آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

جنگ کا آغاز
[تقی مسگرہا]

پیر 22 ستمبر 1980؁ کی صبح تھی۔ میں نے ابراہیم اور اس کے بھائی کو دیکھا کہ سامان کو کہیں منتقل کر رہے ہیں۔ میں نے سلام کرنے کے  بعد کہا: ’’آج سہ پہر کو قاسم کچھ سازو سامان سے بھری ایک گاڑی لے کُردستان جا رہا ہے۔ ہم بھی اس کے ساتھ ہیں۔‘‘

اس نے حیران ہو کر پوچھا: ’’خیریت ہے؟‘‘

میں نے کہا: ’’ممکن ہے دوبارہ جھڑپیں شروع ہو جائیں۔‘‘

اس نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو میں بھی آ جاؤں گا۔‘‘

اسی دن ظہر کے وقت عراقی جہازوں کے حملوں سے جنگ شروع ہو گئی۔ سڑک پر سارے لوگ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔

سہ پہر 4 بجے ہم سڑک پر تھے۔ قاسم تشکری  ضروری سازو سامان سے بھری جیپ[1] لیے آ گیا۔ علی خرّمدل بھی اس کے ساتھ تھا۔ میں بھی سوار ہو گیا۔  جب ہم چلنے لگے تو ابراہیم بھی آ گیا اور ہمارے ساتھ سوار ہو گیا۔ میں نے کہا: ’’ابراہیم بھائی، آپ سامان منتقل نہیں کر رہے تھے؟!‘‘

اس نے کہا: ’’سامان نئے گھر میں رکھ دیا اور میں آ گیا۔‘‘

جنگ کا دوسرا دن تھا۔ ہم بہت کٹھن حالات میں کئی کچے راستوں کو عبور کرتے ہوئے ظہر سے پہلے سرپل ذہاب پہنچے۔ کسی کو بھی اپنی آنکھوں دیکھے پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ لوگ گروہ گروہ شہر سے فرار ہو رہے تھے۔

شہر کے اندر سے توپ کے گولوں اور دستی بموں کی آوازیں صاف سنائی دیتی تھیں۔

ہم شش و پنج میں تھے کہ کیا کریں۔  ایک درے سے ہم شہر کے داخلی دروازے میں داخل ہوئے۔ دور سے سپاہ کے جوان ہمیں نظر آئے جو ہمیں دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں نے کہا: ’’قاسم، جوان اشارہ کر رہے ہیں کہ جلدی آئیں۔‘‘

اچانک ابراہیم نے کہا: ’’وہاں دیکھو!‘‘ اس کے بعد اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔

ٹیلے کے پیچھے سے عراقی ٹینک صاف نظر آ رہے تھے جو مسلسل گولہ باری کر رہے تھے۔ کچھ گولے ہماری گاڑی کی طرف بھی آئے مگر خدا کا شکر کہ ہم خیریت سے رہے۔

ہم نے درے کو عبور کیا۔ سپاہ کا ایک جوان آگے بڑھا اور کہا: ’’تم لوگ کون ہو؟! میں تمہیں مسلسل اشارہ کر رہا تھا کہ ادھر نہ آؤ مگر تم لوگ گاڑی کا ایکسیلیٹر دبائے ہی جا رہے تھے۔‘‘

قاسم نے پوچھا: ’’یہاں کیا حالات ہیں؟ کمانڈر کون ہے؟‘‘

اس مجاہد نے جواب دیا: آغا بروجردی شہر میں جوانوں کے ساتھ ہیں۔ آج صبح عراقیوں نے شہر کے اکثر حصے پر قبضہ کر لیا تھا، مگر ہمارے جوانوں کے حملوں نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

ہم شہر میں داخل ہو گئے۔ ایک پُر امن جگہ پر گاڑی روکی۔ قاسم نے وہیں دو رکعت نماز پڑھی۔

ابراہیم نے آگے بڑھ کر حیرانی سے پوچھا: ’’قاسم! یہ کون سے نماز تھی؟‘‘

قاسم نے اطمینان سے جواب دیا: ’’کردستان میں ہمیشہ میں یہ دعا کرتا تھا کہ میں جب بھی اسلام کے دشمنوں سےجنگ کروں تو اسیر یا معذور نہ ہو جاؤں، لیکن اس دفعہ خدا سے دعا کی ہے کہ وہ مجھے شہادت نصیب فرمائے۔ اب دنیا کو برداشت کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔‘‘

ابراہیم بہت دقت سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کے بعد ہم محمد بروجردی کے پاس پہنچ گئے۔ وہ قاسم کو پہلے ہی سے جانتا تھا۔  ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد ایک جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’مجاہدوں کی دو بٹالینز اس طرف گئی ہیں مگر ان کا کوئی کمانڈر نہیں ہے۔ قاسم جان، تم جاؤ، دیکھو تو تم انہیں شہر میں واپس لا سکتے ہو یا نہیں؟‘‘

ہم اکٹھے اس طرف چلے گئے۔ وہ جگہ مجاہدوں سے بھری ہوئی تھی۔ سارے مسلح اور تیار مگر بہت ڈرے ہوئے تھے۔ وہ عراق کی طرف سے اس شدید حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔

قاسم اور ابراہیم آگے بڑھے اور ان سے باتیں کرنے لگے۔ انہوں نے ان سے ایسی باتیں کیں کہ ان میں جوش اور غیرت ٹھاٹھیں مارنے لگی۔ آخر میں انہوں نے کہا: ’’جو کوئی بھی مرد ہے، غیرتمند ہے اور نہیں چاہتا کہ ان بعثیوں کے ہاتھ اس کی عزت تک پہنچیں، وہ ہمارے ساتھ آئے۔‘‘

ان کی باتوں نے مجاہدوں میں ایک روح پھونک دی اور سبھی ان کے ساتھ چل پڑے۔

قاسم نے فوج کو ترتیب دیا اور ہم شہر میں داخل ہو گئے۔ داخل ہوتے ہی مورچہ بندی شروع کر دی۔ کچھ مجاہد کہنے لگے: ’’ہمارے پاس توپ 106 بھی موجود ہے۔‘‘

قاسم نے ایک انتہائی مناسب جگہ تلاش کرتے ہوئے انہیں دکھائی۔ وہ توپ کو وہاں لے گئے اور گولہ باری شروع کر دی۔ توپ کے چند گولے داغنے کے بعد عراقی ٹینک پیچھے کی طرف ہٹ گئے اور اپنے مورچوں میں واپس جا کر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ اس سے ہمارے جوانوں کا حوصلہ کافی بڑھ گیا۔

