آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

انقلاب کے ایام
[امیر ربیعی]

ابراہیم بچپن ہی سے امام خمینیؒ کے ساتھ خاص عقیدت و عشق رکھتا تھا۔جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا اس عشق میں اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ انقلاب سے پہلے کے چند سالوں میں یہ عشق اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔

1977؁ کا سال تھا۔ انقلاب کی اتھل پتھل اور دوسرے مسائل ابھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ ہم جمعے کی صبح کو ژالہ (شہداء) چوک میں ہونے والے ایک مذہبی پروگرام کے بعد اپنے گھر کو لوٹ رہے تھے۔ ابھی ہم چوک سے دور نہ گئے تھے کہ کچھ اور دوست بھی ہمارے ساتھ آن ملے۔ ابراہیم ہمیں امام خمینیؒ کے بارے میں بتانے لگا۔

اس کے بعد بلند آواز سے کہا: ’’امام خمینی ، زندہ باد۔‘‘

ہم نے بھی اس کے ساتھ نعرہ لگایا۔ کچھ اور لوگ بھی ہمارے ساتھ مل گئے۔ ہم نعرے لگاتے لگاتے شمس چوک تک چلے گئے۔ کچھ دیر بعد پولیس کی کچھ گاڑیاں ہماری طرف آ گئیں۔ ابراہیم نے جلدی سے سب لڑکوں کو متفرق کر دیا۔ ہم لوگ گلیوں میں پھیل گئے۔

دو ہفتے گزر گئے۔ ہم اسی جمعہ کے صبح والے پروگرام سے واپس آ رہے تھے۔ ابراہیم چوک کے کونے میں ایک سینما کے سامنے کھڑا ہو گیا اور زور سے نعرہ لگایا: ’’خمینی، زندہ باد۔‘‘ ہم نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ پروگرام سے جو لوگ نکل رہے تھے وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے اور نعرے لگانے لگے۔  بہت خوبصورت ماحول بن گیا تھا۔

کچھ دیر بعد اس سے پہلے کہ پولیس پہنچ جائے، ابراہیم نے سب کو اِدھر اُدھر کر دیا۔ اس کے بعد ہم اکٹھے ٹیکسی پر بیٹھے اور خراسان چوک کی طرف چل دیے۔

دو چوک عبور کیے تو میں نے دیکھا کہ  پولیس نے گاڑیوں کو روک رکھا ہے اور ایک ایک بندے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ ساواک کی کچھ گاڑیاں اور تقریباً دس سپاہی سڑک کے کناروں پر کھڑے تھے۔ جو سپاہی گاڑیوں کے اندر جھانک جھانک کر دیکھ رہا تھا وہ ہمارا جاننے والا تھا۔ چوک میں وہ بھی نعرے لگانے والے لوگوں کے ساتھ ہی تھا۔ میں نے ابراہیم کو اشارہ کیا۔ وہ بھی متوجہ ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہماری ٹیکسی تک پہنچیں ابراہیم نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور جلدی سے فٹ پاتھ کی طرف دوڑنے لگا۔ سڑک کے درمیان میں جو سپاہی کھڑا تھا اس نے اچانک سر اٹھا کر ابراہیم کو دیکھا تو چلانے لگا: ’’یہی ہے، یہی ہے، پکڑو اسے۔۔۔‘‘

سپاہی ابراہیم کے پیچھے دوڑنے لگے۔ وہ ایک گلی میں گھس گیا۔ وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے تھے۔ جب سپاہیوں کی توجہ ادھر ادھر ہو گئی تو میں بھی ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر اتر گیا اور سڑک کی دوسری طرف چلنے لگا۔

ظہر کے وقت میں گھر پہنچا۔ ابراہیم کی کوئی خبر نہ تھی۔ رات تک اس کے بارے میں کچھ پتا نہ چلا۔ کچھ دوستوں کو کال کر کے پوچھا بھی مگر وہ بھی بے خبر تھے۔

میں بہت پریشان ہو گیا۔ رات کے گیارہ بجے تھے۔ میں اپنے صحن میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک گلی سے آواز سنائی دی۔

میں دروازے کی طرف بھاگ کر گیا۔ دیکھا تو ابراہیم اپنے اسی مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ دروازے پر کھڑا ہے۔ میں نے دوڑ کر اسے گلے لگا لیا۔ میں بہت خوش تھا اور اپنی خوشی بیان نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے کہا: ’’کیسے ہو، ابراہیم بھائی؟!‘‘

لمبی آہ بھر کر کہنے لگا: ’’خدا کا شکر ہے۔ دیکھ تو رہے ہو، صحیح و سالم تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’کھانا کھایا؟‘‘

کہنے لگا: ’’نہیں، مگر ضروری نہیں ہے۔‘‘

میں جلدی سے گھر کے اندر گیا اور دستر خوان، روٹی اور کچھ کھانا اس کے لیے لے آیا اور کھانے لے کر ہم غیاثی (شہید سعیدی) چوک چلے گئے۔ کچھ لقمے لینے کے بعد وہ کہنے لگا: ’’مضبوط جسم ایسی ہی جگہوں پر کام آتا ہے۔ خدا نے میری مدد کی۔ وہ کافی لوگ تھے مگر پھر بھی  میں ان کے ہاتھوں سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘

اس رات ہم نے انقلاب اور امام خمینی وغیرہ کے بارے میں بہت سی باتیں کی۔اس کے بعد طے پایا کہ ہر روز رات کے وقت مسجد لُرزادہ میں آغا چاووشی کی خدمت میں جایا کریں ۔

رات کو میں، ابراہیم اور تین دوسرے دوست مسجد لُرزادہ میں گئے۔آغا چاووشی[1] کافی نڈر بندے تھے۔ منبر پر  ایسی باتیں کہہ جاتے تھے جنہیں اکثر لوگ کہنے کی جرأت بھی نہ رکھتے تھے۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ایک حدیث مبارکہ جس میں انہوں نے فرمایا ہے:  ’’قم سے ایک مرد اٹھے گا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا۔ اس کے گرد ایک ایسا گروہ جمع ہو جائے گا جو لوہے کی ٹکڑوں کی طرح مضبوط ہو گا۔‘‘  یہ حدیث لوگوں کےلیے بہت عجیب تھی۔ آغا چاووشی اسی طرح کی انقلابی باتیں کیا کرتے تھے۔

اچانک مسجد کے دروازے کی طرف سے شوروغل سنائی دیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا کہ ساواک کے کچھ سپاہی تھے جو لاٹھیاں اور ہاکیاں اٹھائے مسجد میں داخل ہوئے اور آتے ہی نمازوں کو مارنا شروع کر دیا۔ لوگ مسجد سے نکلنے کےلیے بھاگنے لگے۔ جو بھی دروازے سے گزرتا، سپاہی زور سے اسے مارتے تھے۔ عورتوں اور بچوں پربھی وہ رحم نہیں کر رہے تھے۔ ابراہیم کو بہت غصہ آ گیا تھا۔ وہ دروازے کی طرف بڑھا اور کچھ سپاہیوں کے ساتھ دست و گریبان ہو گیا۔ وہ بزدل مل کر ابراہیم کو مار رہے تھے۔ اس طریقے سے راستہ کھل گیا اور عورتیں اور بچے مسجد سے باہرنکل گئے۔

ابراہیم پوری بہادری کے ساتھ ان سے لڑ پڑا تھا۔ اس نے اچانک ہی کچھ سپاہیوں کو مار پلائی اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے مسجد سے دور ہوتے گئے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ آغا چاووشی کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔ کچھ لوگ شہید ہو گئے ہیں اور کچھ زخمی۔

اس رات ابراہیم کی کمر پر جو چوٹیں لگی تھیں، ان سے کمر میں ایسا درد ہوا کہ زندگی کے آخری لمحات تک اس درد نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ یہاں تک کہ کشتی کے وقت بھی وہ درد اسے کافی تنگ کرتا تھا۔

جیسے ہی 1978؁کے ہنگامے شروع ہوئے تو ابراہیم کا سارا ہم و غم انقلاب اور امام خمینی تھے۔ امام کی تقاریر کی کیسٹز اور مختلف قسم کے اعلامیے تقسیم کرنے کا کام وہ نہایت ہی دلیرانہ طریقے سے انجام دیتا تھا۔

ستمبر کے دن تھے۔ وہ بہت سے جوانوں کو قیطریہ کے ٹیلوں کی طرف لے گیا  اور شہید مفتح کی نماز عید فطر میں شرکت کی۔ نماز کےبعد اعلان ہوا کہ جمعے کو ژالہ چوک کی طرف ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گا۔

8 ستمبر
[امیر منجر]

8 ستمبر کی صبح تھی۔ میں ابراہیم کے پاس گیا اور پھر ہم موٹر سائیکل پر بیٹھ کر میدان ژالہ (شہداء) کے پاس ہونے والے اسی مذہبی پروگرام میں چلے گئے۔

پروگرام ختم ہوا تو باہر سے بہت زیادہ شورشرابے کی آواز آنے لگی۔آدھی رات کو مارشل لاء کا اعلان ہو گیا تھا۔ زیادہ تر لوگ اس بات سے بے خبر تھے۔چوک کے اردگرد بہت سے فوجی اور سپاہی تعینات ہو گئے تھے۔

لوگوں کا ایک ہجوم چوک کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سپاہی لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو منتشر ہونے کی ہدایت کر رہے تھے۔ ابراہیم جلدی سے پروگرام سے نکلا اور فوراً پلٹ کر مجھے کہنے لگا: ’’امیر، آؤ دیکھیں، کیا صورتحال ہے؟‘‘

