میری نظر اس کے کندھوں پر پڑی۔ اس نے اپنے کندھوں پر ہمارے ایک بسیجی فوجی کو اٹھا رکھا تھا۔ وہ زخمی تھا اور وہیں رہ گیا تھا۔

میں بہت حیران ہوا۔ میں نے بندوق اپنے کندھے سےلٹکائی اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے زخمی کو اس کے کندھے سے اتار  کر نیچے رکھا۔ رضا نے اس سے پوچھا: ’’تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘

عراقی فوجی نے کہا: ’’تمہارے جانے کے بعد میں مورچوں میں گشت کر رہا تھا کہ اچانک اس جوان پر نظر پڑی۔ تمہارا یہ جنگجو درد سے دوہرا ہوا  جا رہا تھا اور مولا امیر المومنین علیہ السلام اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو پکار رہا تھا۔‘‘ میں نے سوچا کہ جب تک اندھیرا ہے اور بعثی اس طرف نہیں آ جاتے، مولا علی علیہ السلام کی خاطر، میں اس جوان کو ایرانی مورچوں  تک پہنچا کر واپس آ جاؤں گا۔‘‘ اس کے بعد وہ کہنے لگا: ’’تم ہم شیعہ فوجیوں کو عراقی بعثی افسروں کی طرح مت سمجھو۔ ہم تو تمہارے ساتھ لڑنے پر مجبور ہیں۔‘‘

میں اپنی جگہ سے ہل کر رہ گیا۔ ابراہیم نے اس عراقی فوجی سے کہا: ’’اب اگر تم چاہو تو یہاں رہ جاؤ اور واپس نہ جاؤ۔ تم ہمارے شیعہ بھائی ہو۔‘‘

اس عراقی فوجی نے اپنی قمیص کی جیب سے ایک تصویر نکال کر کہا: ’’یہ میرے گھر والے ہیں۔ اگر میں تمہاری فوج کے ساتھ مل جاؤں تو صدام انہیں قتل کر دے گا۔‘‘

اس کے بعد وہ تعجب سے ابراہیم کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد عربی لہجے میں پوچھنے لگا: ’’أَنْتَ ابراھیم ہادی؟!‘‘

ہم سب ساکت رہ گئے اور حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ اس جملے کو ترجمے کی ضرورت نہ تھی۔ ابراہیم نے بھی آنکھیں سکیڑ کر  حیرت سے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا: ’’تم میرا نام کیسے جانتے ہو؟!‘‘

میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا: ’’ابرام بھائی، میں نہ کہتا تھا کہ عراقیوں میں بھی تمہارے دوست موجود ہیں!‘‘

عراقی فوجی کہنے لگا: ’’ایک ماہ پہلے آپ کی اور آپ کی فوج کے کچھ اور کمانڈرز کی تصویریں ہماری ساری یونٹوں میں تقسیم کی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ جو کوئی بھی ان ایرانی کمانڈروں کا سر لائے گا اسے صدام کی طرف سے بہت بڑا انعام دیا جائے گا۔‘‘

انہی دنوں ہم تک خبر پہنچ چکی تھی کہ مغربی سپاہ کے کمانڈرز میں سے ایک کو اندرزگو گروپ کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے اور وہ اپنا چارج سنبھالنے گیلان غرب کی طرف نکل آیا ہے۔ ہم بھی منتظر تھے مگر اس کمانڈر کا کچھ پتا نہ چلا۔

اب جبکہ یہ عراقی فوجی ہمارے کمانڈروں کے نام بتا رہا تھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ جمال تاجیک نامی ایک بسیجی جو کچھ دنوں سے ہمارے گروہ میں شامل ہو کر جنگ لڑ رہا تھا، وہ وہی کمانڈر ہے۔ میں اور ابراہیم کچھ دوستوں کو لے کر اس کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا: ’’آپ نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروایا؟ بتایا کیوں نہیں کہ آپ اس گروہ کے کمانڈر ہیں؟‘‘

جمال نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’مجھے یہ کمانڈ اس لیے دی گئی تھی کہ کام ہو۔ خدا کا شکر کہ یہاں کام بہت ہی اچھے طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اور میں بھی آپ لوگوں کے درمیان رہ کافی لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ خدا کا شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ جیسے دوستوں سے ملوایا۔ آپ لوگ بھی کسی کو کچھ مت کہیے گا تا کہ ہمارے جوانوں کی نظر میرے بارے میں تبدیل نہ ہو جائے۔‘‘

جمال کچھ عرصہ بعد معرکہ مطلع الفجر میں جام شہادت نوش کر گیا۔ اس وقت وہ ایک ہراوَل بٹالین کا کمانڈر تھا۔

ابوجعفر
[حسین اللہ کرم،  فرج اللہ مرادیان]

1981؁ کے ابتدائی ایام میں اطلاع پہنچی کہ ہمارے مجاہدین نے ’’بازی دراز‘‘ کی چوٹیوں پر کچھ مزید حملے کیے ہیں اور اب یہ طے پایا ہے کہ اندرزگو گروپ کے جوان بھی اسی وقت دشمن کی علاقوں میں گھس کر ریکی کریں۔

اس کام کے لیے ابراہیم کے علاوہ وہاب قنبری[3]، رضا گودینی اور میرا انتخاب کیا گیا۔ مقامی کُردوں میں سے شاہرخ نورائی اور حشمت کوہ پیکر بھی ہمارے ہمراہ ہو گئے۔

ضروری سازو سامان جس میں کھانے پینے کی چیزیں، اسلحہ  اور کچھ بارودی سرنگیں شامل تھیں، ہم نے اپنے ساتھ لے لیا۔ جیسے ہی اندھیرا چھانے لگا تو ہم چوٹیوں کی طرف چل پڑے۔ ان چوٹیوں کو عبور کرتے ہوئے ہم دشتِ گیلان کے علاقے میں پہنچے۔روشنی ہوئی تو ہم ایک مناسب جگہ پر ٹھہر گئے اور اپنے آپ کو چھپا لیا۔