جنگ کا دوسرا روز ختم ہونے کے قریب تھا۔ قاسم نے ایک گھر کو ٹھکانہ بنا لیا جو جوانوں کے مورچے سے نزدیک تھا۔  پھر مجھے کہنے لگا: ’’جاؤ ابراہیم کو بلا لاؤ تا کہ ہم مل کر دعائے توسل پڑھیں۔‘‘

منگل کی رات تھی۔ میں چلا گیا اور قاسم نماز پڑھنے میں مشغول ہو گیا۔ میں ابھی زیادہ دور نہ گیا ہوں گا کہ ایک گولہ اسی گھر کے دروازے کے سامنے آ کر پھٹا۔ میں  نے کہا: ’’خدا کا شکر کہ قاسم اندر کمرے میں چلا گیا تھا۔‘‘ میں واپس پلٹ آیا۔ ابراہیم نے گولے کی آواز سن لی تھی۔ وہ بھی جلدی سے ہمارے پاس آ گیا۔ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو جو منظر ہماری آنکھوں نے دیکھا تھا اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ مسور کے دانے جتنا بم کا ایک ٹکڑا کھڑکی سے ہوتا ہوا قاسم کے سینے میں پیوست ہو گیا تھا۔ قاسم نے نماز کی حالت میں اپنی آرزوئے شہادت کو پا لیا تھا۔

محمد بروجردی یہ خبر سن کر کافی رنجیدہ ہو گیا۔ اس رات ہم نے قاسم کے جسد کے پاس دعائے توسل پڑھی۔ اگلے دن اس کے جسد کو تہران روانہ کر دیا۔

اس سے اگلے دن ہم ہیڈ آفس چلے گئے۔ وہاں سے ہمیں حکم ملا: ’’اسلحے کے گودام کی حفاظت آپ کچھ جوانوں کےسپرد کی جا رہی ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے ایک سکول ہمارے حوالے کیا جو اسلحے سے تقریباً بھرا ہوا تھا۔

ہم ایک دن وہاں ٹھہرے لیکن چونکہ وہاں خطرہ زیادہ تھا اس لیے وہ سارا سامان شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ ابراہیم مذاق سے کہتا  تھا: ’’دوستو! یہاں خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو کیونکہ اگر ایک گولہ بھی ادھر آ گیا تو ہم میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔‘‘

جب گودام خالی ہو گیا تو ہم جنگ کی فرنٹ لائن پر چلے گئے۔ سرپل ذہاب کے مغربی حصے میں مورچے بنا دیے گئے تھے۔

اصغر وصالی اور علی قربانی جیسے چند تربیت یافتہ کماندڑز مجاہدوں کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔

’’پاوہ‘‘ کے علاقے میں ان کا گوریلا فوجیوں کا دستہ تھا جو ’’سرخ رومال گروپ‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ اب یہ لوگ انہی گوریلا فوجیوں کو اپنے ہمراہ لے کر سرپل کے علاقے میں آ گئے تھے۔

ہم نے شہر کا ایک دورہ کیا۔ محمد شاہرودی، مجید فریدوند اور کچھ دوسرے دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔ اس کے بعد ہم اکٹھے اس مقام پر چلے گئے جہاں عراقی فوجیوں سے چھڑپیں ہو رہی تھیں۔

ٹیلے کی بلندی پر واقع مورچے میں موجود کمانڈر نے ہمیں بتایا: ’’سامنے والا ٹیلا عراقی فوجیوں کے ساتھ ہماری جنگ کا مقام ہے۔ اس سے آگے سارے ٹیلوں پر عراقی فوجی ہی قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔‘‘

کچھ لمحے گزرے تو دور سے ایک عراقی فوجی دکھائی دیا۔ سب فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

ابراہیم چلّا اٹھا: ’’تم لوگ کیا کر رہے ہو! ساری گولیاں ختم کر دیں۔‘‘

سب جوان خاموش ہو گئے۔ ابراہیم ایک عرصے تک کردستان میں رہا تھا اور اس نے اچھے طریقے سے فوجی تربیت لے رکھی تھی، کہنے لگا: ’’صبر کرو۔ جب دشمن تم سے زیادہ نزدیک ہو جائے تو پھر فائرنگ کرنا۔‘‘

اسی وقت عراقیوں نے ٹیلے کے نیچےسے فائرنگ شروع کر دی۔ آر پی جی سے نکلے ہوئے راکٹ اور توپ کے گولے مسلسل ہماری طرف فائر ہو رہے تھے۔

اس کے بعد عراقی ہمارے مورچوں کی طرف بڑھنے لگے۔ جن مجاہدین نے پہلی دفعہ اسلحہ اپنے ہاتھ میں لیا تھا وہ یہ منظر دیکھ کر پچھلے مورچوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہم بہت ڈر گئے تھے۔ کمانڈر نے چلّا کر کہا: ’’صبر کرو۔ مت گھبراؤ۔‘‘

تھوڑی دیر عراقیوں کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کی آواز کم ہو گئی۔ میں نے مورچے سے باہر دیکھا تو عراقی ہمارے مورچوں سے کافی نزدیک پہنچ گئے تھے۔

اچانک ابراہیم نے چند دوستوں کی مدد سے عراقیوں پر حملہ کر دیا۔ وہ لوگ مورچوں سے باہر کی طرف دوڑتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔

کچھ دیر نہ گزری تھی کہ کئی عراقی مارے گئے اور کچھ زخمی ہو گئے۔ ابراہیم اور اس کے دوستوں نے گیارہ عراقیوں کو گرفتار کر لیا۔ باقی لوگ بھاگ گئے۔

ابراہیم نے جلدی سے انہیں شہر کی طرف روانہ کر دیا۔ ابراہیم کے اس جرأتمندانہ اقدام سے سب جوانوں کا حوصلہ بلند ہو گیا۔ کچھ جوان مسلسل قیدیوں کی تصویریں اتار رہے تھے۔ کچھ ابراہیم کے ساتھ بھی یادگاری تصاویر بنوا رہے تھے۔

تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہم سرپل شہر میں داخل ہو گئے۔ وہاں ہمیں اطلاع ملی کہ راستہ بند ہونے کی وجہ سے قاسم کا جسد ابھی تک بیرک ہی میں پڑا ہوا ہے۔ ہم وہاں سے چل دیے اور جنگ کے پانچویں روز قاسم کا جسد اپنی گاڑی میں لے کر تہران آ گئے۔