میں اس کے ساتھ باہر آ گیا۔ جہاں تک نظر جاتی تھی چوک پر لوگ ہی لوگ نظر آ رہے تھے۔ وہ ’’خمینی زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے لگاتے ’’شاہ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگانا شروع ہو گئے تھے۔ ’’شاہ مردہ باد‘‘ کی آواز گونج رہی تھی۔ چوک کی طرف لوگوں کا اژدہام ہو گیا تھا۔ بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ساواکیوں[2] نے چوک کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔

تھوڑی دیر گزری تو ایسی صورتحال پیش آ گئی جس کا کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہر طرف سے گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی حتی کہ چوک سے دور آسمان پر اڑتے ہوئے ہیلی کاپٹر سے بھی گولیاں چل رہی تھیں۔

میں جلدی سے موٹر سائیکل لے آیا تھااور ایک گلی سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا۔ وہاں کوئی سپاہی نہیں کھڑا تھا۔ ابراہیم جلدی سے ایک زخمی کو لے آیا تھا۔ ہم جلدی سے 3 شعبان ہسپتال پہنچے اور فوراً واپس ہو لیے۔

ظہر کے نزدیک تک ہم تقریباً آٹھ بار ہسپتال آئے گئے۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتے اور پھر پلٹ جاتے۔ ابراہیم کا سارا جسم خون میں لت پت ہو چکا تھا۔

ایک زخمی پٹرول پمپ کے پاس گرا ہوا تھا۔ سپاہی دور سے دیکھ رہے تھے۔ کوئی اسے اٹھانے کی جرأت نہیں کر پا رہا تھا۔

ابراہیم اس زخمی کی طرف جانا چاہتا تھامگر میں نے اسے روک کر کہا: ’’انہوں نے زخمی کو چارے کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ اگر تم نے حرکت کی تو وہ تمہیں گولی مار دیں گے۔‘‘

ابراہیم نے پلٹ کر سوال کر دیا: ’’اگر تمہارا اپنا بھائی ہوتا تو تب بھی تم یہی کہتے؟!‘‘

میں لاجواب ہو کر رہ گیا، اسے فقط اتنا کہہ سکا: ’’دھیان رکھنا۔‘‘

گولیوں کی آواز کم ہو چکی تھی۔ سپاہی تھوڑا پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ابراہیم جلدی سے سینے کے بل چلتے ہوئے سڑک پر چلا گیا اور زخمی کے پاس جا کر لیٹ گیا۔ اس کے بعد زخمی کے ہاتھ کو پکڑا اور اسے اپنی کمر پر رکھ دیا۔ اس کے بعد اسی طرح سینے کے بل چلتا ہوا واپس آ گیا۔ اس موقع پر ابراہیم نے غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس کے بعد ابراہیم نے اسے اور ایک اور زخمی کو میری موٹرسائیکل پر بٹھایا اور میں چل پڑا۔ واپسی پر سپاہیوں نے گلی پر ناکہ لگا دیا تھا۔ مارشل لاء شدت اختیار کر گیا تھا۔ ابراہیم بھی گم ہو گیا تھا لیکن میں جیسے تیسے اپنے گھر کو واپس آ گیا۔

سہ پہر کو میں ابراہیم کے گھر چلا گیا۔ اس کی ماں کافی پریشان تھیں۔ کسی کو اس کے بارے میں کچھ پتا نہ تھا۔ ہم کافی بے چین تھے۔ رات گئے کسی نے بتایا کہ ابراہیم واپس آ گیا ہے۔ میں بہت خوش ہوا۔ وہ اتنے مضبوط جسم کی وجہ سے سپاہیوں کے ہاتھوں سے نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہو سکتا تھا۔ اگلے دن ہم بہشت زہرا[3] چلے گئے اور شہداء کی تدفین میں ہاتھ بٹایا۔

8 ستمبر کے بعد ہر رات ہم میں سے ایک کے گھر ایک میٹنگ رکھی جاتی تاکہ آئندہ کے پروگراموں کو منظم کیا جا سکے۔

ایک عرصہ تک ابراہیم کے گھر کی چھت پر ہماری یہ میٹنگ ہوتی رہی اور پھر اس کے بعد کچھ دنوں تک مہدی کے گھر پر۔

ان ملاقاتوں میں ہر قسم کے مسائل خصوصاً اعتقادی اور حالیہ سیاسی مسائل زیرِ بحث رہتے۔ امام خمینیؒ کے ایران واپس پلٹ آنے کی خبر آنے تک ان ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔

امامؒ کی واپسی
[حسین اللہ کرم]

جنوری کے آخری ایام تھے۔ ایک متفقہ فیصلے کے تحت امام خمینیؒ کی حفاظت کی لیے تشکیل جانے والی ٹیموں میں سے ایک کی ذمہ داری ہمارے سپرد کی گئی۔ ہماری ٹیم یکم فروری کو مسلح ہو کر آزادی روڈ (جو ائیرپورٹ تک جا کر ختم ہوتا ہے) کے آخر پر جا کر تعینات ہو گئی۔

امام خمینیؒ کی گاڑی آنے کا منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ابراہیم امام خمینیؒ کی شمع وجود کے گرد پروانہ وار گھوم رہا تھا۔ جسے ہی امام کی گاڑی رخصت ہوئی تو ہم سب ابراہیم کے ساتھ مل کر بہشت زہراؑ چلے گئے۔

بہشت زہرا کا بڑا دروازہ جو قم سے آنے والی سڑک کی طرف ہے، اس کی حفاظت ہمارےذمے تھی۔ ابراہیم دروازے پر کھڑا تھا مگر اس کے دل و جان بہشت زہراؑ کے اندر اس جگہ کا طواف کر رہے تھے جہاں امام خمینیؒ خطاب فرما رہے تھے۔

ابراہیم کہہ رہا تھا: ’’اس انقلاب کے قائد آ گئے ہیں۔ہم ان کے فرمانبردار ہیں۔ آج کے بعد سے جو کچھ امام کہیں گے اسی پر عمل ہو گا۔‘‘

اس دن کے بعد ابراہیم کو نہ کھانے پینے کی ہوش تھی نہ ہی سونے کی۔ عشرہ فجر[4]کے ایام میں کچھ دن تک تو ابراہیم کا کسی کو کچھ اتا پتا نہ تھا۔ 9 فروری کو کہیں جا کر اس کی شکل مجھے دکھائی دی۔ میں نے دیکھتے ہی پوچھا: ’’کہاں تھے ابرام جان؟ تمہاری والدہ سخت پریشان ہیں۔‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہ کر بولا: ’’ان دنوں، میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر گمنام شہداء کے کوائف جمع کر رہا تھا، کیونکہ کوئی ایسا تھا ہی نہیں جو میڈیکل ایگزامنرکے پاس جا کر ان کے معاملات کی چھان بین کرتا۔‘‘

*****

11 فروری کی رات تھی۔ابراہیم نے کچھ انقلابی جوانوں کے ساتھ مل کر اس علاقے کے تھانے پر قبضہ کر لیا۔ اس رات تھانہ 14 پر قبضہ کرنے کے بعد وہ رات بھر علاقے میں گشت کرتے رہے۔

اگلے روز ریڈیو پر انقلاب کی کامیابی کی خبر نشر ہوئی۔

ابراہیم کچھ دن تک امیر کے ہمراہ فلاحی سکول میں بھی جاتا رہا۔ کچھ مدت تک امام خمینیؒ کا باڈی گارڈ بھی رہا۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک اس نے قصر جیل کی محافظت کی ذمہ داری نبھائی۔اس دوران وہ انقلابی کمیٹی کے جوانوں کی ذمہ داریوں میں ان کے ساتھ تعاون بھی کرتا تھا مگر رسمی طور پر انقلابی کمیٹی میں شامل نہیں ہوا۔

روحانی طبیعت
[جبار ستودہ، حسین اللہ کرم]

کئی عظیم شخصیات کی زندگی میں گناہانِ کبیرہ سے اجتناب کے نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عمل روحانی سفر میں ان کی تیز ترقی کا باعث بنتا ہے۔نفس پر قابو پانے کا یہ عمل زیادہ تر شہوانی اور جنسی امور میں ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بھی خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے: ’’اگر کوئی تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘[5] یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ یہ قانون صرف حضر ت یوسف علیہ السلام ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ عمومی ہے۔

انقلاب کی کامیابی کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔ابراہیم کا چہرہ اور قد و قامت پہلے سے زیادہ جاذبِ نظر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ ہر روز خوبصورت کوٹ پینٹ میں کام پر آتا تھا۔ وہ تہران کے شمال میں ایک جگہ کام کرتا تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ وہ کافی بے چین لگ رہا ہے۔ اپنے آپ میں کھویا کھویا بہت ہی کم باتیں کر رہا تھا۔ میں نے اس کے پاس جا کر پوچھا: ’’ابراہیم بھائی، کیا ہوا؟‘‘ اس نے کہا: ’’کچھ نہیں، کچھ خاص نہیں۔‘‘ لیکن یہ بات یقینی تھی کہ اسے کوئی نہ کوئی پریشانی ضرور ہے۔  میں نے کہا: ’’اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتا دو، شاید میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں۔‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے کہنے لگا: ’’اس محلے کی ایک بے پردہ لڑکی کچھ دنوں سے میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ جب تک تمہیں حاصل نہ کر لوں، تمہاری جان نہیں چھوڑوں گی۔‘‘