دن کے وقت استراحت کے ساتھ ساتھ ہم نے دشمن کے علاقوں اور دشت میں آنے والے راستوں کی ریکی کا کام بھی انجام دیا۔ دشمن کے مقبوضہ علاقے کا نقشہ بھی تیار کر لیا۔ ہمارے سامنے والے دشت میں دو سڑکیں تھیں، جن میں سے ایک (دشت گیلان روڈ) تو تارکول کی پکی سڑک تھی جبکہ دوسری کچی سڑک، جو فقط فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ ان دو سڑکوں کے درمیان تقریباً پانچ کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ عراقی فوجیوں کا ایک دستہ ٹیلوں پر اور سڑک کے اطراف میں تعینات اس جگہ پر پہرہ دے رہا تھا۔ جیسے ہی اندھیرا چھا گیا، ہم نماز پڑھ کر روانہ ہو گئے۔میں اور رضا گودینی تارکول کی پکی سڑک جب کہ دوسرے جوان کچی سڑک کی طرف چلے گئے۔  سڑک کے آس پاس ہم لوگ چھپ گئے۔ جب سڑک خالی ہو گئی تو ہم جلدی سے سڑک پر ہو لیے۔

دو بارودی سرنگیں سڑک پر موجود گڑھوں میں نصب کر دیں اور ان پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈال کر انہیں چھپا دیا۔ اس کے بعد جلدی سے ہم کچی سڑک کی طرف بڑھ گئے۔

دشمن کے فوجیوں کی نقل و حرکت سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ عراقی ابھی تک بازی دراز کے علاقے میں مصروفِ جنگ ہیں۔ زیادہ تر عراقی فوجی اور گاڑیاں اسی طرف جا رہی تھیں۔ ابھی ہم کچی سڑک پر نہ پہنچے تھے کہ ایک ہولناک دھماکے کی آواز ہمیں اپنی پیچھے سے سنائی دی۔ ہم دونوں فوراً بیٹھ گئے اور پیچھے کی طرف واپس چل پڑے۔

ایک عراقی ٹینک سرنگ کا شکار ہو کر جل رہا تھا۔ کچھ لمحات گزرے تو ٹینک کے اندر پڑے میزائل بھی ایک ایک کر کے پھٹنے لگے۔ وہ سارا میدان ٹینک کے جلنے کی وجہ سے روشن ہو چکا تھا۔ عراقیوں کے دل میں عجیب طرح کا خوف اور بے چینی پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے پہرے پر کھڑے اکثر عراقی فوجی بغیر دیکھے بھالے فائرنگ کر رہے تھے۔

جب ہم ابراہیم اور دوسرے جوانوں تک پہنچے تو وہ بھی اپنا کام انجام دے چکے تھے۔

وہاں سے ہم اکٹھے چوٹیوں کی طرف چل پڑے۔ ابراہیم نے کہا: ’’صبح تک ہمارے پاس کافی وقت ہے۔ اسلحہ اور دوسرے وسائل بھی ہیں۔ یوں کرتے ہیں کہ گھات لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور دشمن کے دل میں زیادہ سے زیادہ وحشت اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

ابھی ابراہیم کی بات مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ کچی سڑک سے ہمیں دھماکے کی آواز سنائی دی۔ ایک عراقی گاڑی سرنگ سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی تھی۔ ہم اپنی مہم کی کامیابی پر خوش ہو گئے۔ عراقیوں کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کی آواز تیز ہو گئی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ ہمارے فوجی ان کے علاقوں میں گھس گئے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مارٹر گولوں اور لائٹ فائرز (روشنی کے گولوں) کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ ہم بھی جلدی جلدی پہاڑ کی طرف چلے گئے۔ ہمارے سامنے ایک ٹیلہ تھا۔ اچانک ایک عراقی جیپ اس کے پیچھے سے نکلی اور ہماری طرف بڑھنے لگی۔ وہ ہمارے اتنے نزدیک پہنچ گئی تھی کہ ہمارے پاس کچھ سوچنے کا وقت ہی نہ رہا تھا۔ جوانوں نے جلدی سے مورچہ سنبھال لیا اور جیپ کی طرف فائرنگ شروع کر دی۔ تھوڑی دیر بعد ہم عراقی جیپ کی طرف بڑھے۔ ایک اعلیٰ عراقی افسر اور اس کا ڈرائیور ہماری گولیوں کا نشانہ بن چکے تھے۔  فقط ان کا وائرلیس آپریٹر ہی بچا تھا جو زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا تھا۔ اس کے پاؤں میں ایک گولی لگ گئی تھی جس سے وہ مسلسل کراہے جا رہا تھا۔

ایک جوان نے اپنا اسلحہ سنبھالا اور اس کی طرف بڑھا۔ عراقی فوجی مسلسل کہہ رہا تھا: ’’الامان، الامان۔‘‘

اچانک ابراہیم چلّایا: ’’تم کیا کرنا چاہتے ہو؟!‘‘

جانے والے جوان نے کہا: ’’کچھ نہیں۔ میں چاہتا ہوں اسے پُرسکون کر دوں۔‘‘

ابراہیم نے جواب دیا: ’’میرے دوست، جب تک ہم فائرنگ کر رہے تھے اس وقت تک وہ ہمارا دشمن تھا، اب جب کہ یہ ہماری دسترس میں ہے تو یہ ہمارا قیدی ہے۔‘‘

اس کے بعد وہ اس وائرلیس آپریٹر کے پاس خود چلا گیا اور اسے زمین سے اٹھا لیا۔ پھر اپنے کندھوں پر اسے اٹھا کر چلنے لگا۔ ہم سب تعجب سے ابراہیم کا اس کے ساتھ یہ سلوک دیکھ رہے تھے۔ ہم میں سے ایک نے کہا: ’’آغا ابرام، آپ جانتے ہیں کہ کیا کر رہے ہیں؟ یہاں سے لے کر آپ کے ٹھکانے تک تیرہ کلو میٹر کا فاصلہ ہم نے پہاڑ پر طے کرنا ہے۔‘‘ ابراہیم نے واپس پلٹ کر جواب دیا: ’’یہ مضبوط بدن خدا نے انہی دنوں کے لیے ہمیں عطا کیا ہے۔‘‘

اس کے بعد وہ پہا ڑ کی طرف چل پڑا۔ہم نے بھی جلدی سے جیپ کے اندر موجود سامان اور عراقیوں کے وائرلیس کو اٹھایا اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ پہاڑ کے نیچے پہنچ کر تھوڑا آرام کیا اور عراقی کے زخمی پاؤں کو پٹی باندھی۔ اس کے بعد ہم دوبارہ اپنے راستے پر ہو لیے۔

تقریباً سات گھنٹے کی کوہ پیمائی کے بعد ہم محاذ جنگ پر پہنچ گئے۔ راستے میں ابراہیم اس عراقی قیدی سے باتیں کرتا رہا اور وہ بھی مسلسل ابراہیم کا شکریہ ادا کرتا رہا۔ صبح کی اذان ہوئی تو ہم نے نسبتاً ایک پُرامن جگہ پر ٹھہر کر نماز فجر باجماعت پڑھی۔ عراقی قیدی نے بھی ہمارے ساتھ ہی جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ بھی شیعہ ہے۔ نماز کے بعد ہم نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔  جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم سب نے آپس میں مساوی تقسیم کر لیا حتی کہ اس عراقی قیدی کو بھی برابر کا حصہ دیا۔