تہران میں اس کا جنازہ پوری شان و شوکت سے اٹھا اور اس علاقے سے تعلق رکھنے والا دفاع مقدس کا پہلا شہید اس مقام پر دفن ہوا۔

جنازے پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا تھا۔ علی خرّمدل نعرے لگا رہا تھا:

’’اے میرے شہید سردار! تمہارا راستہ ابھی جاری ہے۔‘‘

دوسری حاضری
[امیر منجر]

30 ستمبر کو ہم سپاہ کے ایک دستے کے ساتھ محاذ پر چلے گئے۔ راستے میں سپاہ ہمدان کی چوکی پر تھوڑی دیر رُکے۔

ظہر کی  اذان ہو رہی تھی۔ برادر بروجردی سے ہماری ملاقات وہیں ہوئی۔ وہ سپاہ کے کچھ جوانوں کے ساتھ محاذ پر جا رہا تھا۔

ابراہیم اذان دینے لگا اور باقی سب جوان وضو کرنے لگے۔ جوانوں میں ایک عجیب قسم کی روحانی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ محمد بروجردی نے پوچھا: ’’امیر بھائی، یہ ابراہیم کہاں سے ہے؟‘‘

میں نے کہا: ’’ہمارے ہی علاقے سے ہے۔ 17 شہریور روڈ اور خراسان چوک کی طرف۔‘‘

برادر بروجردی نے کہا: ’’عجیب آواز ہے اس کی۔ میں نے ایک دوبار اسے محاذ پر دیکھا ہے۔ کافی بہادر اور جرأتمند جوان ہے۔‘‘

اس کے بعد کہنے لگا: ’’اگر ممکن ہو تو اسے ہمارے پاس کرمانشاہ لے آؤ۔‘‘

نماز، جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ اس کے بعد ہم چل پڑے۔ یہ دوسری بار تھی کہ ہم سرپل ذہاب میں آئے تھے۔

اصغر وصالی نے اپنے جوانوں کو مستعد کر دیا تھاجس کے بعد علاقے میں کافی حد تک امن و امان ہو گیا تھا۔

اصغر کافی بہادر اور شجاع کمانڈر تھا۔ ابراہیم کو اس سے کافی لگاؤ تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا: ’’میں نے اصغر جیسا شجاع، دلاور اور منتظم گوریلا نہیں دیکھا۔ اصغر اپنی بیوی کو بھی محاذ پر لے آتا ہے اور اپنی پیکان کار، جو اسلحے کا گودام لگتی ہے، پر بٹھا کر تمام محاذوں پر اسے پھراتا رہتا ہے۔‘‘

ابراہیم کے بارےمیں اصغر کے جذبات بھی ایسے ہی تھے۔

ایک بار جب اصغر نے دشمن کے ٹھکانوں کی ریکی اور حملے کا ارادہ کیا تو ابراہیم سے کہا: ’’تیار رہنا، ریکی کے لیے چلیں گے۔‘‘

اصغر جب ریکی سے واپس آیا تو کہنے لگا: ’’میں انقلاب سے پہلے لبنان میں جنگ لڑ چکا ہوں۔ 1979؁ میں کردستان میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران محاذ پر بھی رہا ہوں۔لیکن یہ جوان جس نے ابھی تک باقاعدہ طور پر فوجی اور جنگی تربیت بھی نہیں لی، انتہائی ماہر بھی ہے اور جنگ کی باریکیوں کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔‘‘

یہی وجہ تھی کہ اصغر  حملوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت ابراہیم سے مدد لیا کرتا تھا۔

ایک حملے میں انہوں نےبغیر کسی جان و مالی نقصان کے دشمن کے آٹھ ٹینک تباہ کر کے رکھ دیے اور بہت سے عراقی فوجیوں کو قید بھی کر لیا۔

اصغر وصالی نے ابوذر بیرک کی ایک عمارت کو رضاکار مجاہدوں کے لیے آمادہ کر دیا اور ان کے ناموں اور کوائف کے اندراج اور انہیں تقسیم کرتے ہوئے شہر میں ایک خاص قسم کا نظم و ضبط پیدا کر دیا۔

جب شہر کے حالات ذرا پُرسکون ہو گئے  تو ابراہیم نے دوسرے مجاہدین کے ساتھ مل کر زورآزمائی اور پہلوانی کا اکھاڑا جما لیا۔

ہر روز صبح کے وقت ابراہیم ایک پتیلے پر ضرب لگاتا اور اپنے جوشیلی آواز سے پڑھا کرتا تھا۔

اصغر اکھاڑے کا ریفری بن جاتا۔ جی ۳ کلاشنکوف کو بطور گرز استعمال کیا جاتا۔ توپ کے گولے اور دوسرے اسلحہ سے بھی ورزش کرنے کے لیے مختلف قسم کی چیزیں بنا لی گئیں۔

ایک کمانڈر کہا کرتا تھا: ’’ان دنوں بہت سے وہ لوگ جو شہر میں رہ گئے تھے، ہسپتالوں کی نرسیں اور جنگجو جوان  صبح صبح اکھاڑے کے پاس آ جاتے تھے۔‘‘

ابراہیم اپنی سریلی اور میٹھی آواز میں پڑھتا اور اصغر مقابلوں میں ریفری بن جاتا۔

اس طریقے سے انہوں نے زندگی  اور امید کی روح کو زندہ رکھا ہوا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ابراہیم واقعاً ایک عجیب سا انسان تھا۔

*****

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں: ’’ہر نیک کام جو انسان انجام دیتا ہے اس کا ثواب قرآن مجید میں مشخص ہے سوائے نمازِ شب کے کیونکہ اس کی اتنی زیادہ اہمیت ہےکہ اس کا ثواب خدا نے کسی کو نہیں بتایا اور فرمایا ہے: ’’ان کے پہلو، ان کے بستروں سے جدا ہو جاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ جو کچھ انہوں نے انجام دیا ہے اس کی جزا میں مَیں نے ان کے لیے کیا کیا ذخیرہ کر رکھا ہے۔‘‘[2]

سرپل ذہاب میں گزرے اس تھوڑے سے عرصے میں ابراہیم کا معمول تھا کہ اذان صبح سے دوگھنٹے پہلے بیدار ہو جاتا اور جوانوں کی خبرگیری کے  بہانے  اپنے بستر سے اٹھ  کر دور چلا جاتا۔