میں سوچ میں پڑ گیا، پھر اچانک میری ہنسی نکل گئی۔ ابراہیم نے حیرانی سے سر اٹھا کر پوچھا: ’’یہ ہنسنے کی بات ہے؟‘‘  میں نے کہا: ’’ابراہیم بھائی، میں تو ڈر گیا تھا کہ نہیں معلوم کیا ہو گیا ہے جو تم اتنے پریشان ہو؟‘‘

اس کے بعد میں نے ابراہیم کے قد و قامت پر نظر ڈالتے ہوئے کہا: ’’جیسا تمہارا حلیہ  ہے، اس پر اگر اس طرح کا کوئی واقعہ ہو جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔‘‘

اس نے کہا: ’’کیا مطلب؟ یعنی میرے اس حلیے کی وجہ سے اس لڑکی نے یہ بات کی ہے؟‘‘

میں نے ہنس کر کہا: ’’ہاں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘

اگلے روز جیسے ہی ابراہیم کو میں نے دیکھا تو میری ہنسی چھوٹ گئی۔  بال صفاچٹ، کوٹ پینٹ کے بغیر ہی کام پر آ گیا تھا۔ اس سے اگلے دن ایک لمبی سی قمیص، کُردی شلوار، پاؤں میں ہوائی چپل پہنے اور بکھرا بکھرا چہرہ لیے آن دھمکا۔ کچھ دن تک وہ اسی حلیے میں آتا رہا۔ بالآخر اس شیطانی وسوسے سے اس کی جان چھوٹ گئی۔

*****

مختلف مسائل کو گہرائی سے دیکھنا اور دِقّت کے ساتھ عمل کا مظاہرہ کرنا ابراہیم کی خصوصیات میں سےایک اہم خصوصیت تھی۔ یہ خصوصیت اسے اس کے دوسرے دوستو ں سے ممتاز کرتی تھی۔

مارچ 1979؁ کے ایام تھے۔ ہم انقلاب کمیٹی کے کچھ جوان ابراہیم کے ساتھ ایک جگہ چھاپہ مارنے گئے۔ اطلاع ملی تھی کہ ایک شخص جو انقلاب سے پہلے شاہ کی طرف سے فوجی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور انقلاب کمیٹی جسے تلاش کر رہی تھی، اسے ایک اپارٹمنٹ میں دیکھا گیا ہے۔ اس جگہ کا پتا ہمارے پاس تھا۔ ہم دو گاڑیاں لیے اسی اپارٹمنٹ میں پہنچ گئے۔

جیسے ہی مطلوبہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے  تو بغیر کسی ہاتھا پائی کے وہ شخص گرفتار کر لیا گیا۔ ہم اسے اپارٹمنٹ سے باہر لانا چاہتے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے باہر لوگوں کی بھِیڑ لگ گئی۔ ان میں سے اکثر اسی اپارٹمنٹ کے رہنے والے تھے۔ اچانک ابراہیم اپارٹمنٹ میں واپس آ گیا اور کہنے لگا: ’’ٹھہرو۔‘‘ ہم نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے کچھ نہ کہا۔ فقط اپنی کمر سے باندھا ہوا اپنا رومال کھولا  اور اس شخص کا چہرہ ڈھانپنے لگا۔  میں نے پوچھا: ’’ابرام، یہ کیا کر رہے ہو؟‘‘ اس نے اس کاچہرہ ڈھانپتے ہوئے کہا: ’’ہم نے ایک فون کال اور اطلاع پر اس شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اگر اس کے بارے میں دی گئی اطلاع درست نہ ہوئی تو اس بے چارے کی عزت خاک میں مل جائے گی اور اس کے لیے یہاں زندگی گزارنا اجیرن ہو جائے گا۔ سارے لوگ اسے ایک ملزم کی حیثیت سے دیکھیں گے۔ اب اس حالت میں اسے کوئی نہیں پہچانے گا۔ اگر کل کو یہ آزاد ہو جاتا ہے تو اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔‘‘

جب ہم اس اپارٹمنٹ سے نکلے تو کسی نے بھی اس مشتبہ شخص کو نہیں پہچانا۔ میں ابراہیم کی باریک بینی اور ہوشیاری سے متعلق سوچنے لگا۔ اس کی نظر میں انسانوں کی عزت و آبرو کی کتنی اہمیت تھی۔

بات کی تأثیر
[مہدی فریدوند]

انقلاب کی کامیابی کو کئی ماہ گزر چکے تھے۔ ہمارے ایک دوست نے ایک دن مجھ سے کہا: ’’کل تم ابراہیم کے ساتھ محکمہ ورزش و کھیل کے دفتر چلے جاؤ۔ آغا داودی (محکمے کے انچارج) کو تم سے کچھ کام ہے۔‘‘

اگلے دن ہم نے پتا لیا اور محکمے میں چلے گئے۔ آغا داودی جو ہائی سکول میں ابراہیم کے استاد رہ چکے تھے، انہوں نے بہت گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔

اس کے بعد ہم کچھ اور لوگوں کے ساتھ ہال میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے ہم سے کچھ باتیں کیں اور پھر بتایا: ’’آپ لوگ جو کھلاڑی اور انقلابی جوان ہیں، آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس محکمے میں تشریف لائیں اور ذمہ داریاں سنبھالیں۔‘‘

انہوں  نے ابراہیم  اور مجھ سے کہا: ’’محکمے کے شعبۂ تفتیش کا عہدہ ہم نے تمہارے لیے رکھ چھوڑا ہے۔‘‘

ہم نے بھی تھوڑی سی بات چیت کے بعد اس ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ اگلے دن ہمارا کام شروع ہو گیا۔ جہاں بھی کوئی مشکل پیش آتی تو آغا داودی سے رہنمائی لے لیتے۔

میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ایک روز صبح کے وقت ابراہیم شعبۂ تفتیش کے دفتر میں داخل ہوا تو پوچھنے لگا: ’’کیا کر رہے ہو؟‘‘

میں نے کہا: ’’کچھ نہیں،  ایک سسپنڈنگ آرڈر لکھ رہا ہوں۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’کس کے لیے؟‘‘

میں نے جواب دیا: ’’ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ ایک فیڈریشن کا انچارج  نامناسب حلیے کے ساتھ دفتر میں آتا ہے۔ ملازمین خصوصاً خواتین کے ساتھ اس کا رویہ انتہائی نامناسب ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اس کے بعض کام انقلاب مخالف ہیں۔ اس کی بیوی بھی حجاب نہیں اوڑھتی۔‘‘

میں نے رپورٹ لکھتے لکھتےکہا: ’’ایک نوٹ میں انقلاب کونسل کو بھی بھیجوں گا۔‘‘

ابراہیم نے پوچھا: ’’کیا میں رپورٹ دیکھ سکتا ہوں؟‘‘

میں نے کہا: ’’لو، یہ رہی رپورٹ اور یہ رہا سسپنڈنگ آرڈر۔‘‘

اس نے رپورٹ کو غور سے پڑھا پھر پوچھا: ’’تم نے خود اس شخص سے بات کی ہے؟‘‘

میں نے کہا: ’’نہیں، میں ضروری نہیں سمجھتا۔ سبھی جانتے ہیں کہ وہ کس قماش کا انسان ہے۔‘‘

اس نے جواب دیا: ’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ ایک جھوٹا انسان ہی ایسا ہوتا ہے جو ہر سنی سنائی بات کی تائید کر دیتا ہے۔‘‘

میں نے کہا: ’’آخر اسی فیڈریشن کے اپنے جوانوں نے اطلاع دی تھی۔۔۔‘‘

میری بات کاٹ کر کہنے لگا: ’’اس کے گھر کا پتا ہے تمہارے پاس؟‘‘

میں نے کہا: ’’ہاں، ہے۔‘‘

ابراہیم نے کہا: ’’آج سہ پہر کو مل کر اس کے گھر چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون ہے اور کیا کہتا ہے؟‘‘

میں نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: ’’ٹھیک ہے۔‘‘

سہ پہر کو اپنا کام نمٹا کر  میں نے اس کا پتا اٹھایا اور ہم دونوں موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چل پڑے۔

پتا، سید خندان پُل سے آگے کا تھا۔ ہم گلیوں میں اس کا گھر ڈھونڈنے لگے۔ اتفاق سے اسی وقت وہ شخص بھی پہنچ گیا۔  رپورٹ پر لگی اس کی تصویر کے ذریعے ہم نے اسے پہچان لیا تھا۔

ایک بنز گاڑی ایک گھر کےسامنے رکی۔ ایک خاتون جو تقریباً بے پردہ تھی، گاڑی سے اتری اور گھر کا دروازہ کھولاتو  وہ شخص گاڑی کو اندر لے گیا۔

میں نے کہا: ’’دیکھا ابرام، دیکھا تم نے کہ اس شخص کا کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے۔‘‘

کہنے لگا: ’’پہلے ہمیں اس سے بات تو کر لینی چاہیے۔ اس کے بعد تمہیں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔‘‘

میں موٹر سائیکل کو گھر کے سامنے لے گیا اور اسے سٹینڈ پر کھڑا کر دیا۔ ابراہیم نے گھنٹی بجائی۔ وہ شخص جو ابھی تک گھر کی صحن ہی میں تھا، دروازے پر آیا۔

وہ کافی موٹی جسامت کا مالک تھا۔ اس نے کلین شیو کرا کر رکھی تھی۔ ہم دونوں کو اس محلے میں دیکھ کر کافی حیران ہوا۔ ہم پر ایک نظر ڈالی اور کہنے لگا: ’’فرمائیے!‘‘

میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’اگر میں ابراہیم کی جگہ ہوتا تو اس کی خوب خبر لیتا۔‘‘