عراقی قیدی جسے ہم سے اتنے اچھے سلوک کی توقع نہ تھی خود ہی اپنا تعارف کروانے لگا: ’’میں ابو جعفر، شیعہ ہوں اور کربلا میں رہتا ہوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ تم لوگ ایسے ہو۔۔۔‘‘ مختصر یہ کہ اس نے کافی ساری باتیں کی جن میں سے فقط کچھ الفاظ ہی ہمیں سمجھ آ رہے تھے۔

ابھی تک اجالا نہ پھیلا تھا۔ ہم وہاں نزدیک ہی ایک غار ’’بان اسیران‘‘ میں چلے گئے اور آرام کرنے لگے۔ رضا گودینی کمک لانے کے لیے ایرانی فوج کے پڑاؤ کی طرف چلا گیا۔

گھنٹہ بھر گزرا ہو  گا کہ رضا بہت سے سامان اور فوجی جوانوں کے ہمراہ واپس آ گیا اور ہمیں آوازیں دینے لگا۔ میں نے پوچھا: ’’رضا، کیا حالات ہیں؟‘‘ کہنے لگا: ’’جب میں غار کی طرف واپس آ رہا تھا تو اچانک ٹھٹھک کر رہ گیا۔ غار کے سامنے ایک مسلح شخص بیٹھا ہوا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ شاید تم میں سے کوئی ہے۔ لیکن جب تھوڑا سا آگے بڑھا تو حیران رہ گیا۔ وہ وہی عراقی قیدی ابو جعفر تھا جو اسلحہ اپنے ہاتھ میں تھامے پہرہ دے رہا تھا۔ جیسے ہی میں نے اسے دیکھا تو میرا رنگ اڑ گیا، لیکن ابوجعفر نے مجھے سلام کیا اور اسلحہ میرے حوالے کر دیا۔ پھر عربی زبان میں مجھ سے کہنے لگا: ’’تمہارے ساتھی سو رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک عراقی ٹولی گشت کرتی ہوئی یہاں سے گزر رہی تھی۔ اسی وجہ سے میں ہوشیار ہو گیا کہ اگر وہ نزدیک آئے تو ان سے مقابلہ کروں گا۔‘‘

ہم سب لوگ اپنے پڑاؤ کی طرف چل دیے۔ ابو جعفر کو ہم نے کچھ دن اپنے پاس رکھا۔ ابراہیم نے راستے میں جو بوجھ برداشت کیا تھا اس نے اسے بیمار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ کچھ دن بعد وہ بھی واپس  آ گیا۔ سب جوان اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ میں نے ابراہیم کو بلایااور کہا: ’’مغربی سپاہ کے جوان تمہارا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔‘‘

اس نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کیوں، مگر ہوا کیا ہے؟‘‘

میں نے کہا: ’’تم آؤ تو سہی، خود ہی پتا چل جائے گا۔‘‘

میں اور ابراہیم سپاہ کے پڑاؤ کی طرف چلے گئے۔ متعلقہ افسر نے بات شروع کی: ’’وہ عراقی قیدی ابو جعفر جسے تم لوگ اپنےساتھ لے آئے تھے۔ اس نے اپنے لشکر کی ترتیب، اپنی بریگیڈ کے ٹھکانے، افسروں اور راستوں کے بارے میں جو معلومات ہمیں فراہم کی ہیں، وہ بہت ہی زیادہ قیمتی ہیں۔‘‘

اس کے بعد اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’یہ قیدی تین دنوں سے ہمیں مسلسل معلومات دے رہا ہے اور اس کی ساری معلومات صحیح اور درست ہیں۔ وہ جنگ کے آغاز ہی سے اس علاقے میں موجود تھا۔ اس نے عراقی فوج کے راستوں اور ان کے وائرلیس کوڈز کے بارے میں بھی سب کچھ بتا دیا ہے۔ ہم اسی لیے یہاں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کا شکریہ ادا کر سکیں۔‘‘

ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’ارے نہیں، ہم نے کیا کیا ہے۔ یہ خدا کا کام تھا۔‘‘

اگلے دن ابو جعفر کو قیدیوں کے کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ ابراہیم نے کافی کوشش کی کہ ابوجعفر ہمارے پاس ہی رہے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ابوجعفر نے کہا تھا: ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ مجھے یہیں رکھ لیں۔ میں عراقیوں کے ساتھ جنگ لڑنا چاہتا ہوں۔‘‘ لیکن اس کی یہ درخواست قبول نہ کی گئی۔

*****

کچھ عرصے بعد میں نے سنا کہ گروہ کچھ عراقی قیدی گروہ توابین کے عنوان سے محاذ پر آئے ہیں۔ وہ بدر بریگیڈ کے  سپاہیوں کے ساتھ مل کر عراقیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔

عصر کا وقت تھا۔ ہمارے گروہ کا ایک پرانا ساتھی مجھے ملنے کے لیے آیا۔ اس نے خوشی سے بتایا: ’’تمہارے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ وہ عراقی قیدی ابو جعفر بدر بریگیڈ کے کیمپ میں کافی سرگرم ہے۔‘‘

حملے کا وقت نزدیک ہی تھا لہٰذا ہم حملے کے بعد ہم اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بدر بریگیڈ کے کیمپ میں بھی گئے۔ ہم نے ارادہ کر لیا تھا کہ جیسے بھی ہو ابو جعفر کو ڈھونڈ کر اپنے جوانوں میں شامل کر لیں گے۔

بریگیڈ کی عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ایک ایسا منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آیا جو ناقابل یقین تھا۔بریگیڈ کے شہداء کی تصاویر دیوار پر چپکی ہوئی تھیں۔ بدر بریگیڈ کے آخری حملے میں شہید ہونے والے مجاہدین میں ابوجعفر کی تصویر بھی نظر آ رہی تھی۔

میں چکرا کر رہ گیا۔ میری حالت عجیب سی ہو گئی تھی۔ وہاں کھڑا مبہوت ہو کر اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے بعد ہم اس عمارت میں داخل ہی نہ ہوئے۔

وہاں سے پلٹے تو اس رات کے تمام واقعات میرے ذہن میں گھومنے لگے۔ دشمن پر حملہ، ابراہیم کی جانثاری، عراقی وائرلیس آپریٹر، قیدیوں کا کیمپ، بدر بریگیڈ ۔۔۔ اس کے بعد شہادت۔ بہت خوش قسمت تھا ابوجعفر۔