لیکن مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ سحر خیزی کی لذت لیتا اور نمازِ شب میں مشغول ہو جاتا تھا۔

ایک بار میں نے ابراہیم کو دیکھا کہ اذان صبح سے ایک گھنٹہ پہلے اس کی آنکھ کھلی۔ بڑی مشکل سے اس نے پانی کی ایک بالٹی مہیا کی اور غسل اور نماز شب کے لیے اس پانی کو استعمال کیا۔

تسبیحات
[امیر سپہر نژاد]

4 اکتوبر 1980؁ کا دن تھا۔ ابراہیم کا دو دن سے کچھ اتا پتا نہیں چل رہا تھا۔ میں  اس کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے جنگی قیدیوں کے مرکز میں بھی گیا مگر وہاں سے بھی کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ آدھی آدھی رات تک دل میں اضطراب رہتا کہ میں اپنے سب سے گہرے دوست کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔

نماز فجر کے بعد صحن میں آیا تو ابوذر بیرک پر عجیب طرح کا سکوت چھایا ہوا تھا۔

میں صحن کی مٹی پر بیٹھ گیا۔ ابراہیم کے ساتھ گزرے ہوئے تمام واقعات و لمحات میرے ذہن میں گھومنےلگے۔

ابھی تک اجالا نہیں ہوا تھا۔ بیرک کا پھاٹک ایک آواز کے ساتھ کھلا اور کچھ لوگ اندر داخل ہوئے۔

بے اختیار میری نگاہیں بیرک کے پھاٹک کی طرف اٹھ گئیں۔  جھٹ پٹے میں سے نظر آنے والے اس کے چہرے پر میری نظریں جمی کی جمی رہ گئیں۔ میں اپنی جگہ سے خوشی کے مارے اچھل پڑا۔ وہ ابراہیم ہی تھا۔ ان آنے والوں میں سے ایک ابراہیم تھا۔ میں دوڑ  پڑا اور چند لمحوں بعد ہم ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے تھے۔

اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ کچھ دیر بعد ہم جوانوں کے بیچ بیٹھ گئے۔ ابراہیم ان تین دنوں کا ماجرا سنا رہا تھا: ’’ہم ایک بکتر بند گاڑی میں کافی آگے تک نکل گئے تھے۔ نہیں معلوم عراقی کہاں سے ٹپک پڑے۔  ایک ٹیلے کے پاس ہم ان کے محاصرے میں آ گئے۔ سو کے لگ بھگ عراقی ٹیلے کے اوپر اور میدان سے ہماری طرف گولیاں چلا رہے تھے۔ ہم پانچ لوگ تھے۔ ہم نے ایک ٹیلے کے پاس ایک گڑھا پایا تو اسے مورچہ بنا کر جوابی فائرنگ کرنے لگے۔ غروب تک ہم اپنا دفاع کرتے رہے۔ جیسے ہی اندھیرا چھا گیا تو عراقی بھی پیچھے ہٹ گئے۔ راستہ جاننے والے دو آدمی جو ہمارے ساتھ تھے وہ شہید ہو چکے تھے۔ ہم مورچے سے باہر آئے۔ وہاں اردگرد کوئی نہ تھا۔ ہم اس ٹیلے کے پیچھے درختوں میں چلے گئے۔ وہاں شہداء کے جسد دفنائے۔ تھکاوٹ اور بھوک سے ہمارا برا حال تھا۔ غروب آفتاب کی سمت کو دیکھ کر ہم نے قبلہ مشخص کیا اور نماز پڑھی۔ نماز کے بعد میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کے لیے تسبیحات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پورے خضوع و خشوع سے پڑھیں۔ اس کے بعد میں نے انہیں مزید بتایا کہ یہ تسبیحات پیغمبر اکرمﷺ نے اس وقت اپنی بیٹی کو تعلیم فرمائی تھیں جب وہ بہت زیادہ مشکلات اور سختیوں کا شکار تھیں۔ تسبیحات پڑھنے کے بعد ہم دوبارہ اسی مورچے میں واپس آ گئے۔ عراقیوں کا کچھ پتا نہ تھا۔ ہمارا اسلحہ بھی کم رہ گیا تھا۔ اچانک ٹیلے کے پاس کچھ عراقیوں کی لاشوں پر میری نظر پڑ گئی۔ ہم نے ان کا اسلحہ،  میگزینیں اور دستی بم اٹھا لیے۔ کچھ کھانے کا سامان بھی مل گیا۔ اس کے بعد ہم چل پڑے۔ لیکن کس سمت کو جا رہے تھے؟ یہ ہمیں معلوم نہیں تھا۔ اندھیرا چھا چکا تھا اور ہمارے اردگرد صاف میدان تھا۔ میرے ہاتھ میں تسبیح تھی اور میں مسلسل تسبیح پڑھے جا رہا تھا۔ دشمنوں کی طرف سے محاصرہ، تھکاوٹ، تیرہ و تار رات، ان سب کے باوجود میرے دل کو عجیب سا اطمینان مل رہا تھا۔ آدھی رات کو کھلے میدان میں ہمیں ایک کچا راستہ مل گیا۔ ہم اس پر چل پڑے۔ ہم ایک فوجی چھاؤنی میں پہنچ گئے جہاں ریڈار نصب تھا۔  اس کے پاس کچھ سکیورٹی گارڈز بھی کھڑے تھے۔ اس چھاؤنی میں کچھ مورچےبھی نظر آ رہے تھے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم کہاں ہیں۔ہمیں اپنے زندہ رہنے کی ذرہ برابر امید بھی نہیں رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے ایک عجیب  فیصلہ کیا۔ تسبیح کے بعد میں نے استخارہ بھی کیا جو اچھا آ گیا۔ ہم اپنا کام شروع ہو گئے۔ خدا کی مدد سے ہم دستی بموں اور فائرنگ کے ذریعے اس چھاؤنی کی اینٹ سےاینٹ بجا سکتے تھے۔ جب ریڈار نے کام کرنا چھوڑ دیا تو ہم اس کے پاس سے ہٹ گئے۔ گھنٹہ بھر بعد ہم دوبارہ اپنے راستے پر چل پڑے۔ صبح کے وقت ایک پُرامن جگہ ہمیں مل گئی اور ہم آرام کرنے لگے۔ ہم نے سارا دن استراحت کی۔  یہ سب کچھ ناقابل یقین تھا۔ ہمیں ایک عجیب قسم کا اطمینان محسوس ہو رہا تھا۔ رات جیسے ہی گہری ہوئی ہم نے دوبارہ اپنا راستہ ناپا اور اللہ کی مدد سے اپنے فوجی جوانوں کے پاس پہنچ ہی گئے۔‘‘