لیکن ابراہیم نے اپنے نرم لہجے میں مسکراتے ہوئے اسے سلام کیا اور کہا: ’’میں ابراہیم ہادی ہوں۔ آپ سے کچھ پوچھنا تھا، اسی لیے آپ کو زحمت دے رہا ہوں۔‘‘

اس نے کہا: ’’آپ کا نام کافی سنا سنا لگتا ہے۔ یہی کچھ دن ہوئے آپ کے بارے میں سنا، شاید محکمے میں ۔  ہاں، محکمے کا شعبۂ تفتیش، ایسا ہی ہے نا؟‘‘

ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’جی!‘‘

وہ کافی حواس باختہ ہو گیا اور ہمیں اندر لے جانے کے لیے اصرار کرنے لگا۔ ابراہیم نے کہا: ’’بہت شکریہ۔ بس آپ سے تھوڑی دیر کام ہے۔ اس کے بعد اجازت چاہیں گے۔‘‘

ابراہیم اس کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔ تقریباً ایک گھنٹہ ہو گیا مگر ہمیں یہ وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ ابراہیم نے اسے ہر چیز کے بارے میں بتایا۔ ہر مورد کے لیے اس کے سامنے ایک مثال رکھی۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’دیکھو، میرے عزیز دوست۔ تمہاری بیوی فقط تمہارے لیے ہے، دوسروں کے  سامنے نمائش کے لیے نہیں ہے۔ تم جانتے ہو، تمہاری بے پردہ بیوی کو دیکھ کر کتنے ہی جوان گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ جب تم ایک ادارے کے انچارج ہو تو تمہیں نامناسب باتیں اور فضول مذاق نہیں کرنا چاہیے اور وہ بھی اپنے ماتحت کام کرنے والی خواتین کے ساتھ۔ تم اس سے پہلے اپنے شعبے میں چیمپئن تھے۔ لیکن  حقیقی چیمپئن وہ ہوتا ہے جو غلط کاموں کا راستہ روکے۔‘‘

اس کے بعد ابراہیم نے انقلاب، خون شہداء، امام خمینیؒ اور ملک دشمنوں کے بارے میں بہت سی باتیں کیں۔ وہ شخص بھی ابراہیم کی تائید کرتا گیا۔

آخر میں ابراہیم نے کہا: ’’دیکھو،  میرے عزیز! یہ تمہارا سسپنڈنگ آرڈر ہے۔‘‘

ایک دفعہ تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نےتھوک نگلا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہماری طرف دیکھنے لگا۔

ابراہیم نے مسکراتے ہوئے وہ آرڈر اس کے سامنے پھاڑ دیا اور کہا: ’’میرے دوست، میری باتوں پر غور کرنا۔‘‘

اس کے بعد ہم نے خداحافظ کہا اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اپنے راستے پر ہو لیے۔

سڑک کی نکڑ پر پہنچ کر میں نے پیچھے کی طرف دیکھا تو وہ شخص ابھی تک  گھر میں داخل نہیں ہوا تھا بلکہ وہیں کھڑا ہمیں دیکھے جا رہا تھا۔

میں نے کہا: ’’ابرام بھائی، بہت اچھی باتیں کیں تم نے۔ ان باتوں کا تو مجھ پر بھی اثر ہونے لگا۔‘‘

اس نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’یار، ہم کس قابل ہیں۔ فقط خدا ہی ہے جس نے میری زبان سے ان باتوں کو کہلوا دیا۔ انشاء اللہ ان باتوں کا اس پر اثر ہو گا۔‘‘

پھر کہنے لگا: ’’خاطر جمع رکھو۔ اچھے رویے سے بڑھ کر کوئی چیز بھی انسان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ خدا قرآن مجید میں اپنے پیغمبرﷺ سے ارشاد فرماتا ہے: ’’ اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے۔‘‘[6] پس ہمیں کم از کم اپنے پیغمبرﷺ کا یہ کردار سیکھنا چاہیے نا۔‘‘

*****

ایک دو ماہ گزرے تو اسی فیڈریشن کی نئی رپورٹ ہمارے پاس پہنچی کہ مذکورہ انچارج کافی بدل چکا ہے اور ادارے میں دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ اور اخلاق کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے حتی کہ اس کی بیوی بھی اب باحجاب ہو کر اپنے کام پر جاتی ہے۔

میں نے ابراہیم کو دیکھا اور رپورٹ اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ میں اس کے ردِّ عمل کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے رپورٹ پڑھنے کے بعد کہا: ’’خدا کا شکر ہے۔‘‘ اس کے بعد اس نے بات کا رُخ پھیر دیا۔

لیکن مجھے کوئی شک نہیں تھا کہ ابراہیم کے اخلاص نے اپنا کام کر دکھایا تھا۔ اس کی خلوص بھری گفتگو نے فیڈریشن کے اس انچارج کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔

لوگوں کی امداد
[شہیدؒ کے کچھ دوست]

’’انسان میرا خاندان ہیں۔ پس میرے نزدیک سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو انسانوں کے لیے زیادہ مہربان ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ‘‘[7]

کافی عجیب بات تھی۔ شہید سعیدی روڈ کے شروع میں لوگوں کی کافی زیادہ بھِیڑ لگی ہوئی تھی۔ میں اور ابراہیم آگے بڑھے۔ میں نے پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘

بتایا گیا: ’’یہ لڑکا ذہنی مریض ہے۔ ہر روز یہاں آ جاتا ہے اور نہر سے گندے پانی کی بالٹی بھر کر خوش پوش اور خوبصورت لوگوں پر پھینک دیتا ہے۔‘‘

لوگ آہستہ آہستہ وہاں سےہٹ رہے تھے۔ ایک مرد جس نے کافی صاف ستھرا اور سلجھا ہوا کوٹ پینٹ پہن رکھا تھا، اسے اس لڑکے نے گیلا کر دیا تھا۔ اس مرد نے کہا: ’’نہیں معلوم اس ذہنی مریض کا کیا علاج کروں۔‘‘ وہ مرد بھی چلا گیا۔ اب میں، ابراہیم اور وہ لڑکا رہ گئے تھے۔

ابراہیم نے اس لڑکے سے پوچھا: ’’تم کیوں لوگوں کو گیلا کرتے ہو؟‘‘

وہ ہنس کر کہنے لگا: ’’مجھے اچھا لگتا ہے۔‘‘

ابراہیم نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا: ’’کوئی تمہیں پانی پھینکنے کو کہتا ہے؟‘‘

لڑکے نے کہا: ’’وہ مجھے پانچ ریال دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس پر پانی پھینکوں۔‘‘ اس کے بعد اس نے سڑک کی ایک طرف اشارہ کیا۔

وہاں تین آوارہ اور لوفر قسم کے جوان کھڑے ہنس رہے تھے۔ ابراہیم ان کی طرف جانا چاہ رہا تھا مگر رک گیا۔ کچھ سوچ کر اس لڑکے سے کہا: ’’بیٹا، تمہارا گھر کہاں ہے؟‘‘

لڑکے نے اپنے گھر کا راستہ بتایا۔

ابراہیم نے اسے کہا: ’’اگر تم لوگوں کو تنگ نہ کرو تو میں تمہیں روز دس ریال دیا کروں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘

لڑکا مان گیا۔ جب ہم ان کے گھر کے سامنے پہنچے تو ابراہیم نے اس کی ماں سے اس بابت بات کی۔ اس طریقے سے لوگوں کے سروں سے وہ بلا ٹل گئی۔

*****

ہم محکمہ کھیل کے جانچ پڑتال کے شعبے میں کام میں مصروف تھے۔ تنخواہ لینے اور دفتری وقت ختم ہونے کے بعد ابراہیم نے پوچھا: ’’موٹر سائیکل لائے ہو؟‘‘

میں نے کہا: ’’ہاں، کیوں؟‘‘

کہنے لگا: ’’اگر تمہیں کوئی کام نہیں ہے تو میرے ساتھ آؤ۔ دکان تک جانا ہے۔‘‘

اس نے اپنی تقریباً ساری تنخواہ سے خریداری کر لی۔ چاول، گوشت سے لے کر صابن تک ہر چیز خرید لی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اسے خریداری کے لیے کوئی لسٹ دی گئی تھی۔ اس کے بعد ہم اکٹھے مجیدیہ کی طرف چلے گئے۔ ایک گلی میں داخل ہوئے تو ابراہیم نے ایک گھر کے دروازے پر دستک دی۔

ایک معمر خاتون جس نے صحیح طریقے سے حجاب بھی نہ اوڑھ رکھا تھا، دروازے پر آئی۔ ابراہیم نے سامان اس کے حوالے کر دیا۔ اس خاتون نے گلے میں صلیب پہن رکھی تھی۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ واپسی پر میں نے پوچھا: ’’ابرام بھائی، یہ خاتون ارمنی تھی؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں، کیوں؟‘‘ میں  نے موٹر سائیکل سڑک کنارے روک دی اور غصے سے کہا: ’’یار، یہ سارے غریب مسلمان ہیں، اور تمہیں مسیحیوں کی پڑی ہوئی ہے!‘‘ اس نے اسی طرح میرے پیچھے بیٹھے بیٹھے کہا: ’’مسلمانوں کی مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ابھی نئی نئی امداد کمیٹی بنی ہے، وہ ان کی مدد کرتی ہے، لیکن ان بے چاروں کا کوئی نہیں  ہے۔ اس طرح ان کی مشکلات بھی کم ہو جائیں گی اور ان کے دل میں امام اور انقلاب سے محبت بھی پیدا ہو جائے گی۔‘‘