دوست
[مصطفیٰ ہرندی]

وہ بہت پریشان تھا۔ بے چینی اس کے چہرے سے چھلک ہی تھی۔ میں نے پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘ ابراہیم نے بے قراری سے جواب دیا: ’’کل رات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ریکی کے لیے گیا تھا۔ واپسی پر دشمن کے ٹھکانوں کے بالکل پاس ہی ماشاء اللہ عزیزی[4] بارودی سرنگ سے ٹکرا کر شہید ہو گیا۔ عراقی  فوجیوں نے گولیاں برسانا شروع کر دیں اس لیے ہمیں مجبوراً وہاں سے واپس پلٹنا پڑا۔‘‘

اب مجھے اس کی بے چینی کی وجہ سمجھ آ گئی تھی۔ اندھیرا پھیلا تو ابراہیم چلا گیا۔ آدھی رات کے وقت وہ واپس آگیا۔ اس وقت وہ بہت خوش تھا۔ وہ مسلسل چلائے جا رہا تھا: ’’نرس۔۔۔ نرس۔۔۔ جلدی سے آؤ، دیکھو ماشاء اللہ زندہ ہے!‘‘

ہمارے سب ساتھی بہت ہی خوش تھے۔ ہم نے ماشاء اللہ کو ایمبولینس میں بٹھایا، لیکن ابراہیم کونے میں بیٹھا کسی سوچ میں غرق تھا۔  میں اس کے پاس بیٹھ گیااور حیرت سے پوچھا: ’’تم کیا سوچ رہے ہو؟!‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہ کر کہنے لگا: ’’ماشاء اللہ عراقی مورچوں کے پاس میدان کے درمیان میں سرنگ میں پھنسا تھا لیکن جب میں وہاں پہنچا تو وہ وہاں نہیں تھا۔ وہاں سے تھوڑا پیچھے میں نے اسے ڈھونڈ ہی لیا۔ وہ دشمن کی نظروں سے دور ایک پُر امن جگہہ پر بیٹھا میرا انتظار کر رہا تھا۔‘‘

*****

میرے پاؤں سے بہت سا خون بہہ چکا تھا۔ میں بے حال ہو گیا تھا۔ مگر عراقی مطمئن تھے کہ میں زندہ نہیں ہوں۔میری حالت عجیب ہو گئی تھی۔ میں زیر لب فقط یہی کہہ رہاتھا: ’’یا صاحب الزمان ّ(عج) ادرکنی۔‘‘

اندھیرا گہرا ہو گیا تھا۔ ایک خوبصورت اور نورانی جوان میرے سرہانے آیا۔ میں نے بہت ہی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولیں۔ اس جوان نے آہستہ سےمجھے اٹھایا۔ میں سرنگوں والے میدان میں پھنس گیا تھا۔ پھر اس کے بعد اس نے آہستہ اور آرام سے مجھے ایک پُرامن جگہ پر لٹا دیا۔

مجھے کوئی درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ شخص مجھ سے کافی دیر باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد کہا: ’’کوئی آئے گا اور تمہیں یہاں سے نجات دلائے گا۔ وہ ہمارا دوست ہے۔‘‘

تھوڑی دیر بعد ابراہیم آ گیا۔ اس نے اسی مضبوطی کے ساتھ مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا جو ہمیشہ سے اس کا خاصہ رہی ہے۔ ہم چل پڑے۔ اس خوبصورت چہرے والے جوان نے ابراہیم کو اپنا دوست کہا تھا۔ کتنا خوش قسمت ہے ابراہیم۔

ماشاء اللہ نے گیلان غرب کے محاذ پر پیش آنے والے واقعات کو ایک ڈائری میں لکھ رکھا تھا۔ یہ واقعہ بھی اس نے اسی ڈائری میں رقم کیا تھا۔

*****

ماشاء اللہ کئی سال تک محاذ پر مصروف پیکار رہے۔ وہ گیلان غرب کے متقی اور مخلص اساتذہ میں سے تھے اور جنگ کے آغاز سے انجام تک محاذوں پر اور مختلف حملوں میں پوری بہادری اور شجاعت کے ساتھ موجود رہے۔

جنگ ختم ہونے کے بعد ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں اپنے ساتھیوں سے جا ملے۔

گمنامی
[مصطفیٰ ہرندی]

وہ اذان سے پہلے لوٹ آیا تھا۔ ایک شہید کا جسد بھی اس کے کندھوں پر تھا۔ تھکاوٹ اس کے چہرے پر موجیں مار رہی تھی۔

صبح اس نے چھٹی لی۔ اس کے بعد ہم شہید کے جسد کو لے کر چل دیے۔ ابراہیم تھکا ہوا تو تھا مگر بہت خوش تھا۔

وہ کہہ رہا تھا کہ ایک ماہ پہلے بازی دراز کی چوٹیوں پر ہماری ایک مہم تھی۔ فقط یہی شہید رہ گیا تھا۔ اب اس علاقے میں حالات ٹھیک ہونے کے بعد خدا نے کرم کیا کہ ہم اسے بھی لانے میں کامیاب ہو گئے۔

تہران بہت جلدی خبر پہنچ چکی تھی۔ سب لوگ شہید کے جسد کا انتظار کر رہے تھے۔ اگلے دن ایک بہت باشکوہ اور عظیم ہجوم نے خراسان چوک میں اس شہید کی تشییع جنازہ میں شرکت کی۔

ہم کچھ دن تک تہران میں ٹھہرنا چاہتے تھے لیکن ہمیں اطلاع ملی کہ ایک اور حملے کی تیاری ہو رہی ہے۔ طے پایا کہ کل رات مسجد سے ہم اپنے سفر کا آغاز کریں۔

*****

میں، ابراہیم اور کچھ دوسرے دوست مسجد کے سامنے کھڑے تھے۔نماز ختم ہونے کے بعد ہم خوش گپیوں اور قہقہوں میں مشغول تھے کہ ایک بوڑھا آدمی آگے آیا۔ میں اسے پہچانتا تھا۔ وہ اسی شہید کا باپ تھا جسے ابراہیم بازی دراز کی چوٹیوں سے نیچے لایا تھا۔ ہم نے اسے سلام کیا اور اس نے ہمارے سلام کا جواب دیا۔

سبھی خاموش تھے۔ وہ ہمارے باقی دوستوں کے لیے اجنبی تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر!