ابراہیم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’جو کچھ ہم نے اس عرصے میں دیکھا وہ فقط خدا کی عنایات  تھیں۔ تسبیح زہرا سلام اللہ علیہا نے ہماری بہت سےمشکلات حل کر دیں۔‘‘

اس کے بعد کہنے لگا: ’’دشمن اپنے ایمان کی کمزوری کے باعث ہماری فوج سے بہت ڈرتا ہے۔جہاں تک ہو سکتا ہے ہمیں غیر منظم حملوں میں وسعت لانی چاہیے تاکہ دشمن کی طرف سے ہونے والے حملوں کا سدّباب کیا جا سکے۔‘‘

المہدی کالونی
[علی مقدم، حسین جہان بخش]

جنگ شر وع ہوئے ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ابراہیم، حاج حسین اور کچھ دوسرے رفقاء سرپل ذہاب کے اطراف میں واقع المہدی کالونی کی طرف چلے گئے اور وہاں جا کر دشمن کے مقابل پہلی مرتبہ طیارہ شکن مورچے بنائے۔

نماز فجر سے فارغ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ سب جوان ابراہیم کو تلاش کر رہے ہیں۔ میں نے حیرانی سے پوچھا: ’’کیا ہوا؟!‘‘

کہنے لگے: ’’آدھی رات کے بعد سے ابراہیم کا کچھ اتاپتا نہیں ہے۔‘‘

میں بھی ان کے ساتھ مورچوں اور نگہبانی والی جگہوں پر جا کر ابراہیم کو ڈھونڈنے لگا مگر اس کا کچھ پتا نہ چلا۔ کوئی گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ نگہبانی پر مامور ایک جوان نےبتایا: ’’نالے کے راستے سے کچھ لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔‘‘

اس نالے کا رُخ دشمن کی طرف تھا۔ میں فوراً نگہبانی والے مورچے کی طرف چلا گیا اور جوانوں کے ساتھ مل کر آنے والے لوگوں کو دیکھنے لگا۔

13 عراقی فوجی بندھے ہاتھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ہماری طرف آ رہے تھے۔ ان کے پیچھے ابراہیم اور ایک دوسرا جوان تھے۔ ان دونوں نے بہت سا اسلحہ، دستی بم اور میگزینیں بھی اٹھا رکھی تھیں۔

کسی کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ابراہیم ایک دوست کے ساتھ مل کر اتنا بڑا معرکہ مار لے گا اور وہ بھی ایسی صورتحال میں جب کہ المدی کالونی میں اسلحے کی کمی بھی تھی حتی کہ کچھ مجاہدین کے پاس سرے سے اسلحہ تھا ہی نہیں۔

ہمارا ایک جوان کافی جوش میں آ گیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر پہلے عراقی قیدی کے چہرے پر زور سے تھپڑ دے مارا اور کہا: ’’عراقی، [امریکہ کا] پِٹھو۔‘‘

سب ایک لمحے کے لیے تو ہکابکا رہ گئے۔ ابراہیم قیدیوں کے پاس سے ہٹ کر اس جوان کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ایک ایک کر کے اپنا اسلحہ اتارا اور چلّا کر اس جوان سے کہا: ’’تم نے اس کے چہرے  پر تھپڑ کیوں مارا؟!‘‘

جوان شدید حیران رہ گیا: ’’مگر ہوا کیا ہے؟ یہ ہمارا دشمن ہے۔‘‘

ابراہیم نے اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے کہا: ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ہمارے دشمن تھے لیکن اب ہمارے قیدی ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ لوگ اصلاً نہیں جانتے کہ ہم سے کیوں لڑ رہے ہیں۔ اب تم ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہتے ہو؟‘‘

وہ جوان تھوڑی دیر تک خاموش رہنے کے  بعد کہنے لگا: ’’مجھے معاف کر دیں۔ میں ذرا جوش میں آ گیا تھا۔‘‘

اس کے بعد اس نے پلٹ کر عراقی قیدی کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس سے اپنے رویے  کی معافی مانگی۔ عراقی قیدی جو حیرت سے ہماری حرکتیں دیکھ رہا تھا، ابراہیم کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس قیدی کی حیران آنکھوں میں کہنے کا بہت کچھ تھا۔

*****

جنگ شروع ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے۔ ابراہیم چھٹی پر گھر آیا تو ہم کچھ دوست اس سے ملنے اس کے گھر گئے۔

اس ملاقات میں ابراہیم جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات بیان کر رہا تھا، لیکن اپنے بارے میں کچھ نہیں بتا رہا تھا۔ ہوتے ہوتے مجاہدین کی نماز و عبادت پر گفتگو پہنچی تو ابراہیم اچانک ہنس پڑااور کہنے لگا: ’’المہدی کالونی میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں پانچ جوان ہمارے ساتھ آ کر شامل ہوئے۔ وہ ایک گاؤں سے اکٹھے ہی محاذ پر پہنچے تھے۔  کچھ دن گزرے تو میں نے دیکھا کہ وہ نماز نہیں پڑھتے۔ میں نے ایک دن ان سے بات کی۔ وہ بےچارے بہت ہی سادہ لوح انسان تھے۔ نہ تو پڑھے لکھے تھے اور نہ ہی انہیں نماز آتی تھی فقط امام [خمینیؒ] سے محبت کی وجہ سے محاذ پر آ گئے تھے۔  دوسری طرف انہیں خود بھی نماز سیکھنے کا شوق تھا۔ میں نے جب انہیں وضو سکھا دیا تو ایک جوان کو بلایا اور ان دوستوں سے کہا: ’’یہ صاحب تمہارے پیش نماز ہیں۔ جو کچھ یہ کریں گے آپ بھی انجام دیں۔ میں آپ کے پاس کھڑا ہو کر نماز کے اذکار کو بلند آواز سے باربار پڑھوں گا تاکہ آپ کو اچھی طرح نماز یاد  ہو جائے۔‘‘