*****

ابراہیم کی شہادت کو 26 سال گزر چکے ہیں۔ کتاب کے مطالب جمع بھی ہو گئے اور طباعت کے لیے آمادہ بھی ہو گئے۔ ایک دن مسجد کے ایک نمازی نے مجھے بلا کر کہا: ’’آغا ابراہیم کی رسومات کے لیے کوئی بھی کام ہو تو ہم حاضرِ خدمت ہیں۔‘‘

میں نے تعجب سےپوچھا: ’’آپ شہید ہادی کو پہچانتے ہیں؟ ان سے کبھی ملے ہیں؟‘‘

اس نے کہا: ’’نہیں،پچھلے سال جب ان کی یاد میں تقریبات منعقد ہو رہی تھیں، اس وقت تک میں شہید ابراہیم ہادی کے بارے میں نہیں جانتا تھا، مگر شہید ابراہیم ہادی کا میری گردن پر بہت بڑا حق ہے۔‘‘

مجھے جانے کی جلدی تھی مگر پھر بھی اس شخص کے نزدیک ہو کر بیٹھ گیا اور تعجب سے پوچھا: ’’کون سا حق؟‘‘

وہ بتانے لگا: ’’پچھلے سال ان کی یاد میں منعقد کی جانے والی ایک یادگاری تقریب میں آپ لوگوں نے آغا ابراہیم کی تصویر والے چابی کے چھلّے تقسیم کیے تھے۔ میں نے بھی ایک لیا تھا اور اپنی گاڑی کی چابی اس میں ڈال لی تھی۔ کچھ دن پہلے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک سفر سے لوٹ رہا تھا۔ راستے میں ہم ایک ریسٹورنٹ پر رُکے۔ جب گاڑی میں سوار ہونے لگے تو مجھے یہ دیکھ کر دھچکا لگا کہ چابی تو گاڑی ہی میں رہ گئی ہے۔ دروازے بند تھے۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا: ’’تمہارے پاس دوسری چابی ہے؟‘‘ وہ کہنے لگی: نہیں، میرا پرس بھی گاڑی میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ مجھے کافی پریشانی ہوئی۔ لاکھ جتن کیے مگر دروازہ نہ کھلا۔ سردی زوروں پر تھی۔ ایک دفعہ تو میں نے سوچا کہ شیشہ توڑ دوں لیکن موسم کافی سرد تھا اور سفر طولانی۔ اچانک میری نظر گاڑی کے اندر چھلے پر موجود ابراہیم کی تصویر پر پڑی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ میری طرف ہی دیکھ رہا ہو۔ میں نے بھی تھوڑی دیر اس پر نگاہ جمائے رکھی۔ پھر کہا: ’’آغا ابراہیم، میں نے سنا ہے کہ جب تک تم زندہ تھے لوگوں کی مشکلات حل کرتے رہتے تھے۔ شہید تو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوتا ہے۔‘‘ پھر میں نے دعا کی: ’’خدایا، شہید ہادی کی عزت کا واسطہ، میری مشکل حل فرما۔‘‘

اسی طرح اچانک میرا ہاتھ میرے کوٹ کی جیب  میں گیا۔ میں نے گھر کی چابیوں کو گچھا نکالا اور بلاارادہ ایک چابی دروازے کی تالے میں ڈال دی۔ تھوڑی سی ہلائی تو تالہ کھل گیا۔

ہم خوشی سے نہال ہو گئے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد میری نظر آغا ابراہیم کی تصویر پر جم گئی۔ میں نے کہا: ’’بہت شکریہ، انشاء اللہ میں اس احسان کی بدلہ اتاروں گا۔‘‘ ابھی ہم نے حرکت نہیں کی تھی کہ میری بیوی نے پوچھا: ’’گاڑی کا دروازہ کس چابی سے کھلا ہے؟‘‘ میں نے حیران ہو کر کہا: ’’ہاں، تم سچ کہہ رہی ہو۔ کون سی چابی تھی بھلا؟‘‘

میں گاڑی سے اتر گیا اور ایک ایک کر کے ساری چابیان لگا کر دیکھ لیں، لیکن دروازہ کسی چابی سے کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں نے وہیں کھڑے کھڑے ایک گہرا سانس لیا اور کہا: ’’آغا ابرام، تمہارا بہت بہت شکریہ۔ تم شہادت کے بعد بھی لوگوں کی مشکلات حل کر رہے ہو۔‘‘

کُردستان
[مہدی فریدوند]

1979؁ کی گرمیوں کا موسم تھا۔ہم نماز ظہرین کے بعد مسجد سلمان کے سامنے کھڑے تھے۔ میں ابراہیم سے باتیں کر رہا تھا کہ اچانک ہمارا ایک دوست جلدی سے آیا اور کہنے لگا: ’’امام کا پیغام سنا تم نے؟‘‘

ہم نے حیران ہو کر پوچھا: ’’نہیں، کیا کہا انہوں نے؟‘‘

اس نے بتایا: ’’امام نے حکم دیا ہے کہ کردستان کے  جوانوں اور مجاہدوں کو محاصرے سے نجات دلاؤ۔‘‘

فوراً محمد شاہرودی بھی آ گیا اور کہنے لگا: ’’میں، قاسم تشکری اور ناصر کرمانی کردستان جا رہے ہیں۔‘‘

ابراہیم نے کہا: ’’ہم بھی ہیں۔‘‘

اس کے بعد ہم چلے گئے تا کہ جانے کی تیاری کر سکیں۔

سہ پہر کے چار بجے تھے۔ ہم گیارہ لوگ ایک بلیزر گاڑی میں بیٹھ کر کردستان کی طرف چل دیے۔ ایک MG3 کلاشنکوف،  چار بندوقیں اور چند عدد دستی بم ہمارا کل اثاثہ تھے۔

اکثر راستے بند تھے۔ کئی جگہوں پر ہمیں کچے راستوں سے ہو کر گزرنا پڑا۔لیکن خدا کی مدد سے اگلے دن ظہر کے وقت ہم سنندج پہنچ گئے اور ہر طرف سے بے خبر شہر میں داخل ہو گئے۔ ایک اخبار فروش کے کھوکھے کے سامنے جا کر ہم رُک گئے۔

ابراہیم چھاؤنی کا پتا پوچھنے کے لیے اتر پڑا ۔ کھوکھے پر پہنچتے ہی اچانک وہ چلانے لگا: ’’بے دین انسان، یہ کیا بیچ رہے ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ کھوکھے کے کنارے کچھ قطاروں میں شراب کی بوتلیں پڑی ہوئی تھیں۔ ابراہیم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسلحہ اٹھایا اور بوتلوں پر گولیاں برسانے لگا۔ بوتلیں ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔اس کے بعد اس نے باقی بچ رہنے والی بوتلوں کو بھی توڑ دیا اور غصے میں بھرا ہوا کھوکھے والے جوان کے پاس گیا۔ وہ بہت زیادہ ڈر گیا تھا اور ڈر کے مارے کھوکھے کے ایک کونے میں جا چھپا تھا۔

ابراہیم نے اس کی طرف دیکھتےہوئے نرمی سے کہا: ’’میرے دوست، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ یہ کیا نجاستیں بیچ رہے ہو۔ کیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا کہ یہ سب نجاستیں شیطان کی طرف سے ہیں۔ ان سے دور رہو۔[8]‘‘

جوان نے تائید کے انداز میں اپنا سر ہلایا۔ وہ مسلسل کہے جا رہا تھا: ’’مجھ سےغلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دیں۔‘‘

ابراہیم نے تھوڑی دیر اس سے باتیں کیں۔ پھر ہم اکٹھے باہر آ گئے۔

اس جوان نے ہمیں چھاؤنی کا پتا بتایا اور ہم چل  پڑے۔ ایم جی تھری کی گولیوں کی آواز نے شہر کی خاموشی کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔  سڑک پر سبھی ہمیں دیکھے جا رہے تھے۔ ہم بھی کسی کی پرواہ کیے بغیر شہر میں گھوم رہے تھے۔ بالآخر ہم سنندج چھاؤنی میں پہنچ گئے۔

چھاؤنی کی تمام دیواروں پر مٹی سے بھری بوریاں چن دی گئی تھیں۔ وہ جگہ ایک فوجی قلعے کا منظر پیش کر رہی تھی۔ عمارت کی تو کوئی چیز نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔

ہم نے بہتیرا دروازہ کھٹکھٹایا مگر بے سود۔ کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ اندر ہی سے کہے جا رہے تھے: ’’شہر انقلاب مخالف لوگوں کے قبضے میں ہے۔ تم بھی یہاں مت ٹھہرو۔ ایئر پورٹ کی طرف چلے جاؤ۔‘‘ ہم نے کہا: ’’ہم تمہاری مدد کے لیے آئے ہیں۔ اچھا، کم سے کم یہ تو بتا دو کہ ایئر پورٹ کہاں ہے؟‘‘

ایک فوجی دیوار کی منڈیر پر سے جھانک کر کہنے لگا: ’’یہاں صورتحال بہت خراب ہے۔ ممکن ہے تمہاری گاڑی کو بھی تباہ کر دیں۔ جلدی جلدی اس طرف کے راستے سے شہر سے نکلو، تھوڑا آگے جا کر ایئرپورٹ پہنچ جاؤ گے۔ وہاں انقلابی فوج ٹھہری ہوئی ہے۔‘‘

ہم ایئر پورٹ کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر ہمیں سنندج کی صحیح صورتحال کا اندازہ ہوا۔ چھاؤنی اور ایئرپورٹ کے علاوہ سارا شہر انقلاب مخالف گروہوں کے قبضے میں تھا۔