تھوڑی دیر بعد اس نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا: ’’آغا ابراہیم، تمہارا بہت شکریہ، تم نے بہت تکلیف اٹھائی مگر میرا بیٹا۔۔۔‘‘

وہ بوڑھا شخص تھوڑی دیر چپ رہا، پھر گویا ہوا: ’’میرا بیٹا تم سے ناراض ہے!!‘‘

ابراہیم کے چہرے پر ہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اس نے تعجب سے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا: ’’مگر کیوں؟‘‘

بوڑھا شخص روہانسا ہو گیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔کانپتی ہوئی آواز میں کہنے لگا: ’’کل رات میں نے اپنے بیٹے کو خواب میں دیکھا۔ اس نے مجھ سے کہا: ’’جس وقت ہم محاذ کی سرزمین پر گمنام و بے نشان پڑے ہوئے تھے تو مادرِ سادات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ہر رات ہمارے پاس آتی تھیں۔ لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں رہا۔‘‘ میرے بیٹے نے یہ بھی کہا: ’’گمنام شہداء حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے خاص مہمان ہوتے ہیں!‘‘

اس بوڑھے نے اپنی بات ختم کر دی۔ ہم سب کے لبوں پر خاموشی چھا گئی تھی۔

میں نے ابراہیم کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو اس کے رخساروں سے پھسلتے ہوئے نیچے گر رہے تھے۔ میں اس کی سوچ کو پڑھ سکتا تھا۔ اس نے اپنی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈ لی تھی: ’’گمنامی!‘‘

*****

اس واقعے کے بعد جنگ اور شہداء کے حوالے سے ابراہیم کا خیال کافی بدل گیا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’’اب مجھے کوئی شک نہیں رہا کہ ہماری جنگ کے شہداء رسول خداﷺ کے اور امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب جیسا درجہ رکھتے ہیں۔ خدا کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہے۔‘‘

میں نے کئی بار اسے یہ کہتے ہوئے بھی سنا: ’’اگر کوئی یہ تمنا رکھتا ہےکہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی ہمراہی کرے تو اس کے امتحان کا وقت اب آن پہنچا ہے۔‘‘

ابراہیم کو پورا یقین تھا کہ دفاع مقدس سعادت و کمال انسانی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جہاں بھی جاتا شہداء کی باتیں کرتا۔ جنگجوؤں اور مجاہدین کے واقعات بیان کرتا۔ اس کا اخلاق و رویہ بھی روز بہ روز تبدیل ہوتا جا رہا تھا اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ روحانی ہوتا جا رہا تھا۔

اندرزگو کیمپ میں اس کا معمول تھا کہ رات کے پہلے پہر دو تین گھنٹے سوتا اور اس کے بعد جاگ کر باہر چلا جاتا۔

اذان کے وقت واپس آ جاتا اور صبح کی نماز کے لیے جوانوں کو اٹھاتا۔ میں نے سوچا کہ کافی دن ہو گئے ہیں ابراہیم رات کو یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ ایک رات میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔میں نے دیکھا کہ وہ سونے کے لیے کیمپ کے باورچی خانے میں چلا گیا۔

اگلے دن باورچی خانے میں کام کرنے والے بوڑھے ملازم سے میں نے کھوج لگائی۔ مجھے معلوم ہوا کہ باورچی خانے میں کام کرنے والے تمام ملازمین نماز شب باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔

ابراہیم اسی لیے وہاں چلا جایا کرتا تھا کیونکہ اگر وہ کیمپ کے اندر نماز شب پڑھتا تو سب کو پتا چل جاتا۔

ابراہیم کے ان آخری دنوں کے معمولات سے مجھے امام علی علیہ السلام کی وہ حدیث یاد آ گئی جو انہوں نے نوف بکالی سے ارشاد فرمائی تھی: ’’میرے شیعہ وہ ہیں جو رات کو عبادت گزار اور دن کو شیر ہوتے ہیں۔‘‘

فقط خدا کے لیے
[شہیدؒ کے ایک دوست]

میں اپنے ایک دوست سے ملنے گیا ہوا تھا۔ وہ مغربی محاذ پر ایک حملے کے دوران زخمی ہو گیا تھا۔اس کے پاؤں پر کافی گہرے زخم آئے تھے۔ وہ مجھے دیکھتےہی خوش ہو گیا اور میرا شکریہ ادا کرنے لگا، لیکن میں اس کے شکریہ ادا کرنے کی وجہ نہ سمجھ سکا۔

میرے دوست نے کہا: ’’سید جان، تم نے بہت زحمت کی۔ اگر تم مجھے اٹھا کر پیچھے کی طرف نہ لے آتے تو میں حتماً اسیر ہو جاتا۔‘‘

میں نے کہا: ’’تمہیں کچھ پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں تو سب سے پہلے چیپ پر بیٹھ کر پیچھے کی طرف لوٹ آیا تھا اور چھٹی لے کر گھر آ گیا تھا۔‘‘

میرا دوست حیرت سے کہنے لگا: ’’نہیں یار، وہ تمہی تو تھے۔ تمہی نے میری مدد کی اور میرے پاؤں کے زخم کو باندھا تھا۔‘‘

لیکن میں نے جتنا انکار کیا، وہ نہ مانا۔

کچھ وقت گزرا تو میں نے ایک بار پھر اپنے اس دوست کی باتوں پر غور کیا۔ اچانک میرے ذہن میں جھماکا ہوا۔ میں بھاگا بھاگا ابراہیم کی طرف چلا گیا۔ وہ بھی اس حملے میں شامل تھا اور چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ اسے ساتھ لے کر پھر اس دوست کے گھر چلا گیا۔ میں  نے اسے کہا: ’’جس کا تمہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے وہ ابراہیم ہے، میں نہیں ہوں۔ کیونکہ مجھ میں تو اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس پہاڑ پر آٹھ کلومیٹر تک کسی کو اٹھا کر چلوں اور اسے دشمن کے علاقے سے نکال کر واپس لے آؤں۔لہٰذا میں سمجھ گیا تھا کہ یہ کس کا کام ہو سکتا ہے!‘‘

ایک ایسا شخص جو کم گو ہو، میرے جیسی جسامت کا مالک ہو، بہت زیادہ جسمانی قوت سے لبریز ہو اور مجھے جانتا بھی ہو۔ میں اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ ابراہیم کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا!