یہاں تک پہنچ کر ابراہیم اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ کچھ دیر بعد بولا: ’’پہلی رکعت میں الحمد پڑھتے ہوئے امام جماعت نے اپنے سر میں خارش کرنا شروع کر دی۔ میں نے دیکھا تو وہ پانچوں بھی اپنے سر میں خارش کر رہے تھے۔ مجھے بہت ہنسی آئی مگر میں نے اپنے آپ کو روکے رکھا۔ لیکن جب امام جماعت نے سجدے سے سر اٹھایا  تو سجدہ گاہ اس کی پیشانی سے چپک گئی اور پھر گر گئی۔ امام جماعت جیسے ہی سجدہ گاہ اٹھانے کے لیے بائیں طرف جھکا تو وہ پانچوں بھی بائیں طرف جھک گئے اور اپنے ہاتھ بڑھا لیے۔ یہ دیکھنا تھا کہ مجھے اپنی ہنسی پر قابو نہ رہا اور میں کھلکھلا کر ہنس پڑا۔‘‘

مشکل کشا
[شہیدؒ کے ایک دوست]

پیغمبر اکرمﷺ سے ایک بار پوچھا گیا: ’’مومنین میں سے کامل تر ایمان کس کا ہے؟‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: ’’جو راہِ خدا میں اپنی جان و مال سے جہاد کرے۔[3]‘‘

کمانڈر محمد کوثری (لشکر حضرت رسولﷺ کے سابق کمانڈر) ابراہیم کے حوالے سے اپنی یادیں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’جنگ کے ابتدائی دنوں میں سرپل ذہاب کے مقام پر میں نے ابراہیم سے کہا: ’’ہادی بھائی، آپ کی تنخواہ تیار ہے۔ جب بھی چاہیں آ کر لے سکتےہیں۔‘‘

اس نے جواب میں بہت آہستہ سےپوچھا: ’’آپ تہران کب جا رہے ہیں؟‘‘

میں نے کہا: ’’ہفتے کے آخر میں۔‘‘

اس کے بعد کہا: ’’میں آپ کو تین پتے لکھ کر دوں گا۔ جب آپ تہران جائیں گے تو یہ پیسے ان تینوں گھروں میں دے دیں۔‘‘

میں نے یہ کام کر دیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ تینوں خاندان ضرورتمند اور سفید پوش تھے۔

*****

میں محاذ سے واپس آ رہا تھا۔ جب خراسان چوک پہنچا تو دیکھا کہ میرے پاس پیسے بالکل ختم ہو چکے ہیں۔ میں گھر کی طرف چلا جا رہا تھا اور سوچتا جا  رہا تھا کہ ابھی گھر پہنچوں گا تو بیوی بچے مجھ سے پیسے مانگیں گے۔ گھر کےکرایے کا بھی بندوبست نہیں ہوا۔ کس کے پاس جاؤں، کسے اپنا ماجرا سناؤں۔ میں اپنے بھائی کے گھر جانا چاہتا تھا مگر میری حالت کچھ مناسب نہیں تھی۔

میں عارف چوک پر ٹھہرا اپنے آپ سے کہے جا رہا تھا: ’’فقط خدا ہی میری مدد کر سکتا ہے۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں؟!‘‘

اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ اچانک ابراہیم پر نظر پڑی جو اپنی موٹرسائیکل پر میری طرف ہی آ رہا تھا۔ میں بہت خوش ہوا۔  وہ مجھے دیکھتے ہی موٹرسائیکل سے اترا اور مجھے اپنے گلے لگا لیا۔ کچھ منٹ تک ہم باتیں کرتے رہے۔ جاتے جاتے اس نے اشارے سے پوچھا: ’’تنخواہ لے لی؟‘‘

میں نے کہا: ’’نہیں، ابھی نہیں لی۔ لیکن زیادہ ضرورت نہیں ہے۔‘‘

اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیسوں کی ایک گڈی نکال کر مجھے تھما دی۔ میں نے کہا: ’’نہیں ابراہیم، میں ہرگز نہیں لوں گا۔ تمہیں خود ضرورت ہیں۔‘‘

کہنے لگا: ’’یہ قرض الحسنہ ہے۔ جب بھی تنخواہ لینا تو مجھے واپس دے دینا۔ اس کے بعد اس نے پیسے میری جیب میں ڈالے اور سوار ہو کر یہ جا وہ جا۔‘‘

ان پیسوں میں بہت برکت تھی۔ میری بہت سی ضروریات ان سے پوری ہو گئیں اور کافی عرصے تک مجھے مالی حوالے سے کوئی مشکل پیش نہ آئی۔

میں نے اس کے لیے بہت سی دعا کی۔ اس دن خدا نے ابراہیم کو میرے پاس بھیجا۔ وہ ہمیشہ کی طرح مشکل کشا بن کر آ گیا تھا۔

شہید اندرزگو گروپ
[مصطفیٰ صفار ہرندی]

جنگ کو تھوڑا عرصہ گزر چکا تھا۔ ملک کے مغربی حصے میں تعینات سپاہ کے اعلیٰ عہدیداران نے ایک میٹنگ کا انتظام کیا۔ اس میٹنگ میں طے یہ پایا کہ سپاہ کے رضا کار جوانوں کو مختلف علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ لہٰذا کچھ جوان سرپل ذہاب سے سومار کی طرف، کچھ مہران اور صالح آباد کی طرف اور کچھ بُستان کی طرف روانہ ہو گئے۔

میٹنگ کے مطابق جنگی علاقوں میں تعینات کمانڈر حسین اللہ کرم کو گیلان غرب اور نفت شہر کی سپاہ کی کمان سونپ دی گئی۔ وہ بٹالین8 اور 9 کے کچھ دستوں کو لے کر گیلان غرب کو روانہ ہو گئے۔

ابراہیم جو اکھاڑے کے وقتوں ہی سے حاج حسین کے ساتھ دیرینہ رفاقت رکھتا تھا وہ بھی ان کے ساتھ گیلان غرب چلا گیا اور اسے سپاہ کا ڈپٹی آپریشن کمانڈر بنا دیا  گیا۔

*****

گیلان غرب مختلف پہاڑوں کے درمیان گھرا ایک شہر ہے۔ سرحد پر واقع یہ شہر نفت شہر سے 50 جبکہ سرپل ذہاب سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ عراقی افواج نے اس شہر کے قرب و جوار اور اس کی بہت سے چوٹیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں عراقی افواج کی چوتھی ڈویژن گیلان غرب میں داخل ہو گئی تھی مگر وہاں کے غیور مردوں اور عورتوں کی استقامت کی سامنے نہ ٹھہر سکی اور فرار کرنے پر مجبور ہو گئی۔