فوج کی تین بٹالینز کے جوان وہاں تھے۔ سپاہ[9] کی ایک بٹالین بھی ایئر پورٹ ہی پر ٹھہری ہوئی تھی۔ شہر کے اندر سے ایئرپورٹ کی طرف گولہ باری ہوتی رہتی تھی۔

محمد بروجردی کو پہلی بار ہم نے وہیں دیکھا تھا: داڑھی اور سنہری بالوں والا جوان، خوبصورت اور مسکراتا ہوا چہرہ۔

برادر بروجردی ان حالات میں بھی بہت ہی اچھے انداز میں اپنے ماتحتوں سے کام لے رہا تھا۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ملک کی مغربی سپاہ کا کمانڈر ہے۔

ایک دن بعد ہم نے برادر بروجردی سے ایک میٹنگ رکھی۔ فوج کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا: ’’امام خمینیؒ کے فرمان کی وجہ سے کافی زیادہ فوج آ رہی ہے اور وہ ابھی راستے میں ہے۔ انقلاب مخالف بھی ڈرے ہوئے ہیں۔ شہر کے اندر ان کے دو اہم ٹھکانے ہیں۔ ان دونوں ٹھکانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی ہمارے پاس ہونا چاہیے۔‘‘

مختلف تجاویز و آراء پیش کی گئیں۔ ابراہیم نے کہا: ’’جیسا کہ شہر کے حالات سے نظر آ رہا ہے کہ عام شہریوں کو انقلاب مخالف گروہ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ان کے ایک ٹھکانے پر ہم حملہ کر دیتے ہیں اور جب کامیاب ہو جائیں گے تو پھر دوسرے ٹھکانے کی خبر لیں گے۔‘‘

سب نے اس تجویز سے اتفاق کر لیا۔ طے پایا کہ جوانوں کو حملے کے لیے تیار کریں، لیکن اسی روز سپاہ کے جوانوں کو پاوہ کے علاقے میں بھیج دیا گیا۔ اب کمانڈ کے پاس فقط فوجی جوان ہی رہ گئے تھے۔

ابراہیم اور دوسرے دوست ایک ایک کر کے فوجیوں کے مورچوں میں جاتے، ان سے باتیں کرتے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے۔اس کے بعد انہوں نے کہیں سے تربوزوں کی ایک گاڑی کا بندوبست کر لیا اور سارے تربوز فوجیوں میں تقسیم کر دیے۔ اس طریقے سے اپنے جونیئر فوجیوں کےساتھ ان کی دوستی مضبوط ہو گئی۔ انہوں نے مختلف پروگراموں کے ذریعے سے فوجیوں کا مورال کافی بلند کر دیا۔

ایک روز صبح کے وقت فوجی جوانوں میں آغا خلخالی کا اضافہ ہو گیا۔ دوسرے مختلف شہروں سے جنگجو جوانوں کی کافی تعداد بھی سنندج ایئرپورٹ پر پہنچ گئی۔ ضروری تیاری کے بعد جوانوں میں مختلف مہمیں اور ان کی ذمہ داریاں تقسیم کر دی گئیں۔ ظہر سے پہلے تک ہم نے انقلاب مخالف لوگوں کے ایک ٹھکانے پر حملہ کر دیا۔ ہماری توقع سے کہیں بڑھ کر جلد ہی اس جگہ کا محاصرہ کر لیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے انقلاب مخالف گروہ کے بہت سے افراد گرفتار کر لیے۔

اس ٹھکانے سے بہت زیادہ تعداد میں حملوں کی تفصیل، کافی مقدار میں ڈالرز، جعلی پاسپورٹس اور شناختی کارڈز بھی برآمد ہوئے۔  ابراہیم نے ان سب چیزوں کو ایک بوری میں ڈالا اور سپاہ کے سربراہ کے حوالے کر دیا۔

انقلاب مخالف گروہ کا دوسرا ٹھکانہ بھی بغیر ہاتھ پاؤں چلائے ہمارے قبضے میں آ گیا۔ شہر پر دوبارہ انقلابی جوانوں کا قبضہ ہو گیا۔ وہاں کے فوجیوں کا کمانڈر کہا کرتا تھا: ’’اگر چند سال اور بھی ہم صبر کرتے تب بھی میرے فوجی جوانوں میں ایسا حملہ کرنے کی جرأت پیدا نہ ہوتی۔ اس سلسلے میں ہم برادر ہادی اور دوسرے جنگجو دوستوں کے مرہونِ احسان ہیں۔ انہوں نے فوجی جوانوں سے دوستی کر کے ان کے مورال کو بہت زیادہ بلند کر دیا تھا۔‘‘

اس عرصے میں کمانڈرز نے ابراہیم اور دوسرے جوانوں کو بہت سے فوجی فنون اور جنگ کے طور طریقے سکھائے، جنہوں نے ان جوانوں کو بہادر اور نڈر فوجیوں میں تبدیل کر دیا۔ اس کا نتیجہ دفاع مقدس میں کھل کر سامنے آیا۔

اگرچہ کردستان کے دوسرے شہروں میں چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں مگر سنندج کے حالات زیادہ لمبے عرصے تک خراب نہ رہے اور جلد ہی اپنے معمول پر آ گئے۔

ستمبر 1979؁ میں ہم تہران واپس آ گئے۔ قاسم اور کچھ دوسرے جوان کردستان ہی میں رہ گئے اور شہید چمران کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔

تہران واپس آنے کے بعد ابراہیم محکمہ کھیل اور ورزش کے شعبۂ تفتیش سے محکمہ تعلیم و تربیت میں چلا گیا مگر اس کی درخواست قبول نہ ہوئی، البتہ کافی تگ و دو کے بعد بالآخر قبول کر لی گئی۔ اس نے ایک ایسے کمپلیکس میں اپنی ذمہ داری سنبھال لی جہاں اس جیسے لوگوں کی شدید ضرورت تھی اور اب بھی ہے۔

آئیڈیل استاد
[عباس ہادی]

ابراہیم کہا کرتا تھا: ’’اگر یہ طے ہے کہ انقلاب کو زندہ رہنا ہے اور آئندہ نسل کو انقلابی ہونا ہے تو پھر ضروری ہے کہ ہم سکولوں میں اپنی فعالیت انجام دیں کیونکہ مستقبل میں مملکت ان لوگوں کے حوالے ہو گی جنہوں نے طاغوت کے زمانے کے حالات کو محسوس نہ کیا ہو گا۔‘‘

جب وہ دیکھتا کہ ایسے اشخاص سکولوں میں استاد کے طور پر موجود ہیں جو اصلاً انقلابی نہیں ہیں تو اسے بہت دکھ ہوتا۔ وہ کہتاتھا: ’’ہمارے سکولوں اور بالخصوص ہائی سکولوں میں بہترین اور خالص ترین انقلابی جوانوں کو موجود ہونا چاہیے۔‘‘ اسی وجہ سے وہ تھوڑی سردردی والے کام کو   چھوڑ  کر ٹھیک ٹھاک الجھائے رکھنے اور کم تنخواہ والے کام میں چلا گیا۔

مادیات تنہا ایسی چیز تھی جس کی ابراہیم کو کبھی فکر نہ ہوتی تھی۔ وہ کہا کرتا تھا: ’’روزی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ پیسوں میں برکت کا ہونا زیادہ اہم ہے۔ جو کام بھی خدا کے لیے ہو گا اس میں حتماً برکت بھی ہو گی۔‘‘

بہر حال اس نے دو سکولوں میں پڑھانا شروع کر دیا۔ ابوریحان ہائی سکول (منطقہ 14) میں کھیل کے استاد جبکہ تہران منطقہ 15 میں معذور بچوں کے ایک سکول میں عربی کی تدریس کے فرائض انجام دینے لگا۔

عربی کی تدریس اس نے زیادہ عرصے تک نہ کی۔ اسی سال کے کچھ ماہ گزرے تو اس کے بعد وہ پھر کبھی معذور بچوں کے سکول میں نہ گیا اور نہ ہی اس نے نہ جانے کی وجہ کبھی بتائی۔

ایک دن اسی سکول کے پرنسپل میرے پاس آ کر کہنے لگے: ’’آپ ہادی کے بھائی ہیں۔ آپ کو خدا کا واسطہ ان سے کہیں کہ وہ سکول میں واپس آ جائیں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’مگر ہوا کیا ہے؟‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولے: ’’دراصل ابراہیم اپنے ایک شاگرد کو اپنی جیب سے پیسے دیتا تھا تا کہ ہر روز پہلے پیریڈ میں پوری جماعت کے لیے روٹی اور پنیر خرید کر لے آئے۔ ہادی کا خیال تھا کہ یہ بچے پسماندہ علاقے سے ہیں، جن میں اکثر کلاس کے دوران بھوکے ہوتے ہیں۔ بھوکا بچہ کبھی بھی درس کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھ سکتا۔‘‘

پرنسپل نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’میں نے ہادی سے اس بابت سختی سے بات کی اور کہا کہ تم نے ہمارے مدرسے کا نظم و ضبط بگاڑ کر رکھ دیا، حالانکہ اس  کے اس اقدام سے ہمارے مدرسے کے نظم و ضبط میں کوئی خلل واقع نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس پر چلاتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ تمہیں یہاں اس کام کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہادی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور اس وقت اس نے کسی اور سکول میں اپنی جماعتوں کا انتظام کر لیا۔ اب تمام طلاب اور ان کے والدین میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ ابراہیم ہادی کو واپس لے کر آؤں۔ سبھی اس کے اخلاق اور تدریس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اس نے اس تھوڑے سے عرصے میں بہت سے بے سروسامان اور یتیم طلبہ کے لیے وسائل مہیا کیے کہ جن کی مجھے بھی خبر نہیں تھی۔‘‘