لیکن ابراہیم کچھ بتاتا ہی نہیں تھا۔ میں نے کہا: ’’آغا ابرام، مجھے اپنے دادا کی قسم، اگر تم نے کوئی بات نہ کی تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا۔‘‘ لیکن ابراہیم میری اس حرکت سے کافی غصے میں تھا۔کہنے لگا: ’’سید، کیا بتاؤں؟‘‘ اس کے بعد خاموش ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد کہنے لگا: ’’میں خالی ہاتھ پیچھے کی طرف واپس پلٹ رہا تھا۔ یہ ایک جگہ پڑے ہوئے تھے۔ میرے تعاقب میں بھی کوئی نہ تھا کیونکہ میں تقریباً آخری نفر تھا جو واپس پلٹ رہا تھا۔ اس تاریکی میں نے اپنے بوٹوں کے تسموں کے ساتھ ان کے پاؤں سے بہنے والے خون کو بند کیا۔ اس کے بعد ہم چل پڑے۔ راستے میں یہ مجھے سید سید کہہ کر باتیں کرتے جا رہے تھے۔ میں بھی سمجھ گیا کہ تمہارے دوست ہوں گے۔ اسی لیے میں نے بھی انہیں کچھ نہ کہا۔ یہاں تک کہ ہم امدادی کیمپ  میں موجود میڈیکل سٹاف تک پہنچ گئے۔

اس کے بعد ابراہیم کو مجھ پر بہت غصہ آیا۔ کچھ دن تک تو اس نے مجھ سے بات تک نہ کی۔ میں اس کی وجہ سمجھتا تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ کام فقط خدا کے لیے کرنا چاہیے نہ کہ لوگوں کو  بتانے کے لیے۔

*****

ریکی پر مامور گروپ کے ساتھ ہم دشمن کے علاقے میں گھس گئے۔ ریکی کا فریضہ انجام دے رہے تھے کہ اچانک ہمیں بھیڑوں کا ایک گلہ نظر آیا۔ گلے کے چرواہے نے ہمارے نزدیک آ کر ہمیں سلام کیا۔ اس کے بعد پوچھنے لگا: ’’تم لوگ خمینی کے سپاہی ہو؟!‘‘

ابراہیم نے آگے بڑھ کر جواب دیا: ’’ہم خدا کے بندے ہیں۔‘‘

اس کے بعد پوچھا: ’’بابا جی، آپ اس پہاڑی علاقے اور ویرانے میں کیا کر رہے ہیں؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’میں یہیں رہتا ہوں۔‘‘

اس نے دوبارہ پوچھا: ’’تو آپ کو یہاں کوئی مشکل تو پیش نہیں آتی؟‘‘

اس بوڑھے شخص نے مسکرا کر کہا: ’’اگر مشکل نہ ہوتی تو یہاں سے چلا جاتا۔‘‘

ابراہیم اپنے سامان کی طرف گیا اور وہاں سے ایک ٹوکری کھجوروں کی، کچھ روٹیاں اور گروپ کے جوانوں کے سامان میں سے بھی کچھ سامان لا کر اس بوڑھے کو دے دیا اور کہا: ’’یہ تمہارے لیے امام خمینی کی طرف سے تحفہ ہے۔‘‘

وہ بوڑھا بہت ہی خوش ہوا اور دعائیں دینے لگا۔ اس کے بعد ہم وہاں سے دور ہو گئے۔

بعض جوانوں نے ابراہیم پر اعتراض بھی کیا کہ ہمیں اس علاقے میں ایک ہفتے تک رہنا ہے۔ تم نے زیادہ تر سامان تو بوڑھے کو دے دیا۔

ابراہیم نے کہا: ’’پہلی بات تو یہ کہ ابھی تک صحیح معلوم نہیں ہے کہ ہمارا کام کتنے دن تک جاری رہے گا اور دوسری بات یہ کہ تم لوگ مطمئن رہو کہ یہ بوڑھا اب ہمارا دشمن نہیں رہا۔ تمہیں شک نہیں کرنا چاہیے کہ خدا کے لیے کیا جانے والا کام ہمیشہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔‘‘

اس ریکی میں کھانے پینے کا سامان کافی کم ہونے کے باوجود ہمارا کام بہت جلدی نمٹ گیا، حتی کہ کچھ سامان ہم بچا کر بھی لے آئے۔

علماء کی محفل میں
[امیر منجر]

جنگ کا پہلا سال تھا۔ میں چھٹی پر آیا ہوا تھا۔میں اور ابراہیم موٹر سائیکل پر سرآسیاب چوک سے خراسان چوک کی طرف جا  رہے تھے۔ وہ میرے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ ایک سڑک سے ہم گزرے تو اچانک ابراہیم نے کہا: ’’امیر، ٹھہرو!‘‘

میں نے جلدی سے موٹر سائیکل سڑک کی ایک طرف موڑ دی اور حیران ہو کر پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘

اس نے کہا: ’’کچھ نہیں۔ اگر تمہارے پاس وقت ہے تو ایک بندۂ خدا سے ملنے چلتے ہیں۔‘‘

میں نے کہا: ’’ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔ مجھے کوئی خاص کام نہیں ہے۔‘‘

ہم دونوں ایک گھر میں داخل ہو گئے۔ کئی مرتبہ یا اللہ کہنے کے بعد ایک کمرے کے اندر چلے گئے۔ وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک معمر شخص کالی عبا پہنے محفل کی مرکزی جگہ پر بیٹھے تھے۔

ہم دونوں نے سلام کیا اور کمرے کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔ وہ عالم کسی جوان سے کچھ بات کر رہے تھے، جو اب ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے ہماری طرف رُخ کیا اور مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ کہا: ’’آغا ابراہیم، آج اِدھر کا راستہ کیسے بھٹک گئے!‘‘

ابراہیم سر جھکا کر بیٹھا ہوا تھا۔ ادب  سے کہنے لگا: ’’حاجی آغا، شرمندہ ہوں۔ دراصل خدمت میں پہنچے کا وقت نہیں ملتا۔‘‘

ان کی آپس کی باتوں سے میں سمجھ گیا کہ وہ ابراہیم کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

انہوں نے تھوڑی دیر دوسرے لوگوں سے باتیں کی۔ جب کمرہ خالی ہو گیا تو انہوں نے ابراہیم کی طرف رُخ کیا اور انتہائی منکسرانہ لہجے میں کہنے لگے: ’’آغا ابراہیم، ہمیں کچھ نصیحت کیجیے۔‘‘

ابراہیم شرم کے مارے سُرخ ہو گیا اور سر اٹھا کر کہنے لگا: ’’حاجی آغا، آپ کو خدا کا واسطہ، ہمیں شرمندہ نہ کیجیے۔ میری درخواست ہے کہ آپ ایسی بات نہ کیجیے۔‘‘