اس حملے کے دوران اس شہر کی ایک عورت نے درانتی سے وار کر کے دو عراقی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے بعد کافی لوگوں نے وہ شہر چھوڑ دیا تھا۔ جو باقی رہ گئے تھے وہ دن کو شہر میں آ جاتے اور راتوں کو اسلام آباد کے راستے پر لگے خیموں میں چلے جاتے۔

فوج کی بریگیڈ ذوالفقار بھی گیلان غرب کے اطراف میں بان سیران کے علاقے میں آن ٹھہری تھی۔

گیلان غرب کی فوج کو اپنے سرگرمیاں شروع کیے کچھ دن گزر گئے تھے۔ اس عرصے میں جوانوں کا کام فقط یہی تھا کہ وہ دشمن کی طرف سے امکانی حملوں کی صورت میں دفاع کے لیے آمادہ رہیں۔ اس کے علاوہ فوج کی کوئی خاص سرگرمی نہیں تھی۔

ایک میٹنگ ہوئی۔جوانوں نے تجویز دی کہ جس طرح جنوب میں ڈاکٹر چمران نے غیرمنظم جنگ اور سرپل ذہاب کے علاقےمیں اصغر وصالی نے چھاپہ مار جنگوں کا آغاز کیا تھا، اسی طرح کا ایک چھاپہ مار دستہ گیلان غرب کے علاقے میں بھی تیار کیا جائے۔

چھاپہ مار دستہ آمادہ ہو گیا۔ اس کے بعد اس کے حملوں کی سربراہی ابراہیم ہادی اور جواد افراسیابی کو سونپی گئی۔ جوانوں نے تجویز دی کہ اس دستے کو ڈاکٹر بہشتیؒ کے نام سے موسوم کیا جائے۔ لیکن جب شہید بہشتیؒ خود اس علاقے کے دورے پر آئے تو انہوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ’’چونکہ آپ لوگ چھاپہ مار دستہ ہیں لہٰذا اس دستے کو شہید اندرزگو سے موسوم کیا جائے کیونکہ وہی تھے جو چھاپہ مار جنگ کے بانی تھے۔‘‘

ابراہیم نے امام خمینیؒ، آیت اللہ بہشتیؒ اور رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی بڑی تصاویر اپنے کیمپ میں لگا دیں۔ اس چھاپہ مار دستے نے اپنے کام کا آغاز کردیا۔

اس دستے کے تمام جوان اس کے نام کی طرح غیر منظم تھے، کیونکہ اس دستے میں ہر قسم کا فوجی شامل تھا۔

اس دستے میں جہاں جوان تھے وہاں بوڑھے افراد بھی تھے۔ ان پڑھ افراد کے ساتھ ڈاکٹر حضرات بھی موجود تھے۔ متقی و پرہیزگار    لوگ بھی تھے اور ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے وہیں آ کر نماز پڑھنا سیکھی تھی۔ حوزہ علمیہ کے علماء کے ساتھ ساتھ کیمونزم سے تائب  ہو کر آنے والے کیمونسٹ بھی وہاں پائے جاتے تھے۔غرضیکہ اس دوستانہ اور مخلصانہ فضا میں ہر قسم کا انسان نظر آتا تھا۔

تقریباً چالیس افراد پر مشتمل اس گروہ میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ تھی شجاعت اور بلند ہمتی۔ابراہیم کہ جس کے سر پر اس دستے کی سربراہی کی ذمہ داری تھی، ہمیشہ کہا کرتا تھا: ’’ہمارا کوئی کمانڈر نہیں ہے۔‘‘ وہ بہت محبت اور دوستانہ طریقے سے اپنے اس گروہ کی کمان سنبھالے ہوئے تھا۔

اس دستے کا انتظام کچھ ایسے مرتب پا گیا تھا کہ ہر کام خود بخود ہو جاتا تھا اور کسی کو کسی دوسرے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اکثر کام فکری ہم آہنگی سے انجام پا جاتے تھے۔ سب سے زیادہ جواد افراسیابی اور رضا گودینی ابراہیم کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔

*****

اس دستے کی روزانہ کی سرگرمیوں میں سے ایک سرگرمی یہ بھی تھی کہ وہ علاقے کے لوگوں کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوتے تھے۔ اس طریقے سے گیلان غرب کے بہت سے مقامی جوان بھی اس دستے میں شامل ہو گئے۔

دشمن کے علاقوں اور ان کے مورچوں کی جاسوسی اور حملے کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دینا، شہید اندرزگو گروپ کی زیادہ تر مصروفیت تھی۔  اس کے علاوہ چوٹیوں کو عبور کرنا اور دشمن کے علاقوں کا صحیح اور دقیق نقشہ تیار کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ریکی  کے معاملے میں ابراہیم کا طریق کار بہت عجیب تھا۔ وہ کچھ جوانوں کو لے کر آدھی آدھی رات کو چوٹیاں عبور کر کے چلا جاتا۔ یہ لوگ دشمن کے ٹھکانوں کے عقبی حصوں تک جا نکلتے اور ان کے ٹھکانوں اور اسلحے کے بارے میں انتہائی تفصیلی معلومات لے کر واپس آتے۔ ابراہیم کہا کرتا تھا: ’’اگر ایسا نہ کیا جائے تو حملوں میں کامیاب ہونا یقینی نہیں ہوتا۔ لہٰذا جاسوسی پوری تفصیل سے اور صحیح انداز میں ہونی چاہیے۔‘‘

ابراہیم یہی طریقہ اپنے ماتحت دوسرے جوانوں کو بھی سکھاتا تھا۔ اس کا کہنا تھا: ’’ریکی کے معاملے میں جوانوں کے اندر شجاعت ہونی چاہیے۔‘‘

اگر کسی انسان کے اندر خوف کا وجود ہو تو وہ کبھی بھی ایک اچھا فوجی نہیں بن سکتا۔ وہ اکثر فوجی جوانوں کی زود فہمی اور دقتِ عمل پر زور دیتا رہتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ فوجی جاسوسی اور دشمن کے حوالے سے معلومات کے شعبے میں انتہائی ماہر اور بہترین  جوان اس دستے سے تربیت پا کر سامنے آئے، حتی کہ ان میں کچھ بہادر کمانڈرز بھی بنے۔

نجف گیریژن میں جاسوسی اور حملوں کی ذمہ داری سنبھالنے والے  313 حُرّ بریگیڈ کے کمانڈر نے کہا تھا: ’’ابراہیم نے اپنے خاص طریقے سے اس بریگیڈ کی بنیاد رکھی تھی اگرچہ اس کی مکمل تشکیل سے پہلے وہ شہادت سے ہمکنار ہو گیا تھا۔‘‘