میں نے ابراہیم سے اس بارے میں بات کی اور پرنسپل کی باتیں اسے بتائیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس نے اس وقت دوسرے سکول میں پڑھانا شروع کر دیا تھا۔

ابراہیم ابوریحان ہائی سکول میں فقط کھیل کا استاد ہی نہیں بلکہ بچوں کے اخلاق و کردار کا بھی استاد تھا۔

طلاب نے بھی اپنے استادکی پہلوانی اور چیمپئن شپ کے قصے سن رکھے تھے، وہ بھی اس پر شیفتہ تھے۔

اس زمانے میں جب اکثر انقلابی جوان اپنے ظاہری حلیے پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے، ابراہیم کوٹ پینٹ میں بن ٹھن کر سکول میں آیا کرتا تھا۔

خوبصورت اور نورانی چہرے، جاذب گفتگو اور اچھے رویے نے ایک مکمل استاد بنا دیا تھا۔

جماعت کے دوران سرگرمی میں وہ کافی مہارت رکھتا تھا۔ موقع پر ہنستا اور مناسب موقع پر طلاب کو اپنی طرف جذب کرتا اور تفریح کے وقت سکول کے صحن میں آ جاتا۔

اکثر طلاب ہادی کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے۔ وہ سب سے پہلے سکول میں حاضر ہوتا اور سب سے آخر میں نکلتا۔ اس کے آس پاس ہر وقت طلاب کا جمگھٹا رہتا۔

اس زمانے میں جب سیاسی حالات میں کافی ہلچل مچی ہوئی تھی، ابراہیم نے انقلاب کی خدمت کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کیا تھا۔

مجھےا چھی طرح یاد ہے کہ کچھ طلاب مختلف سیاسی جماعتوں سےمتاثر ہو گئے تھے۔ ابراہیم نے ایک رات ان سب کو مسجد میں بلایا۔ انقلابی مسائل کی اچھی سمجھ بوجھ رکھنے والے کچھ انقلابی دوستوں کو مدعو کیا اور سوال و جواب کی ایک نشست رکھی۔ اس رات ان طلاب کے تمام سوالوں کے جواب دیے گئے۔ جب اس رات نشست ختم ہوئی تو اڑھائی بچ چکے تھے۔

80-1979؁ کے تعلیمی سال میں ہادی بہترین سیکرٹری کے ایوارڈ کے لیے منتخب ہوا، اگرچہ یہ اس کی تدریس کا پہلا اور آخری سال تھا۔

23 ستمبر 1980؁ میں تہران کے منطقہ 12 میں تعلیم و تربیت کے لیے ابراہیم کی ملازمت کا آرڈر جاری ہوا، لیکن جنگ کے حالات کی وجہ سے وہ جماعت میں نہ جا سکا۔

اس سال ابراہیم کی مصروفیات بہت بڑھ گئی تھیں۔ سکول میں تدریس، کمیٹی میں مشغولیت، زورآزمائی اور کشتی، مسجد اور انجمن میں نوحہ خوانی و منقبت خوانی اور بہت سے انقلابی پروگرامز میں اس کی شرکت وغیرہ کہ ان سرگرمیوں میں سے ہر ایک کو انجام دینے کے لیے کئی افراد کی ضرورت پڑتی تھی۔

کھیل سیکرٹری
[شہید رضا ہوریارؒ کی یادیں]

مئی 1980؁ کا زمانہ تھا۔ میں شہداء ہائی سکول میں کھیل سیکرٹری تھا۔ ہمارے سکول کے ساتھ ہی ابوریحان ہائی سکول تھا۔ ابراہیم بھی وہاں کھیل سیکرٹری تھا۔

میں اس سے ملنے کے لیے گیا۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔میں ابراہیم کے اخلاق اور رویے کا دلدادہ ہو گیا۔

رخصت کے وقت وہ مجھ سے کہنے لگا: ’’اکیلے اکیلے والی بال کا ایک مقابلہ ہو جائے؟!‘‘

میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں قومی والی بال ٹیم کے ساتھ کئی عالمی مقابلوں میں حصہ لے چکا تھا اور اپنے آپ کو کافی ماہر کھلاڑی سمجھتا تھا۔ اب یہ صاحب مجھ سے کھیلنا چاہ رہے تھے۔ میں نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔‘‘ البتہ میں نے اپنے دل میں کہا: ’’میں کھیلتے وقت ہاتھ ذرا ہلکا رکھوں گا تا کہ ابراہیم کی سبکی نہ ہو۔‘‘

اس نے پہلی سروس پھینکی۔ وہ اتنی مضبوط تھی کہ میں اسے سنبھال نہ سکا! پھر دوسری، تیسری، ۔۔۔ میرے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔

طلاب کے سامنے میری سبکی ہونے لگی۔

وہ عجیب طرح کی شاٹ مارتا تھا۔ اس کی سروس کو پکڑنا واقعاً بہت مشکل تھا۔ میدان کے اردگرد بچوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔

اس نے میری طرف دیکھا اور اس بار آہستہ سے شاٹ لگائی۔ میں نے پہلا پوائنٹ سکور کر لیا۔ اس کے بعد دوسرا، پھر تیسرا۔۔۔  وہ مجھے شرمندگی سے بچانا چاہتا تھا اس لیے جان بوجھ کر خراب شاٹ کھیل رہا تھا۔

میرے پوائنٹس ابراہیم کے برابر ہو گئے اور فیصلہ مزید دوپوائنٹس کے حصول پر ٹھہرا اور اس طرح میرا کچھ بھرم رہ گیا۔ میں نے گیند اس کی طرف پھینکی تاکہ وہ سروس پھینکے۔

اس نے گیند ہاتھ میں لے کر جیسے ہی سروس پھینکنا چاہی تو اذان کی آواز بلند ہوئی: اللہ اکبر۔۔۔ یہ اذان ظہر کی آواز تھی۔

اس نے گیند زمین پر رکھی اور رو بہ قبلہ ہو کر اونچی اونچی اذان کہنے لگا۔ پورے ہائی سکول میں اس کی آواز گونجنے لگی۔

کچھ طلاب وضو کرنے اور کچھ اپنے گھروں کو چلے گئے۔

وہ وہیں صحن میں نماز پڑھنے لگا اور باقی طلاب اس کے پیچھے اقتداء کرنے لگے۔ صحن میں جماعت ہوئی اور ہم سب نے اس کی اقتداء میں نماز پڑھی۔

نماز ختم ہوئی تو وہ میری طرف پلٹا اور مصافحہ کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’آغا رضا، مقابلہ اس وقت اچھا ہوتا ہے جب اس میں دوستی بھی شامل ہو۔‘‘[10]

اول وقت میں نماز
[شہید ؒ کے کچھ دوست]

اس کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور نماز تھی۔ حالات جیسے بھی ہوں، ابراہیم نماز کو ہمیشہ اول وقت ہی میں پڑھتا تھا اور وہ بھی زیادہ تر مسجد میں جماعت کے ساتھ۔ وہ دوسروں کو بھی نماز باجماعت کی دعوت دیا کرتا تھا۔

وہ امیر المومنین علیہ السلام کی اس حدیث کا واضح مصداق تھا، جس میں امامؑ فرماتے ہیں: ’’جو شخص بھی مسجد میں آمد و رفت رکھتا ہے اسے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں: ایک ایسا بھائی جو راہ خدا میں اس کا رفیق ہوتا ہے، جدید معلومات، خدا کی وہ رحمت جو اس کے انتظار میں ہوتی ہے،  ایک ایسی نصیحت جو اسے ہلاکت سے نجات دلاتی ہے، ایسی بات جو اس کی ہدایت کا سبب بنتی ہے، گناہوں کا ترک کرنا۔‘‘[11]

انقلاب سے پہلے بھی ابراہیم فجر کی نماز مسجد میں باجماعت پڑھا کرتا تھا۔ اس کی یہ عادت ہمیں شہید رجائی کی معروف جملے کی یاد دلاتی تھی: ’’نماز سے نہ کہو کہ مجھے کام ہے، بلکہ کام سے کہو کہ وقتِ نماز ہے۔‘‘

اس کی بہترین مثال اکھاڑے میں نماز جماعت کا اہتمام تھا۔ زور آزمائی اور ورزش کے دوران جیسے ہی اذان کا وقت ہوتا،  وہ اپنی ورزش کو بند کر دیتا اور نماز جماعت قائم کرتا۔

کئی بار سفر کے دوران یا محاذ پر جب بھی اذان کا وقت ہوتا ابراہیم اذان کہتا اور گاڑی روک کر سب کو نماز باجماعت کی ترغیب دلاتا۔ اس کی میٹھی آواز اور دلنشین اذان سب کو اپنے اندر جذب کر لیتی۔

وہ پیغمبر اعظمﷺ کے اس نورانی کلام کا مصداق تھا: ’’خداوند عالم نے وعدہ فرما رکھا ہے کہ مؤذن اور اس شخص کو جو وضو کرے اور مسجد میں نماز جماعت میں شرکت کرے، بغیر حساب و کتاب کے جنت میں لے جائے گا۔‘‘[12]

اسی عرصے میں ابراہیم کی، مسجد میں متواتر آنے جانے والے کافی جوانوں سے آشنائی  اورپھر دوستی ہوئی۔

جوانی کے زمانے میں اس نے اپنی لیے ایک عبا کا انتظام کر لیا تھا جسے وہ اکثر اوقات نماز میں پہنتا تھا۔