اس کے بعد کہنے لگا: ’’ہم اس لیے آئے ہیں کہ آپ کی زیارت کر سکیں۔ انشاء اللہ ہفتہ وار درس میں ضرور حاضرِ خدمت ہوں گا۔‘‘

اس کے ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور خدا حافظ کہہ کر وہاں سے باہر نکل آئے۔

راستے میں میں نے ابراہیم سے کہا؛ ’’ابرام جان، تم بھی ان آغا کو کوئی نصیحت کر دیتے۔ اتنا سرخ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

میری بات پر وہ غصے سے اچھل پڑا: ’’کیا کہہ رہے ہو امیر جان، تم ان آغا کو جانتے ہو؟‘‘

میں نے کہا: ’’نہیں، سچ بتاؤ، کون تھے یہ؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’وہ ایک ولی اللہ ہیں مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یہ حاج میرزا اسماعیل دولابی تھے۔‘‘

کئی سال گزرے تو لوگوں نے حاج آغا دولابی کو پہچانا۔ مجھے بھی حال ہی میں ان کی کتاب ’’طوبیٰ محبت‘‘ پڑھنے کے بعد سمجھ آئی کہ ابراہیم کو جو جملہ انہوں نے کہا تھا وہ کتنا عظیم تھا۔

*****

ملک کے مغربی حصے میں بھیجی جانے والی مہموں میں سے ایک اپنے اختتام کو پہنچ  چکی تھی لہٰذا اکثر مجاہدین کی ہم آہنگی سے طے پایا کہ سب مل کر امام خمینیؒ سے ملاقات کے لیے جائیں۔ اگرچہ ابراہیم اس مہم میں شریک تھا مگر اس کے باوجود تہران نہیں گیا۔ میں نے جا کر اس سے پوچھا: ’’تم کیوں نہ گئے؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’اب ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ سب لوگ محاذ کو خالی چھوڑ کر چلے جائیں۔ یہاں کچھ لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’کیا واقعاً تم اسی وجہ سے نہیں گئے؟‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہ کر کہنے لگا: ’’ہمیں دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے لیے رہبر نہیں چاہیے بلکہ اس لیے چاہیے کہ ان کی اطاعت کریں۔‘‘ اس کے بعد اس نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’میں اگر اپنے رہبر کو نہیں دیکھ سکتا تو یہ اتنا ضروری بھی نہیں ہے بلکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں ان کے فرمان کا تابع رہوں اور میرے رہبر مجھ سے خوش رہیں۔‘‘

ولایت فقیہ کے حوالے سے ابراہیم بہت حساس تھا۔ وہ امام کے بارے میں عجیب و غریب قسم کے نظریات رکھتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’’قدیم اور جدید علماء و بزرگان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں گزرا جس کے اندر امام خمینیؒ جیسی جرأت و بہادری موجود ہو۔‘‘

جب بھی امام خمینیؒ کا کوئی پیغام نشر ہوتا تو وہ بہت غور سے سنا کرتا اور کہتاتھا: ’’اگر ہم دنیا و آخرت چاہتےہیں تو ہمیں چاہیے کہ امام کی باتوں پر عمل کریں۔‘‘

ابراہیم اپنی جوانی کے دنوں میں بھی اپنے علاقے کے اکثر علماء سے رابطے میں رہتا تھا۔

جن دنوں علامہ جعفری ہمارے محلہ میں رہتے تھے، ابراہیم نے ان کے وجود سے بہت زیادہ کسبِ فیض کیا۔

ابراہیم کے نزدیک شہید آیت اللہ مطہری اور شہید آیت اللہ بہشتی جوان نسل کے لیے بہترین اور مکمل نمونہ تھے۔

زیارت
[جبار ستودہ، مہدی فریدوند]

جنگ کا پہلا سال تھا۔اندرزگو گروپ کے کچھ جوانوں کے ساتھ ہم گیلان غرب کے شمالی علاقے میں موجود چوٹیوں پر گئے۔ بالکل صبح کا وقت تھا۔ ہم سرحد کے بالکل ساتھ ہی واقع ایک ٹیلے پر جا ٹھہرے۔ سرحد پر واقع فوجی چوکی عراقیوں کے قبضے میں تھی۔ عراقی گاڑیاں پورے اطمینان سے وہاں کی سڑکوں پر گھوم رہی تھیں۔

ابراہیم نے دعاؤں والا کتابچہ کھولا۔ ہم سب نے مل کر زیارت عاشورا پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دشمن کے مقبوضہ علاقوں پر حسرت بھری نگاہ ڈال کر ابراہیم سے کہا: ’’ابرام جان، اس سرحدی راستے کو دیکھو۔ عراقی کتنے سکون سے اس پر آ جا رہے ہیں۔‘‘

اس کے بعد میں نے حسرت سے کہا: ’’کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک دن ہمارے لوگ ان راستوں پر اطمینان و سکون سے چل پھر سکیں اور اپنے شہروں کو واپس پلٹ سکیں۔‘‘

ایسا لگتا تھا کہ ابراہیم کا میری باتوں کی طرف دھیان ہی نہیں ہے۔ وہ دور اپنی نظریں گاڑے ہوئے تھا۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگا: ’’کیا کہہ رہے ہو! ایک دن آئے گا اسی راستے سے لوگ ٹولیوں کی شکل میں کربلا کی طرف سفر کریں گے۔‘‘

واپسی پر میں نے جوانوں سے پوچھا: ’’کیا آپ لوگ اس سرحدی چوکی  نام جانتے ہیں؟‘‘

ایک جوان نے کہا: ’مرز خسروی۔’‘

اس واقعے کے بیس سال بعد ہم کربلا گئے۔ میری نظریں اسی چوٹی پر تھیں کہ جس کی بلندی پر بیٹھ کر ابراہیم نے زیارتِ عاشورا پڑھی تھی۔ میں گویا ابراہیم کو دیکھ رہا تھا کہ وہ ہمیں رخصت کر رہا ہے۔وہ چوٹی مرز خسروی کے علاقے کے بالکل سامنے تھی۔ اس دن بسیں سرحد کی طرف جا رہی تھیں۔ اسی راستے سے لوگ ٹولیوں کی شکل میں کربلا کی زیارت کو جا رہے تھے۔

ہم جب بھی تہران میں ہوتے تھے تو ہر شب جمعہ کو حضرت عبدالعظیم کی زیارت پر جانا ابراہیم کا معمول تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’’شب جمعہ، خدا کی رحمت کی رات ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی شب ہے۔ سارے اولیاء اور ملائکہ کربلا جاتے ہیں۔ ہمیں بھی ایسی جگہ پر جانا چاہیے کہ جس کے بارے میں اہل بیت علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ اس جگہ کی زیارت کربلا کی زیارت جتنا ثواب رکھتی ہے۔‘‘