شہید اندرزگو چھاپہ مار دستے نے اپنے انہی نامنظم فوجیوں کے ذریعے اپنی ایک سالہ کارکردگی کے دوران 52 چھوٹے بڑے حملے کیے۔ انہوں نے گیلان غرب کے علاقے میں عراقی فوج کے چوتھے ڈویژن کو ناکوں چنے چبوا دیے اور اسے بھاری نقصان پہنچایا۔

اس چھوٹے سے دستے میں ایسے عظیم انسانوں نے پرورش پائی کہ دفاع مقدس کے دوران ان کی بہادری اور دلیری کے ہم ہمیشہ مقروض رہیں گے۔

انہوں نے ابراہیم کے زرخیز وجود سے خوشہ چینی کی اور اس کی رفاقت پر ناز کرتے تھے:

ڈویژن ۲۷ حضرت رسولؐ کے بہادر چیف کمانڈر شہید رضا چراغی، اسی ڈویژن کے ڈپٹی چیف کمانڈر شہید رضا دستوارہ، اسی ڈویژن کے ایریا کمانڈر شہید حسن زمانی، میثم بٹالین کے کمانڈر اِن چیف شہید سید ابو الفضل کاظمی، حُنین بٹالین کے کمانڈر اِن چیف شہید رضا غودینی ، مسلم ابن عقیل بریگیڈ کے ڈپٹی بریگیڈیر شہید علی اوسط، مالک بٹالین کے کمانڈر اِن چیف شہید داریوش ریزہ وندی، مقداد بٹالین کے ڈپٹی کمانڈرز شہید ابراہیم حسامی اور شہید ہاشم کلہر، اسی ڈویژن کے لیے جاسوسی کے فرائض سر انجام دینے والے کمانڈر شہید جواد افراسیابی اور شہید علی خرم دل اور اسی طرح دفاع مقدس کے اور بھی بہت سارے عظیم کمانڈر حضرات جو اس وقت بھی اسلامی نظام کی قابل فخر شخصیات شمار ہوتی ہیں۔

اصغر وصالی کی شہادت
[علی مقدم]

1980؁ کے محرم میں ایک اہم واقعہ پیش آ گیا۔ اصغر وصالی اور علی قربانی اپنے جوانوں کو لے کر سرپل ذہاب سے گیلان غرب آ گئے۔ طے یہ پایا کہ دشمن کے ٹھکانوں کی صحیح معلومات لے کر شہر کے شمالی حصے سے اپنے حملوں کا آغاز کیا جائے۔

شہید اندرزگو چھاپہ مار دستہ ان دنوں نیا نیا تشکیل پایا تھا۔ دشمن کے کچھ ٹھکانوں کی معلومات اکٹھی کر لی گئی تھیں۔

شب عاشور کو سارے جوان کیمپ میں جمع ہو گئے اور ایک باشکوہ عزاداری کا انعقاد کیا گیا۔ ان مجالس میں ابراہیم کی نوحہ خوانی اور منقبت خوانی آج بھی بہت سے جوانوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ وہ عجیب و غریب جذبے سے پڑھا کرتا تھا۔ اصغر وصالی عزاداروں کی سالاری کے فرائض انجام دیتا تھا۔

عاشور کے دن اصغر اپنے کچھ جوانوں کو لے کر دشمن کے ٹھکانوں کی معلومات لینے کے لیے برآفتاب کے علاقے میں چلا گیا۔

ظہر کے نزدیک خبر پہنچی کہ ان کی عراقی فوجیوں کے ساتھ مڈبھیڑ ہو گئی ہے۔ ہمارے جوان دوڑ کر وہاں پہنچے اور دشمن بھی پیچھے ہٹ گیا مگر ۔۔۔ علی قربانی شہید ہو چکا تھا۔ شدید زخمی ہو جانے کی وجہ سے اصغر کے زندہ رہنے کی امید بھی دم توڑ گئی تھی۔

ہم اصغر وصالی کو جلدی سے اٹھا کر اپنے کیمپ میں واپس آ گئے۔ بالآخر وہ بھی شہداء کے ساتھ جا ملا۔

اصغر کی شہادت کے بعد میں نے ابراہیم کو دیکھا کہ وہ بلند آواز سے روتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’کوئی نہیں جانتا کہ ہم نے کتنا عظیم کمانڈر کھو دیا ہے۔ ہمارے انقلاب کو اصغر جیسوں کی شدید ضرورت ہے۔‘‘

اصغر کے بھائی کو شہید ہوئے ابھی چالیس دن نہیں ہوئے تھے کہ وہ بھی ظہر عاشور کے وقت درجہ شہادت پر فائز ہو گیا تھا۔

ابراہیم، اصغر کی تشییع جنازہ کے لیے تہران آیا اور اس کی پیکان کار جو گیلان غرب میں رہ گئی تھی، ساتھ لے آیا۔ اگرچہ گاڑی کی حالت یہ تھی کہ گولیوں اور چھروں کی وجہ سے اس کی باڈی پر کوئی جگہ سلامت نہیں رہی تھی۔

شہید وصالی کی تدفین کے بعد ہم جلد ہی محاذ پر واپس لوٹ گئے۔ ابراہیم کہتا تھا: ’’اصغر نے شہادت سے کچھ دن پہلے اپنے بھائی کو خواب میں دیکھا تھا۔ اس کے بھائی نے کہا تھا کہ اصغر، تم روز عاشورا کو گیلان غرب میں شہید ہو جاؤ گے۔‘‘

اگلے دن دستے کے جوانوں نے اصغر کے لیے مجلس ختم و ترحیم رکھی اور عزاداری کا انتظام کیا۔ اس کے بعد ان سب نے آپس میں پیمان باندھا کہ  خون کے آخری قطرے تک محاذ پر رہیں گے اور اصغر کے خون کا انتقام لیں گے۔

جواد افراسیابی اور بعض جوانوں نے کہا: ’’عزاداروں کی طرح ہم اپنی داڑھی اس وقت تک چھوٹی نہیں کریں گےجب تک کہ صدام کو اس کے اعمال کی سزا نہ دے دیں۔‘‘


[1] یہاں Wagoneer Jeep مراد ہے جسے ایران میں جیپ آہو (ہرن جیپ) کہا جاتا ہے۔

[2] میزان الحکمۃ، حدیث 3665

[3] الحکم الظاہرۃ:  ج2، ص280