*****

1980؁ کا سال تھا۔ ایک رات بسیج[13] کا پروگرام آدھی رات تک طول پکڑ گیا۔ فجر کی اذان میں دو گھنٹے رہتے تھے کہ جوانوں کا سارا کام ختم ہو گیا۔ ابراہیم نے سب جوانوں کو اکٹھا کیا اور کردستان کے واقعات انہیں سنانے لگا۔ اس کے قصے دلچسپ بھی تھے اور مزاحیہ بھی۔ اس نے  سارے جوانوں کو اذان فجر تک بیدار رکھا۔ فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کر وہ سب اپنے گھروں کو چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد ابراہیم نے بسیج کے سربراہ سے کہا: ’’اگر یہ جوان اسی وقت چلے جاتے تو نہیں معلوم بے چارے نماز کے لیے اٹھ بھی پاتے یا نہیں۔ آپ لوگ بسیج کا کام یا تو جلدی ختم کر لیا کریں یا جوانوں کو فجر تک بیدار رکھیں تا کہ ان کی نماز قضا نہ ہو جائے۔‘‘

*****

دن کے وقت ابراہیم شوخ اور بذلہ سنج انسان دکھائی دیتا تھا اور بہت زیادہ عامیانہ گفتگو کیا کرتا تھا، لیکن راتوں میں عموماً وہ سحر سے پہلے بیدار ہو جاتا اور نماز شب ادا کرتا تھا۔ اس کی کوشش ہوتی کہ اس کی یہ عبادت مخفی ہی رہے۔ جیسے جیسے اس کی شہادت کے ایام نزدیک آتے جا رہے تھے اس کی سحر خیزی بھی لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ گویا وہ جانتا تھا کہ احادیث میں شیعہ ہونے کی علامت سحری خیزی اور نماز شب کو قرار دیا گیا ہے۔

وہ دعائے کمیل، دعائے ندبہ اور دعائے توسل پوری پابندی اور باقاعدگی سے پڑھا کرتا تھا۔ ہر روز فجر کے بعد دعا و مناجات اور زیارات میں مشغول رہتا۔ روزانہ یا تو زیارت عاشورا مکمل پڑھتا یا اس کا فقط آخری سلام پڑھتا، مگر پڑھتا ضرور تھا۔

وہ ہمیشہ آیہ ’’و جعلنا۔۔۔‘‘ کا زمزمہ کرتا رہتا۔ ایک بار میں نے اس سے پوچھا: ’’ابرام بھائی،یہ آیت تو دشمن کے مقابلے میں حفاظت کے لیے ہے۔ یہاں تو ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے!‘‘

اس نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: ’’کیا شیطان سے بڑا بھی کوئی دشمن ہے؟!‘‘

*****

ایک بار نماز کی اہمیت اور نوجوانوں کے موضوع پر بحث ہو رہی تھی۔ ابراہیم نے کہا: ’’جس وقت میرے والد کا انتقال ہوا تھا تو میں کافی اداس اور پریشان تھا۔ پہلی رات کو جب سب مہمان چلے گئے تو میں نے  خدا سے خفا ہوتے ہوئے نماز ہی نہیں پڑھی اور سو گیا۔ جیسے ہی آنکھ لگی تو خواب میں اپنے والد صاحب کو دیکھا۔ انہوں نے گھر کا دروازہ کھولا اور غصے سے سیدھے میرے کمرے کی طرف لپکے۔ میرے سامنے کھڑے ہو کر کئی لمحوں تک میرے چہرے پر نظریں گاڑ کر مجھے دیکھتے رہے۔  اسی وقت میں نیند سے اچھل پڑا۔ والد صاحب نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بہت کچھ کہہ دیا تھا۔نماز ابھی قضا نہیں ہوئی تھی۔ میں اٹھا اور وضو کر کے نماز پڑھنے لگا۔‘‘

*****

دوسرے وہ امور جنہیں وہ بہت زیادہ اہمیت دیتا تھا، ان میں ایک نماز جمعہ بھی تھی، اگرچہ جب نماز جمعہ کا باقاعدہ انعقاد ہونے لگا تو ابراہیم یا تو کردستان میں مصروف ہوتا تھا یا محاذوں پر رہتا تھا۔

وہ جب بھی تہران میں ہوتا تو نماز جمعہ میں حتماً شرکت کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’’تم لوگ نہیں جانتے کہ نماز جمعہ کا کتنا ثواب اور کتنی برکتیں ہیں۔‘‘

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہر وہ قدم جو نماز جمعہ کی طرف اٹھے، خداوند کریم اس پر آگ حرام کر دیتا ہے۔‘‘[14]

چور کے ساتھ سلوک
[عباس ہادی]

ہم کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں مہمان آئے ہوئے تھے۔ گلی سے ایک آواز آئی تو ابراہیم نے جلدی جلدی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ ایک شخص اس کے بہنوئی کی موٹرسائیکل لے کر بھاگنے ہی والا تھا۔ وہ زور سے چلّایا: ’’پکڑو اسے۔۔۔ چور۔۔۔ چور! ‘‘ اس کے بعد خود بھی جلدی سے بھاگتا ہوا دروازے کی طرف لپکا۔ محلے کے ایک لڑکے نے موٹر سائیکل کو لات مار دی تھی جس کی وجہ سے چور موٹرسائیکل سمیت زمین پر آ رہا تھا۔ زمین پر پڑے لوہے کے ایک ٹکڑے سے چور کا ہاتھ کٹ گیا اور اس کا خون بہنے لگا۔ اس کے چہرے سے خوف اور اضطراب ٹپک رہا تھا۔  وہ درد سے کراہ رہا تھا کہ ابراہیم اس کے سر پر پہنچ گیا۔ اس نے  موٹر سائیکل اٹھائی  اور سٹارٹ کر کے کہنے لگا: ’’جلدی سے سوار ہو جاؤ۔‘‘

ابراہیم اسی موٹر سائیکل پر بٹھا کر اسے کلینک میں لے گیا اور اس کے ہاتھ پر مرہم پٹی کروائی۔ اس کے بعد وہ دونوں مسجد چلے گئے۔ نماز کے بعد ابراہیم اس کے پاس بیٹھ گیا: ’’تم چوری کیوں کرتے ہو؟ حرام کی کمائی تو۔۔۔‘‘ چور جو درد کے مارے رو رہا تھا، کہنے لگا: ’’میں یہ سب باتیں جانتا ہوں۔ مگر کیا کروں۔ بے روزگار ہوں۔ بیوی بچوں والا ہوں۔ دوسرے شہر سے آیا ہوں۔ مجبور ہو کرآج چوری کرنا پڑی۔‘‘

ابراہیم کچھ سوچنے لگا۔ پھر اٹھ کر ایک نمازی کے پاس گیا اور اس سے بات کرنے لگا۔ پھر خوشی خوشی واپس آیا اور چور سے کہنے لگا: ’’خدا کا شکر ہے۔ میں نے تمہارے لیے ایک مناسب کام پیدا کر لیا ہے۔ کل سے کام پر جاؤ۔ یہ پیسے بھی رکھ لو اور خدا سے بھی مدد طلب کرو۔ ہمیشہ حلال کی تلاش میں رہو۔ حرام مال، زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیتا ہے۔ حلال کی روزی کم بھی ہو تو برکت والی ہوتی ہے۔‘‘


[1] ایک انقلابی عالم دین جو منافقین کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔

[2] ساواک ’’سازمان اطلاعات و امنیت کشور‘‘ (قومی ادارہ جاسوسی و امن و امان)  کا مخفف ہے۔ ایرانی شاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے حکم سے بنایا جانے والا خونخوار انٹیلی جنس ادارہ جس کا کام بظاہر ایران کے داخلی امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے جاسوسی کافریضہ انجام دینا تھا مگر شاہ اسے اپنے مخالفین کو جکڑنے کے لیے ہی استعمال کرتا تھا۔ خصوصاً اس ادارے نے امام خمینیؒ کی رہبری میں اٹھنے والے انقلاب کی لہر کو سختی سے دبانےکے لیے بہت ہی ظالمانہ کردار نبھایا۔

[3] تہران کا مشہور قبرستان۔جب  امام خمینیؒ جلاوطنی ختم کر کے واپس آئے تو وہیں اترے اور اپنی مشہور زمانہ تقریر کی۔

[4] انقلاب اسلامی کی کامیابی کے پہلے دس دن، جنہیں ایران میں عشرہ فجر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ عشرہ یکم فروری سے 11 فروری تک ہوتا ہے۔ جس میں انقلاب  اور آزادی کا جشن منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔

[5] سورہ یوسف: 90

[6] سورہ آل عمران: 159

[7] حدیث قدسی، امام جعفر صادق علیہ السلام۔

[8] سورہ مائدہ کی آیت 90 کی طرف اشارہ ہے۔

[9] مراد سپاہ پاسداران ہے۔ جو ایران کی  فوج سے ہٹ کر ایک نیم خودمختار رضاکارانہ فوجی ادارہ ہے۔

[10] رضا ہوریار، ایک کھلاڑی کمانڈر۔ انقلاب سے پہلے وہ بہروں کی قومی والی بال ٹیم کے ساتھ عالمی مقابلوں میں بھی شریک رہے اور چیمپئن شپ جیتی۔(اگرچہ وہ خود بہرے نہیں تھے۔) رضا معرکہ کربلا 5 میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔

[11] مواعظ العددیہ: ص281۔

[12] مستدرک الوسائل: ج6، ص448

[13] بسیج، ایران عراق جنگ کے دوران امام خمینیؒ کے حکم سے تشکیل پانے والی رضاکار فوج۔

[14] نماز در آئین حدیث: ص101، حدیث 215۔