اس کے بعد وہ اسی جگہ دعائے کمیل پڑھا کرتا تھا اور رات کے ایک بجے واپس آ جاتا۔ جس زمانے میں بسیج کے پروگرام شروع ہوئے تو وہ زیارت کے بعد سیدھا مسجد میں بسیجی جوانوں کے پاس آ جاتا۔

ایک رات ہم اکٹھے ہی حرم سے باہر نکلے۔ مجھے چونکہ جلدی تھی اس لیے میں ایک دوست کے ساتھ موٹرسائیکل پر مسجد آ گیا لیکن ابراہیم دو تین گھنٹے بعد پہنچا۔ میں نے پوچھا: ’’ابراہم جان، بہت دیر لگا دی؟!‘‘

کہنے لگا: ’’حرم سے پیدل ہی نکل پڑا تھا تا کہ راستے میں شیخ صدوق کی زیارت بھی کرتا جاؤں کیونکہ تہران کے پرانے لوگ کہتے ہیں کہ امام زمانہ عج شب جمعہ کو شیخ صدوق کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔‘‘

میں نے کہا: ’’بہت اچھے، مگر پیدل کیوں آئے؟‘‘

اس نے صحیح جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: ’’تمہیں تو مسجد میں آنے کی جلدی تھی، لیکن تم پیدل آئے۔ اس کی ضرور کوئی نہ کوئی وجہ ہو گی!‘‘

میرے اصرار پر اس نے جواب دیا: ’’حرم سے باہر آیا تو ایک بہت ہی محتاج اور ضرورتمند شخص میرے پاس آیا۔ میں نے اپنی جیب  میں پڑے  پیسے اسے دے دیے۔ جب ٹیکسی پر سوار ہونے لگا تو دیکھا کہ کرائے کے لیے پیسے نہیں بچے۔ اسی وجہ سے پیدل آنا پڑا۔‘‘

*****

ہر ہفتے کے آخر میں ہم اکٹھے ہی زیارت پر جاتے  اور آدھی رات کے وقت بہشت زہرا میں شہداء کی قبروں پر جاتے تھے۔ اس کے بعد ابراہیم ہمارے سامنے حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب بیان کیا کرتا۔

بعض اوقات قبر کے اندر چلا جاتا اور عجیب حالت میں روتے ہوئے پُرسوز آواز میں دعائے کمیل پڑھا کرتا تھا۔

دستی بم (ہینڈ گرنیڈ)
[علی مقدم]

معرکہ مطلع الفجر سے پہلے کی بات ہے۔ بہتر منصوبہ بندی کے لیے سپاہ پاسداران اور فوج کے کمانڈرز کے درمیان اندرزگو گروپ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک میٹنگ  ہوئی۔

میں، ابراہیم، فوج کے تین اور سپاہ کے تین افسران اس میٹنگ میں شامل تھے۔ کچھ جوان صحن میں فوجی تربیت لے رہے تھے۔

میٹنگ کے دوران سب محو گفتگو تھے کہ اچانک کمرے کی کھڑکی سے ایک دستی بم اندر کی طرف پھینکا گیا۔ وہ بالکل کمرے کے درمیان میں آ کر گرا۔ خوف سے میرا رنگ اڑ گیا۔ کمرے میں جہاں میں بیٹھا ہوا تھا وہیں اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور دیوار کی طرف منہ کر کے پاؤں کے بل بیٹھ گیا۔

چند لمحوں کے لیے میرا سانس سینے میں اٹک کر رہ گیا۔ دوسرے لوگ بھی میری طرح دیوا ر کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے۔

وہ لمحات کافی مشکل سے گزر رہے تھے، لیکن ابھی تک بم پھٹنے کی آواز نہ سنائی دی تھی۔ میں نے بہت آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنی انگلیوں کے فاصلوں سے کمرے کے درمیان دیکھا۔  میری آنکھوں نے جو منظر دیکھا وہ ناقابل یقین تھا۔ میں نے اپنا سر اٹھایا اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا: ’’آغا ابرام۔۔۔‘‘

دوسرے لوگوں نے بھی کمرے کے کونوں سے ایک ایک کر  کے اپنا سر اٹھایا۔

سب اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ کمرے کے درمیان دیکھ رہے تھے۔

بہت ہی عجیب و غریب منظر تھا۔ ہم سب کے سب تو کمرے میں ادھر ادھر بکھر گئے تھے، مگر ابراہیم بم کے اوپر لیٹ گیا تھا۔

اسی دوران ٹریننگ افسر کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے سب سے معذرت خواہی کرتے ہوئے کہا: ’’میں بہت شرمندہ ہوں، یہ پریکٹس والا بم تھاجو غلطی سے کمرے میں آن گرا۔‘‘

ابراہیم بم پر سے ہٹ کر اٹھ گیا۔ وہ جنگ کا پہلا سال تھا لیکن اس وقت تک ایسا کوئی اتفاق پیش نہیں آیا تھا۔

وہ بم گویا ہماری مردانگی کا امتحان لینے کے لیے آیا تھا۔

اس کے بعد اس بم والا واقعہ سب جوانوں میں مشہور ہو گیا۔


[1] ایران کا پہلا جمہوری صدر جو حکومت بنانے کے کچھ ہی عرصہ بعد منافقین سے جا ملا۔

[2] مقامی زبان میں دریا کے آس پاس کے علاقے کو ’’چم‘‘ کہا جاتا ہے۔ اردو میں اسے ترائی کا علاقہ کہتے ہیں۔

[3] وہاب قنبری سپاہ کرمانشاہ کے بانی اور مقامی کُرد قبیلے سے تھے۔ وہاب کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری تھی اور وہ قرآن و نہج البلاغہ پر کافی دسترس رکھتے تھے۔ اکثر فوجی جوانوں کے مطابق، یہ وہاب قنبری کی شجاعت اور مدیریت ہی تھی جس نے کردستان کے فسادات میں کرمانشاہ کو غیر جانبدار رکھا۔ وہاب کو اس کی محنتوں کو صلہ مل گیا اور وہ اپنے شہید دوستوں کے ساتھ جا کر ملحق ہو گیا۔

[4] سرفروش جانباز ماشاء اللہ عزیزی گیلان  غرب کے مخلص اور متقی استاد تھے۔ ان کی جانبازی کی تفصیل ادارہ گروہ شہید ہادی کی طرف سے چھپنے والی کتاب ’’وصال‘‘ میں بیان کی گئی ہے۔